گورنر کی تعیناتی کے لئے اختیار دیا گیا تو باہم مشاورت کریں گے، حفیظ الرحمن

گورنر کی تعیناتی میں جماعتی وابستگی،پارٹی نظریہ، قیادت کے بیانیے پر خدمات اور اہلیت بنیادی شرائط ہونگے
ہماری جماعت سیاسی اقدار پر یقین رکھتی ہے، ملکی مفاد کی خاطر آئین شکن عمران خان سے ملک کو بچالیا، سابق وزیر اعلیٰ
گلگت(پ۔ر)سابق وزیراعلی و صوبائی صدر پاکستان مسلم لیگ (ن) گلگت بلتستان حافظ حفیظ الرحمن نے میڈیا کو جاری ایک بیان میں کہاہے کہ ہماری جماعت سیاسی اقدار پر سیاست کرتی ہے۔ملک و قوم کے وسیع تر مفاد میں آئین و اقدار شکن عمران خان سے ملک کی سا لمیت کو بچا لیا گیا ہے اور پی۔ڈی۔ایم کی مخلوط حکومت نے ملک کو آئین و پارلیمان کی پٹری پر ڈھالا ہے۔قومی یکجہتی سیاسی استحکام اور ملکی سلامتی کیلئے پی۔ڈی۔ایم یک آواز ہوکر فیصلے کررہی ہے۔سابق وزیراعلی حفیظ الرحمن نے مزید کہاکہ ملک کے سب سے بڑے سیاسی گرینڈ الائنس نے مسلم لیگ (ن) پر بھرپور اعتماد کا اظہار کیا ہے اور آئین و جمہوریت کیلئے قائد محمد نواز شریف اور شہباز شریف کی جدوجہد پر وزرات عظمی کی زمہ داری شہباز شریف کے کاندھے پر رکھی ہے۔جبکہ وزیراعظم شہباز شریف کے فیصلے پی۔ڈی۔ایم کے اتفاق رائے کے عکاسی ہوتے ہیں۔انہوں نے کہاکہ چاروں صوبوں اور گلگت بلتستان کے گورنرز کی تعیناتی بھی پی۔ڈی۔ایم کے لائن آف ریکشن کا حصہ ہے لیکن تاحال اس پر فیصلہ نہیں ہوا ہے۔انہوں نے کہاکہ ہم اپنی اعلی قیادت اور ملک کے دورس مفاد میں پی۔ڈی۔ایم کے تمام فیصلوں کے پابند ہیں کیونکہ مسلم لیگ (ن) ملک کی سب سے بڑی سیاسی اور پارلیمانی جماعت ہونے کے ناطے مستحکم سیاسی روایات اور نظم و ضبط میں کلیدی حیثیت رکھتی ہے۔انہوں نے کہاکہ گورنر کی تعیناتی کیلئے پی۔ڈی۔ایم نے اگر مسلم لیگ (ن) کو اختیار دیا تو پھر مسلم لیگ (ن) گلگت بلتستان باہمی مشاورت سے سفارشات وفاقی حکومت کو دے گی۔انہوں نے کہاکہ گورنر کی تعیناتی میں جماعتی وابستگی,جماعتی نظریہ,قیادت کے بیا نئے پر خدمات اور اہلیت بنیادی شرائط ہونگی۔انہوں نے کہاکہ زاتی خواہشات اور سوشل میڈیا پر گورنر کی دوڑ پر پابندی تو نہیں مگر مسلم لیگ (ن) سے وابستہ امیدواروں کو نظم و ضبط کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔انہوں کہاکہ کاغذی پھول تصویروں میں تو اچھے لگتے ہیں لیکن گورننس کے گلدان میں خوشبودار حقیقی پھول ہی سجیں گے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں