حکومت کا احساس پروگرام کا نام تبدیل کر کے دوبارہ بی آئی ایس پی رکھنے کا اعلان

مختصر وقت میں عوام کے مسائل کا حل موجودہ حکومت کی ترجیح ہے، وفاقی وزیر شازیہ مری
عوام کا جینا مشکل کرنے والی حکومت کو آئینی طریقے سے گھر بھیجا، پریس کانفرنس سے خطاب
اسلام آباد (بانگ سحر نیوز)وفاقی وزیر تخفیف غربت شازیہ مری نے کہا ہے کہ جو حکومت عوام کا درد نہ رکھتی ہو اسے حکومت کرنے کا کوئی حق نہیں،عوام کا جینا مشکل کرنے والی حکومت کو آئینی طریقے سے گھر بھیجا گیا۔ آئینی اور جمہوری طریقے سے نئی حکومت کا قیام ہوا، سابقہ حکومت کو عوام کا احساس ہی نہیں تھا،آئینی طریقے کا آپشن ہمارے پاس تھا دیگر جماعتوں نے بھی ساتھ دیا، مسائل کو اگر مکمل حل نہ کیا جاسکے تو کم سے کم راہ ہموار کی جائے، سابقہ حکومت کے پاس کوئی وژن نہیں تھا، عوام کو ریلیف فراہم کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے، بینظیر انکم سپورٹ پروگرام (بی آئی ایس پی)بے نظیر بھٹو کے نام سے منسلک رہے گا، وزیراعظم شہباز شریف نے بھی بینظیر کارڈ کو مزید مضبوط کرنے کا کہا ہے، ان کے مطابق غربت کی شرح میں سابقہ حکومت کے دور میں اضافہ ہوا اور 34 ملین گھروں کا ریکارڈ مرتب ہوا، 7 ملین سے زائد لوگوں نے فوائد اٹھائے۔اسلام آباد میں پریس کانفرس کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کل بھی شہید بی بی کے نام سے تھا اور آئندہ بھی رہیگا، اس پروگرام کے ساتھ کھلواڑ کرنے کی کوشش کی گئی۔شازیہ مری نے کہا کہ بلاول بھٹو شروع سے کہہ رہے تھے کہ حکومت کو آئینی طریقے سے گھر بھیجیں، حکومت کو آئینی طریقے سے گھر بھیجنے کا آپشن ہمارے سامنے واضح تھا، مختصر وقت میں عوام کے مسائل حل کرنے کی کوشش کرنی ہے۔مزید کہا کہ پچھلی حکومت کی پلاننگ سے ظاہر ہوتا ہے کہ ان کے پاس کوئی ویژن نہیں تھا، انہوں نے بغیر سوچے سمجھتے، بغیر کسی ویژن کے فیصلے کیے۔ان کا کہنا تھا کہ وزیرخزانہ نے بتایا کہ مہنگائی کی شرح کی وجہ سے کچھ فیصلے کرنے پڑیں گے، جو حکمران عوام کے دکھون کا مداوا نہ کرسکے انہیں حکومت کا کوئی حق نہیں،عوام کا جینا مشکل کرنے والی حکومت کو آئینی طریقے سے گھر بھیجا گیا۔وفاقی وزیر نے کہا کہ سابقہ حکمران ویژن سے محروم اور عوامی مسائل سے نابلد تھے، سمجھ سے بالاتر ہے کہ سابق حکمرانوں نے بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کا نام کیوں تبدیل کیا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں