78

شدت کی گرمائش اور ہمارے گلیشئرز

شدت کی گرمائش اور ہمارے گلیشئرز
(قسط اول)
ڈاکٹر ذاکرحسین ذاکرؔ
ملک کے سیاسی اور سماجی حالات سمیت رمضان المبارک میں ہماری اپنی حالت کیا کم گرما گرم تھے کہ موسمیاتی گرمائش میں شدت کی الرٹ جاری ہو گئی ہے۔ ایسے میں ہم کہاں کھڑے ہیں؟ ٹھنڈک اور گلیشئرز کی سر زمین گلگت بلتستان میں کیا ہوگا ؟اور ہمارے پیارے گلیشئرز کا کیا ہوگا جو ٹھنڈک کی علامت، حیات کی نشانی ، پاکیزگی کا استعارا، موسمیاتی تبدیلیوں کا پیمانہ، دریاؤں کا منبع، آبشاروں کی وجہ اوربہتے چشموں کی ماں ہیں۔
پچھلے کچھ عرصے سے بین الاقوامی سطح پر آنےوالے تین سال شدید گرم رہنے کی پیش گوئیاں کی جا رہی تھی۔ کل ہی 27اپریل کو پاکستانی محکمہ موسمیات نے تمام اداروں کو خبردار کیا ہے کہ آنے والے چند دن گرمی عام ایام کی نسبت 5سے7سنٹی گریڈ زیادہ رہنے کا امکان ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ اپریل کے آخری اور مئی پہلے ہفتے میں جون کی گرمی ہوگی۔ اس وقت پہاڑوں پر نرم برف موجود ہے جودرجہ حرارت میں اچانک اضافے سے فوری طور پر پگھل سکتے ہیں اور اس سے شدید قسم کی برفانی تودے گرنے، سیلاب آنے اور گلیشئر جھیلوں کے پھٹنے کی امکانات بڑھ سکتے ہیں۔
عالمی حدت میں تیزی سے اضافہ، پگھلتے گلیشئرز، درجہ حرات میں غیر معمولی اتار چڑھاؤ، اور ان کے نتیجے میں ممکنہ سلابی صورت حال، تباہ کاریاں، بلندیوں پر ٹھوس پانی کے ذخائر میں خطرناک حد تک کمی، کم پانی والے مقامات پر فصلوں اور درختوں کے سوکھنے کی خدشات، اوردرجہ حرارت میں غیر معمولی تبدیلی سے ممکنہ بیماریاں وہ عوامل اور نتائج ہیں جن پر نہ صرف اہل ِعلم و تحقیق بلکہ حکومتی اور بین الاقوامی اداروں کو فوری طور پر سنجیدگی سے سوچنے اور منصوبہ بندی کرنے کی ضرورت ہے وگرنہ بہت دیر ہو چکا ہوگا۔
عالمی حدت یا گلوبل وارمنگ کا عمومی اثر دھائیوں میں اوسط درجہ حرارت کی تبدیلی ایک ڈگری سے کم اضافے میں ماپا جاتا ہے۔ لیکن یہ کیا ماجرا ہے کہ چند دنوں میں اچانک سے کئی ڈگری سنٹی گریڈ بڑھنے کی پیش گوئیاں کی جا رہی ہیں۔ میری ذاتی رائے میں اس قدر اچانک اضافہ ممکن نہیں کیونکہ فطرت کے عوامل میں قدرتی توازن کی ایک غیر معمولی صلاحیت ہوتی ہے۔ تاہم اگر ماہرین یہ کہتے ہیں تو اس کا مطلب کچھ نہایت سنجیدہ مسئلہ توہے۔ اس کی وجوہات ،ایک طرف سورج کی غیر معمولی شعلہ فشانی (Solar Flare)ہے، تو دوسری طرف انسانی عوامل اس طرح کی غیر معموملی تبدیلیوں کی اہم وجوہات ہیں۔
میری ذاتی رائے میں بر اعظم ایشا میں اس وقت جاری روس اور یوکرائن کی جنگ جس میں ہزاروں ٹن بارود استعمال ہو رہے ہیں، بستیاں جل رہی ہیں، انسانی المیے ان کے علاوہ ہیں، اس طرح کی اچانک اور غیر معمولی موسمیاتی تبدیلیوں کی وجوہات ہو سکتی ہیں۔ لیکن المیہ یہ ہے کہ ہمارے ہاں ایسے پاگل اور جنونی لوگ بھی موجود ہیں جو کسی نہ کسی طورجنگ کی جواز ڈھونڈتے ہیں۔ ایسے جنگ پسندوں نے پہلے بھی ہماری دھرتی زمین کو بہت دکھ پہنچایا ہے اور آج بھی اسے زخمی کر رہا ہے۔ جنگ جنگ ہے، خواہ اِدھر سے اُس طرف حملہ ہو یا اُس طرف سے اِس جانب گولے آئے۔ بقول ساحر ؔصدیقی:
ٹینک آگے بڑھے کہ پیچھے ہٹے
سینہ دھرتی کا بانجھ ہوتا ہے،
گولی کہیں سے بھی چلے کسی انسان کا سینہ چھلنی ہوتا ہے جس کے نتیجے میں بچے یتم ہوتے ہیں، کسی کا سہاگ اجڑتا ہے، کسی ماں باپ کی نورِ نظر چھن جاتی ہے۔ جانیں جوانوں کی چلی جاتی ہیں، آفت زدہ عوام ہوتے ہیں ، تکلیف میں بزرگ ، بچے اور خواتین ہوتے ہیں۔فتح یا شکست حکمرانوں کی ہوتی ہے، کاروباری اداروں کی ہوتی ہے، بالخصوص اسلحہ ساز اداروں کی فتح ہوتی ہے، جو چند دنوں میں اپنا سارا بارود بیچ کر امیر ترین ہوجاتے ہیں۔ لیکن کیا کیا جائے، اس طرح کی باتیں کرتے ہوئے اور اپنے دل کا بوجھ ہلکا کرنے کی کوشش کرتے ہوئے بھی خوف آتا ہے، کیونکہ ہمارے ارد گرد ہر دوسرے تیسرے انسان کے اندر ایک مذہبی جنون، ایک سیاسی اندھا اور انتہا پسند، ایک جنگ پسند دانشور اور بقول غلام حسن حسنیؔ مرحوم کے لذتِ آزار سے بھر پور لوگ موجود ہیں۔ علم و شعور، کتاب و قلم اور تہذیب و تمدن کی بجائے اسلحوں کی مختلف برانڈزکو قومی وقار اور انسانی محافظ سمجھنے والوں کی کمی نہیں۔
اس اچانک سے ہونے والی موسمیاتی تبدیلی کی گلیشئرز پر اثرات اور ممکنہ تباہ کاریوں سے بچنے اور انہیں کم کرنے کی اقدامات پر انشأ اللہ اگلی قسطوں میں بات ہوگی، آج صرف معاملے کی حساسیت کا احساس دلانے اور شعور بیدار کرنے پر اکتفا کروں گا۔
کئی سال قبل بزمِ سائنسی ادب کراچی میں عالمی حدت کے عنوان پر ایک سائنسی نظم پڑھا تھا، لگتا ہے یہ نظم محکمہ موسمیات کے آج کی الرٹ اور ملکی صورت حال کے تناظر میں لکھا ہو۔ نظم پیش خدمت ہے:
**عالمی حِدت**
مزاج گرم، فضا گرم، ہر جگہ گرمی
بلا کی حِدّتِ عالم ہے، اپنا کیا ہوگا؟
دھواں ہے منہ سے کہ جیسے جگر سلگتے ہوں،
ذبان پہ شعلے ہیں جیسے کہ دل دھکتا ہو،
ٹھر جا! سوچ پہ سوچا نہیں ابھی شاید
دماغ اپنا تو آتش فشان لگتا ہے،
کہاں سے لاتے ہو، شعلوں کا آتشین موسم؟
کہاں سے گرمئی گفتار مانگ لاتے ہو؟
نظر کے شعلے کم از کم ذرا بجھا دو نا!
دلوں کو دید کی ٹھنڈک سے تھوڑا شاد کرو،
پتہ ہے انکھوں کی ٹھنڈک تو پیار کی حد ہے،
لب و نظر میں تو چنگاریاں نہ سلگاؤ۔
ہمیں پتہ ہے کہ سورج اگلتا ہے شعلے،
زمین پہ آتے ہیں شعلے بھی روشنی بن کر،
یہ پیار کی ہے ادا یا کہ نظمِ عالم ہے،
کہ ضو فشان تو ہے، شعلہ فشان نہیں سورج،
زمین!پیاری زمین! میری ماں جائی زمین!
تمھاری گود ہرا رکھنے آفتاب کی ضو،
اترتی ہیں کبھی کرنیں، کبی ضیا بن کر،
جو ساتھ لاتی ہے حدت بھی اور قوت بھی،
نمو جو دیتی ہے سبزے کو اسکی جان بن کر،
اسی سے ہی تو غذائے حیات بنتی ہے۔
شجر زمین کی رونق تو حسن سبزہ ہے،
دھواں جو پی کے بھی باد نسیم دیتی ہے،
یہ ہم ہیں، شوق ہے جن کو دھواں دھواں کرنا،
ستم اوپر سے،دھواں گیر کاٹ دیتے ہیں۔
جلائے پھول، کہ انجن کا فیول، جو بھی ہو،
ہمارے گرد دھوئیں کا غلاف بنتا ہے۔
تمازتوں سے مرقع شعاعِ شمسی کو ،
جو جذب کرتی ہے اخراج روک دیتی ہے،
اور جس سے حدتِ عالم ظہور ہوتا ہے۔
نہ خود جلو نہ جلاؤ، دھوئیں کا کھیل نہ کر!
کہیں یہ بڑھ کے دخان مبین نہ ہو جائے،
جبینِ جنتِ ارضی پہ داغ پڑ جائے،
دھوئیں کی قید میں ہم سب اسیر ہو جائیں،
نہ خود جلو، نہ جلا ؤ، دھوئیں کا کھیل نہ کر ،
جو ہو سکے توحرارت کو تھوڑا قابو کر،
جو ہو سکے تو کسی دھوپ کے مسافر کو ،
شجر سے، پیار سے تھوڑا سا ٹھنڈی چھاؤں دو،
بجھا سکو نہ جو شعلے بھڑک رہے ہیں،اگر
رکھوجلے ہو ئے زخموں پہ پیار کا مرہم،
نہ جانے چھاؤں ہے، مرہم ہے،یا سکون کی صدا،
تمھاری باتوں میں ذاکرؔ، ہے پیار کی خوشبو ،
نہ خود جلو،نہ جلاؤ، دھوئیں کا کھیل نہ کر،
چلے چلو کسی انگن میں ایک پھول اُگاؤ!

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں