56

گلگت بلتستان کا کپتان کون؟

گلگت بلتستان کا کپتان کون؟
تحریر:ابرار حسین استوری صحافی کالم نگار
گلگت بلتستان میں تحریک انصاف کی حکومت اور وزیر اعلیٰ خالد خورشید کے خلاف عدم اعتماد لانے والوں کے خواب چکنا چور ہو گئے. وزیر اعظم کے مشیر امور کشمیر و گلگت بلتستان قمر زمان کائرہ سے گزشتہ روز ہونے والی صحافیوں کی ملاقات جس میں بذات خود موجود تھا تو اصلیت کھل کر سامنے آگئی. یقیناً قمر زمان کائرہ نے جو کہا وہ جمہوری شخصیت کی حثیت سے درست کہا کہ گلگت بلتستان میں کوئی عدم اعتماد نہیں لارہے ہیں اور اگر عوام چاہیے تو مرضی ہے مطلب کائرہ صاحب گلگت بلتستان کے گورنر رہے ہیں انہیں وہاں کے حالات کا مکمل علم ہے اور اسی وجہ سے عدم اعتماد نہ لانے کا اعلان کردیا. ساتھ ساتھ قمر زمان کائرہ صاحب کو یہ بھی علم ہے کہ گلگت بلتستان میں پوری اپوزیشن ملا کر صرف دس نشستیں ہیں جبکہ پی ٹی آئی اور ایم ڈبلیو ایم 23 نشستیں ہیں تو اس صورت حال میں گلگت بلتستان میں کوئی بھی عمل شاید وفاق میں ہونے والے عدم اعتماد پر اثر انداز نہ ہو جائے تو اسی وجہ سے ان کی باتوں سے یہ بات یقین سے کہتا ہوں گلگت بلتستان میں عدم اعتماد نہیں ہورہا ہے.
دوسری جانب گلگت بلتستان میں ایک تاثر یہ بھی دیا جا رہا تھا وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان خالد خورشید کو ہٹایا جائےگا اس کیلئے ان کی اپنی جماعت پی ٹی آئی سے ہی دو سے تین ممبران ایک سال سے دبے پاؤں کوشاں ہیں لیکن ان دو کو نہ اسٹبلشمنٹ پسند کرتی ہے اور نہ ہی ریاستی ادرے اس کی وجہ وہ قوم پرست زہنیت کے مالک ہیں. اور گلگت بلتستان میں ایسی سوچ کو اقتدار دینا ریاست اپنے لئے خطرہ سمجھتی ہے. تاہم وفاق میں عدم اعتماد کے بعد آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کے معرکے کی باتیں چلی لیکن آزاد کشمیر میں پی ٹی آئی کے سردار تنویر الیاس نے مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی کے خواہشات پر پانی پھیر دیا اور عمران خان اور قیادت سے مشاورت کے بعد قبل ازوقت اپنے ہی کمزور وزیر اعظم سردار عبدالقیوم نیازی کو ہٹا کر خود وزیراعظم آزاد کشمیر بن گئے اور یوں وفاق میں کامیابی کے جھنڈے لہرانے والوں کو آزاد کشمیر میں وقت سے پہلے شکست ہوگئی.
وفاق، آزاد کشمیر کے بعد گلگت بلتستان پر سب کی نظریں جمی ہوئی تھی خاص طور پر مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی گلگت بلتستان کی مقامی قیادت نے عدم اعتماد کی تیاریاں شروع کردی تھی. بلخصوص پیپلزپارٹی کی قیادت امجد ایڈوکیٹ صاحب تو استوری وزیر اعلیٰ خالد خورشید کو راتوں رات گھر بھجوا چکے تھے مگر وہ کہتے ہیں نا جسے اللہ عزت دے اس سے عزت کون چیھن سکتا ہے. وزیر اعلیٰ خالد خورشید اس دوران خاموشی سے پارٹی ممبران کو متحرک اور حکومتی امور پر توجہ دینے کی تلقین کرتے رہے کیونکہ وہ بخوبی جانتے تھے دس نشستیں والے 23 نشستیں رکھنے والے کو کیسے چیلنج کرسکتے ہیں. وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان خالد خورشید کو خطرہ اپوزیشن سے نہیں تھا بلکہ اپنی جماعت کے ایک سے دو افراد جو ان کی انداونی مخالفت کرتے ارہے تھے ان سے خطرہ تھا اور یہ سمجھا جا رہا تھا عمران خان منفی خالد خورشید کریں گے اور کسی اور کو کپتان چنے گا مگر جو لوگ پی ٹی آئی کی قیادت کے پاس اسلام آباد پہنچے انہیں خالی ہاتھ لوٹنا پڑا اور جواب مل گیا. پی ٹی آئی کی اعلیٰ قیادت بلخصوص سابق وزیر اعظم عمران خان نے خالد خورشید پر مکمل اعتماد کرتے ہوئے کام جاری رکھنے اور گلگت بلتستان کی عوام کی بھرپور خدمت کرنے کا پیغام دے دیا اور ساتھ ساتھ گلگت بلتستان میں عدم اعتماد کسی بھی بلاک بنانے والوں کو پیغام دے دیا کہ خالد خورشید ہی پی ٹی آئی کی بہترین چوائس ہے جسے کسی صورت نہیں ہٹایا جائے گا.
بات یہاں ختم نہیں ہوئی وفاق میں چار سیٹوں پر حکومت اٹکی ہوئی تھی سو چلی گئی مگر گلگت بلتستان میں پوری اپوزیشن ملا کر دس نشستیں ہیں اور گلگت بلتستان میں پی ٹی آئی اور ایم ڈبلیو ایم کی 23 نشستیں ہیں،، مجلس وحدت المسلمین اس وقت عمران خان کے امریکہ مخالف سلوگن کے ساتھ کھڑی ہے اور ایم ڈبلیو ایم کی اعلیٰ قیادت سے کئی بار گفتگو ہوئی تو وہ وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان خالد خورشید سے بہت زیادہ مطمئین ہیں اور گلگت بلتستان کیلئے ان سے موزوں کسی کو نہیں سمجھتے. اب قمر زمان کائرہ صاحب بھی حقیقت کو سمجھتے ہیں کہ گلگت بلتستان میں کسی سیاسی پریشر کا مستقبل میں ان کی جماعت پیپلز پارٹی کیلئے نقصان دہ ہوسکتا ہے کیونکہ وفاق میں بھی موجودہ حکومت بیساکھیوں پر چل رہی ہے پاور کی جنگ شاید ن لیگ اور پیپلز پارٹی سمیت دیگر اتحادیوں کو یکجا رہنے سے قاصر کرے اور مولانا فضل الرحمن صاحب، بلاول بھٹو زرداری صاحب خود کہہ چکے ہیں فوری انتخابی اصلاحات کی جائیں اور الیکشن کا انعقاد کیا جائے.
مشترکہ وفاقی حکومت کا بس ایک ہی مشن ہے وہ ہے انتخابی اصلاحات جس کیلئے حکومت گرائی گئی. اب انتخابی اصلاحات میں الیکٹرانک ووٹنگ مشین اور بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کے ووٹ ہیں جس سے مسلم لیگ ن، پیپلز پارٹی اور دیگر اتحادی جماعتیں پریشان اور اختلاف رکھتی ہیں ان کے مطابق ای وی ایم مشن سے ووٹنگ ہائی جیک جبکہ بیرون ملک مقیم نوے فیصد ووٹ پی ٹی آئی کا سمجھتے ہیں جس سے مستقبل میں اپنے لئے خطرہ سمجھا جارہا ہے. اب رہی بات اقتدار کی جنگ میں موجودہ حکومت کامیاب ضرور ہوئی لیکن اکثر سمجھدار لوگ کہتے مسلم لیگ ن اور پیپلزپارٹی سمیت اتحادیوں نے عمران خان کو ایک بارپھر پاپولر بنا دیا اور اس کے اثرات آمدہ انتخابات میں نظر آئیں گے.
گلگت بلتستان کی بات کی جائے تو سابق وزیر اعلیٰ مہدی شاہ ہو یا حافظ حفیظ الرحمن ان کا اقتدار جہاں عوامی سطح پر مناسب ہی رہا ہے تو اب وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان خالد خورشید پر گلگت بلتستان کی عوام کی نظریں جمی ہوئی تھی مگر وفاق میں پی ٹی آئی حکومت گرنے کے بعد مشکلات ضرور ہیں لیکن پڑھے لکھے، نوجوان اور علاقائی معاملات کو سمجھنے والے وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان خالد خورشید محاز پر سیسہ پلائی دیوار کی طرح کھڑے ہیں. گلگت بلتستان کی بلخصوص استوری عوام کو خالد خورشید سے بہت زیادہ امیدیں وابستہ ہیں. اہم منصوبے اور ترقیاتی کام بحثیت وزیر اعلیٰ استور روڈ اور بوبند سکردو روڈ بڑی اہمیت کے حامل ہیں جس کی تکمیل میری رائے میں اہم کامیابی ہوگی.
وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان خالد خورشید صاحب اس وقت گلگت بلتستان میں عدم اعتماد لانے کی باتیں کرنے اور سوچنے والوں کو ناکامی ہوچکی ہے اب اب عوام کے درمیان جائیں موسم بہار گلگت بلتستان میں ویسے بھی کام کیلئے ہی ہوتا ہے تو اپنی کابینہ اور ممبران کو لیکر ہر ضلع کا دورہ کریں عوامی مسائل خود سنیں اور ان کو حل کریں. گلگت بلتستان میں تعلیم اور صحت کے بہت زیادہ مسائل ہیں آپ کی چھوٹی سی کاوش تبدیلی کے خواب کو مکمل کامیاب کرسکتی ہے. بیوروکریسی اور واہ واہ کرنے والوں کے بجائے عام عوام کو اپنے تک رسائی دیں بلخصوص صحافیوں کے قریب رہیں جو آپ کو علاقے میں ہونے والے ہر پہل سے آگاہ رکھیں گے تاکہ اپکو عوامی مسائل حل کرنے میں مزید آسانی ہو گی.
آخر میں ایک بات ضرور کہنا چاہوں گا گلگت بلتستان کے حقوق بلخصوص صوبہ بنانے اور اس کی تکمیل کیلئے سب سے زیادہ پریکٹیکل کام جس نے کیا وہ تحریک انصاف کی حکومت اور وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان خالد خورشید اور ان کی ٹیم نے کیا ہے. مگر بدقسمتی گلگت بلتستان عبوری صوبہ اسی سال 14 اگست تک اعلان ہونا تھا جو وفاق میں حکومت کی تبدیلی کے ساتھ ہی ردی کی فائلوں کی نظر ہوگیا. گلگت بلتستان عبوری صوبہ کا حوالے سے سب سے زیادہ نعرے اور باتیں کرنے والے اپوزیشن لیڈر گلگت بلتستان امجد ایڈوکیٹ صاحب اور ان کی ٹیم کہاں ہے اب تو وفاق میں ان کی حکومت ہے گلگت بلتستان کو کب صوبہ بنا رہے ہیں اس بات کا شدت سے انتظار رہے گا.

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں