157

تھرارا بُل (تھرارا کا چشمہ)

تھرارا بُل (تھرارا کا چشمہ)
تحریر:جاوید آحمد
بُل بروشاسکی میں چشمہ کو کہا جاتا ہے، تھرارا جگہ کا نام ہے یہ معلوم نہیں کہ تھرارا کیو ں کہا جاتا ہے اس کا مطلب کیا ہے اس بارے میں خود بھی سوچ رہا تھا کہ ایک لفظ تررا ہے جو کہ کسی جگہ پانی کے تیزی سے بہنے یا کسی مکان کی چھت برسات کے موسم میں زیادہ ٹپکے تو تررا کہا جاتا ہے، کیوں کہ اس جگہ اس دوائی والا چشمہ سے دائیں جانب ایک چشمے کا پانی جو کہ پینے قابل نہین اُترائی کی وجہ سے اس طرح بہتا تھا کہ جیسے پانی ٹپک رہا ہو، شاید یہ لفظ تررا امتداد زمانہ کے ساتھ ساتھ کثرت استعمال سے بگڑ کر تھررا بن گیا ہو لیکن بھلا ہو بلبل مراد بلبل یاسین کا کہ جس نے میری بات کی تصدیق کی کہ یہ لفظ تررا سے بگڑ کر تھررا اور پھر تھرارا بن گیا ہے۔ آج کل دوسری پانی کو زراعتی استعمال کے خاطر ایک ٹنکی بنا کر محفوظ کیا گیا ہے اور پھر جب ٹنکی بھر جاتا ہے تو پھر اس سے پودوں کو سیراب کر کے بہت سے درخت تناور ہو گئے ہیں۔ یاسین میں بہت سے جگہوں میں ایسے چشمے ہیں جو مختلف بیماریوں کے لئے بطو ر شفا کام کرتے ہیں جن میں سے بہت مشہور درکُت کا گرم چشمہ اور چھلپے کا کڑوا پانی کا چشمہ ہیں اس کے علا ویک چشمہ کڑوا پانی کا نازبر میں، ایک تھوئی گمندے میں بھی ہیں گمندے ولا چشمہ بھی درکُت کے چشمے کی طرح نہانے کا کام آتایعنی جسمانی بیماری خاص کر جلدی بیماریوں کا شفا ہے جبکہ ایک اور چشمہ جو کہ موسمی بخار کے لئے اکثیر کا کام دیتا ہے گمندے کے ان دونون چشموں سے میں نے خود استفادہ کیا ہوا ہے ۔ ان کے علاوہ جیسا کہ میں نے شروع میں اوپر تھرارا کا زکر کیا ہے۔ یہ ہویلتی (سلطان آباد) میں ایک چھوٹا سا چشمہ ہوتا تھا جس کا نام تھرارا کا چشمہ یعنی تھرارا بُل کہا جاتا تھا بُل بروشاسکی کا لفط ہے جو کہ چشمہ کو کہا جاتا ہے، یہ ولجیٹ یعنی کواپریٹیوں سو سائیٹی کے دوکانوں کے ساتھ صوبیدار مراد علی شاہ کے گھر کے اوپر ایک چھوٹے سے ٹیلے پر تھرارا شونگ یعنی تھرارا کی برساتی نالہ کے کنارے واقع ہے، یہ نہایت معمولی مقدار میں نکلتا ہے جو کہ مالٹا کے رنگ کا لوہے کا ذائقہ لئے ترش کھٹا سا پانی ہے جو موسمی بخار کے لئے اکثیر کا کام دیتا تھا، مئی، جون، جولائی،اگست اور ستمبر کے مہینے میں یہاں لوگوں کا جم غفیر رہتا تھا صبح سے شام تک یہا ں لوگ آتے تھے جو کہ ایک دوائی کے ساتھ ساتھ ایک تفریح کا بھی باعث بنتا تھا، اس چشمے کے پانی کو پینے کے لئے سندی، غوجلتی، طاوس اور ہویلتی کے لوگ مئی سے ستمبر تک جوق در جوق آتے تھے زیادہ تر عورتین اور بچے ہوتے تھے ہاتھوں میں تھرماس یا کوپی (موجودہ زمانے کا پانی کی بوتل) اور روٹی بھی ساتھ لاتے تھے سوکھی روٹی کو اس پانی کے ساتھ کھاتے تھے تاکہ زیادہ سے زیادہ اس چشمے کی پانی کو پیا جائے، لیکن اب شاید دوسرے چشموں کی طرح اس کا بھی استعمال کم ہو ا ہے کیوں کے اب لوگوں نے دیسی خوراک ہی چھوڑ دیا ہے تو کون چشمے کا پانی پیتا ہے وہ سچے زمانے تھے دیسی خوراک تھا دیسی دوائی کام دیتی تھی مگر اب نہ جانے دس نمبر ی سے بھی گیا گذرا خوراک کے عادی لوگ ہیں اس لئے بلبل یاسین کہتا ہے غشوم غشبپئی کا جولائی،چی مکی مکوتی دولُم، اموتُک تے جغہ چی عرق کا نمکول شربت یعنی شاعر کہتا ہے کہ اب دیسی خوراک کی جگہ عرق اور نمکول کا شربت استعمال کیا جاتا ہے تو ان قدرتی چشموں کی قدرو قیمت بھی ختم ہو گیا.

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں