97

روسی وزیرخارجہ کی جوہری جنگ کے بارے میں اپنی طرف منسوب بیان کی سختی سے تردید

ایٹمی جنگ ہرگز نہیں چھڑنی چاہیے،نیٹو کی طرف سے خطرات بڑھ رہے ہیں مگر ہم اس کیساتھ حالت جنگ میں نہیں،سرگئی لاروف
ماسکو(مانیٹرنگ ڈیسک)روس کے وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے کہا ہے کہ ان کے حوالے سے جوہری جنگ کے بارے میں جو کہا گیا ہے وہ بے بنیاد ہے۔ وہ کسی صورت میں جوہری جنگ کے حامی نہیں ہیں۔انہوں نے عرب خبررساں ادارے کو دیئے گئے ایک خصوصی انٹرویو میں کہاکہ ایٹمی جنگ ہر گز نہیں چھڑنی چاہیے۔انہوں نے مزید کہا کہ میں نے رونالڈ ریگن اور میخائل گورباچوف کے جوہری جنگ سے دستبردار ہونے کے اعلان کو دوبارہ اپنانے کا مطالبہ کیا۔لاوروف نے کہا کہ سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ جوہری جنگ کو روکنے کے لیے ہمارے اقدامات کے بارے میں تذبذب کا شکار تھی۔انہوں نے مزید کہا کہ گذشتہ روس اور امریکا نے گذشتہ برس جوہری جنگ سے بچنے کی مفاہمت پر اتفاق کیا تھا۔انہوں نے وضاحت کی کہ یوکرینی صدر ولادیمیر زیلنسکی نے اپنے ملک کی غلطیوں کا اعتراف کیا اور کہا تھا کہ یوکرین نے ایٹمی ہتھیاروں کے حصول سے انکار کیا تھا مگر اب وہ دوبارہ جوہری ہتھیار حاصل کرنے پر غور کر سکتے ہیں۔لاوروف نے کہا کہ یوکرین میں فوجی آپریشن کا مقصد ڈون باس میں اپنے شہریوں کی حفاظت کرنا ہے۔ ہمارا مقصد ڈونیٹسک اور لوہانسک کی جمہوریہ کو یوکرین کے حملوں سے بچانا ہے۔انہوں نے انکشاف کیا کہ یوکرین نے 8 سال کے دوران ڈونیٹسک اور لوہانسک میں 14,000 افراد کو ہلاک کیا۔لاوروف نے اس بات پر زور دیا کہ یوکرین میں ہمارے فوجی آپریشن کے مقاصد پر بات چیت نہیں کی جا سکتی۔ یوکرین میں فوجی آپریشن اہداف پورے ہونے پر ختم ہو جائے گا۔ ہم یوکرین میں جلد ہی وہ حاصل کر لیں گے جو ہم چاہتے ہیں۔جہاں تک نیٹو کا تعلق ہے روسی وزیر خارجہ لاوروف نے کہا کہ سوویت یونین کے زوال کے ساتھ نیٹو نے حملوں کے لیے دفاع کا راستہ منتخب کیا۔انہوں نے زور دیتے ہوئے کہا کہ اگرچہ نیٹو کی طرف سے خطرات بڑھ رہے ہیں مگر ہم نیٹو کے ساتھ حالت جنگ میں نہیں ہیں مگر نیٹو کے رہ نما خود کو روس کے ساتھ حالتِ جنگ میں سمجھتے ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ ہم جانتے ہیں کہ یوکرین کو ہتھیار کون فراہم کرتا ہے؟ اور جب وہ پہنچتے ہیں تو ہم کھیپ کو نشانہ بناتے ہیں۔ یوکرین میں کسی بھی مغربی ہتھیار کی کھیپ ہماری افواج کے لیے ایک جائز ہدف ہو گی۔انہوں نے انکشاف کیا کہ ہم یوکرین میں اس بات کا جواب دینے کے لیے گئے کہ نیٹو ہمارے خلاف کیا تیاری کر رہا تھا۔ نیٹو نے یوکرین کو ایسے ہتھیار فراہم کیے جن سے روس کو خطرہ ہے۔لاوروف نے کہا کہ ہم نے پہلے بھی نیٹو اور واشنگٹن کے ساتھ معاہدے کرنے کی تجاویز پیش کی ہیں۔روسی وزیر خارجہ نے کہا کہ مغرب نے سلامتی کی ضمانتوں سے متعلق مجوزہ معاہدوں کو مسترد کر دیا اور نیٹو نے یورپی سلامتی کے معاہدے کے اختتام کو مسترد کر دیا۔انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ کوئی بھی ملک دوسرے کی قیمت پر اپنی سلامتی کو بڑھا نہیں سکتا اور کوئی یورپی تنظیم خطے میں غالب پارٹی ہونے کا دعوی نہیں کر سکتی۔انہوں نے کہا کہ نیٹو اپنے نظام کے فریم ورک سے باہر کسی بھی قسم کی حفاظتی ضمانت فراہم کرنے سے انکار کرتا ہے، کیونکہ اس کا دعوی ہے کہ یہ ایک دفاعی اتحاد ہے اور ہم سے ڈرنے کی ضرورت نہیں ہے۔انہوں نے نشاندہی کی کہ “وارسا معاہدے کی تحلیل کے بعد نیٹو نے مشرق کی طرف 5 بار توسیع کی۔ان کا کہنا تھا کہ یہ بات کہ نیٹو ایک دفاعی اتحاد ہے جھوٹ ہے۔ نیٹو مشرقی یورپ میں اپنے توسیعی منصوبوں پر عمل پیرا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں