سندھ ہائیکورٹ،وزیراعظم کے نام ای سی ایل سے نکالنے سے متعلق کیس کا فیصلہ محفوظ

حکومت نے ان سب کے نام ای سی ایل میں شامل کیے تھے اب حکومت نے ہی نام نکال دیے ہیں، عدالت عالیہ
حکومت کی پالیسی ہوگی تب ہی تو نام ای سی ایل سے خارج کیا ہے، ہم جائزہ لے کر حکم نامہ جاری کریں گے،جسٹس محمد اقبال کلہوڑو
کراچی(نمائندہ خصوصی)سندھ ہائیکورٹ نے وزیر اعظم شہباز شریف سمیت 200 سے زائد افراد کے نام ای سی ایل سے نکالنے کے خلاف درخواست پر فیصلہ محفوظ کرلیا،جسٹس محمد اقبال کلہوڑو نے درخواست پر فیصلہ محفوظ کرتے ہوئے ریماکس دیئے کہ ہم جائزہ لے کر حکم نامہ جاری کریں گے۔ جمعرات کوسندھ ہائیکورٹ میں وزیراعظم شہبازشریف سمیت وفاقی اورصوبائی حکومتوں میں شامل 2 سو سے زائد افراد کا نام ای سی ایل سے نکالنے سے متعلق سماعت ہوئی۔وکیل درخواست گزار نے درخواست میں موقف اپنایا کہ نئی وفاقی حکومت کے قیام کے بعد وزیراعظم شہبازشریف سمیت ہائی پروفائل ملزمان کا نام ای سی ایل سے خارج کردیا گیا ہے۔جسٹس محمد اقبال کلہوڑو نے کہاکہ حکومت کی پالیسی ہوگی تب ہی تو نام ای سی ایل سے خارج کیا ہے۔درخواست گزارمحمود اخترنقوی نے کہا کہ حکومت کی ایسی پالیسی ہوہی نہیں سکتی۔ جس پرعدالت نے سوال کیا کہ کس نے شہبازشریف اور دیگر کا نام ای سی ایل میں شامل کیا تھا؟درخواست گزارنے جواب دیا کہ نیب اورایف آئی اے کی سفارش پروفاقی حکومت نے نام ای سی ایل میں شامل کیے تھے۔عدالت نے ریمارکس دیے کہ حکومت نے ان سب کے نام ای سی ایل میں شامل کیے تھے اب حکومت نے ہی نام نکال دیے ہیں۔وکیل درخواست گزارنے دلائل دیے کہ جن کے نام ای سی ایل میں ڈالے گئے تھے ان پر سنگین مقدمات میں ہیں۔ قومی خزانہ لوٹ کر پیسہ ملک سے باہر لے گئے ہیں۔ شاہد خاقان عباسی، مریم نواز، مفتاح اسماعیل سمیت بیشتر کے نام عدالت کے حکم پر ای سی ایل میں شامل کیے گئے تھے۔محمود اخترنقوی نے موقف اپنایا کہ عدالت نے نام ای سی ایل میں شامل کرنے کا حکم دیا۔ عدالت کی اجازت کے بغیر کسی کا نام ای سی ایل سے نہیں نکالا جاسکتا۔جسٹس محمد اقبال کلہوڑو نے درخواست پر فیصلہ محفوظ کرتے ہوئے ریمارکس دیے کہ ہم جائزہ لے کر حکم نامہ جاری کریں گے۔درخواست گزارنے وزیراعظم شہبازشریف سمیت وفاقی اورصوبائی حکومتوں میں شامل 2 سو سے زائد افراد کا نام ای سی ایل سے نکالنے کا نوٹیفکیشن عدالت میں چیلنج کیا تھا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں