87

صنم کدے بسائے جا

شخصیت پرستی بھی ایک عجیب روگ ہے۔ انفرادی نوعیت کی ہو یا اجتماعی، ذاتی سطح پر ہو یا قومی۔ اس کے اثرات معاشرے پر بتدریج مرتب ہوتے رہتے ہیں۔ شخصیت پرستی جب کسی کی ذات کا خاصہ بن جائے تو اس کے اثرات کا زندگی کے شب و روز پر اثرانداز ہونا بھی ایک انہونی بات بن جاتی ہے۔ محبت ہی کی مثال لیجیے ہم ایک فرد کے قد و قامت اور لب و رخسار پر ایسے فریفتہ ہوتے ہیں کہ ”عالم میں تجھ سے لاکھ سہی تو مگر کہاں“ کہنے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔
بات مذہب کی جائے تو اسی روگ کے سبب ہمارے مذہب یا مسلک کا رہنما یا پیشوا دنیا کا سب سے عالم و فاضل اور انسان کامل اور دیگر اس کی برابری میں جاہل مطلق اور بونا پاٹ نظر آتے ہیں اور ہم اس محبوب شخصیت کی تصاویر سے گھر کے در و دیوار مزین کرنا بھی باعث سعادت تصور کرتے ہیں۔ متذکرہ روگ کو پاکستانی سیاست میں شامل کیا جائے تو ”نشہ بڑھتا ہے شرابیں جو شرابوں میں ملیں“ والی صورتحال ”پیدا ہو جاتی ہے۔ ان دنوں ایک ریت چلی ہے اور اندھے کو اندھا راستہ کیا بتائے والی کیفیت ہے۔ عوام کو اپنے محبوب سیاستدانوں کو بلاوجہ قائد اور مرشد بنانے کا شوق چرایا ہے۔ کوئی معقول نظریہ، ہدف یا مقصد تو ان کی سیاست کی بنیاد یا نصب العین تو نہیں ہے مگر عام جنتا ہے کہ انہیں راہبر بنا کر ہی ہلکان محسوس کر رہی ہے۔
عقل و شعور اور فہم و فراست کو جب پس پشت ڈال کر ہمیشہ شخصیت پرستی کے نشہ میں چور اپنی دنیا میں مست رہنے کی روش اپنائی جائے تو کئی دہائیوں سے مذہب کو اپنے سیاسی مذموم عزائم کے لیے استعمال کرنے والے مولانا بھی دودھ میں دھلا نظر آتا ہے تو کبھی کئی بار آئین کو پیروں تلے روندنے والے آمر پانچ وقت کے نمازی، تہجد گزار اور ”کنفرم جنتی“ دکھائی دیتے ہیں۔ کم فہمی کا یہ عالم ہوتا ہے کہ ایک عرصے سے محض جھوٹ اور ببانگ دہل تعمیر و ترقی، کروڑوں نوکروں اور لاکھوں گھروں کے وعدہ وعید کرنے والا تخیلاتی دنیا میں رہنے والا شخص آپ کے لیے امید کی کرن بن کر ابھرتا ہے تو کبھی کئی دفعہ اقتدار کو اپنے کاروبار کو وسعت دینے کے لیے استعمال کرنے والا ایک فرد بشمول پورا خاندان آپ کے دل کی دھڑکن بن جاتا ہے۔
ستم کہ بالائے ستم یہ کہ میکاؤلی کی سیاست اصولوں پر گامزن ایک شخص آپ کو سب پر بھاری نظر آتا ہے اور اس کا اتفاقی طور پر سیاسی میدان میں قدم رکھنے والے نوجوان بیٹے کا آپ کے نور نظر بننے میں بھی دیر نہیں لگتی اور اس سیاسی جماعت کے لیے ایک عمر خرچ کرنے والے سینئر سیاستدان اپنے بچوں کے ہم عمر اس نوجوان سیاستدان کی جوتیاں سیدھی کرنا سعادت تصور کرتے ہیں۔ اب جس ملک کی 75 فیصد آبادی نے زندگی بھر درسی کتب کے علاوہ کوئی دیگر کتاب پڑھنے کی زحمت نہ کی ہو یا جس کی فہم و فراست یا شعور و آگاہی کا منبہ درسی کتاب مطالعہ پاکستان یا ہدایت ٹی وی ہو تو ایسی مخلوق کو اپنے سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کرنے میں مذہبی رہنماؤں، سیاستدانوں کو زیادہ پاپڑ بیلنے نہیں پڑتے اور نہ ہی اپنی من پسند رائے عامہ ہموار میں ذرائع ابلاغ کو زیادہ محنت کرنی پڑتی ہے۔
کیا وجہ ہے کہ جہالت سے ہمیں ایک عجیب سی انسیت ہے اور ”کافر یہ چھوٹتی نہیں منہ سے لگی ہوئی“ والی صورتحال سے دوچار ہیں۔ سوچ و بچار اور فکر و تدبر کے خاص پیمانے اور حدود و قیود از خود متعین کیے گئے ہیں ان سے روگردانی کرنے وا لے گستاخ پر شریعت اور قانون لاگو ہوتا ہے۔ اس کار خیر میں ریاست نے بھی قوانین بنا کر ایک طرف ثواب دارین حاصل کیا ہے تو دوسرے طرف ریاستی پالیسیوں کے خلاف زبان درازی کرنے والوں کے لب سینے کا بھی انتظام کیا ہے۔
اب ایک ایسے فکر و تدبر سے عاری معاشرے میں شخصیت پرستی کی شکار بیمار ذہنیت کی حامل مخلوق ہی جنم لے سکتی ہے یا پہلے سے ہی متعین کیے گئے راستوں پر گامزن اور حدود و قیود پر عمل پیرا تقلیدی نسل ہی پروان چڑھتی ہے۔ حقیقی معنوں میں جمہوری اقدار کے حوالے سے عدم استحکام، کرپشن کا شکار اور فاشسٹ ریاست کا مقتدر طبقہ کبھی یہ نہیں چاہتا کہ معاشرے میں فکری اور تنقیدی رویے پروان چڑھیں کیونکہ عوام باشعور ہونے کی صورت میں ایک وقت ایسا آتا ہے کہ
ناکام پالیسیوں اور طرز حکمرانی میں ناکامی کی صورت میں عوام کے ہاتھ مقتدر طبقے کے گریبان تک پہنچنے میں بھی دیر نہیں لگتی۔
یہ ایک اٹل حقیقت ہے کہ سماجی اور اخلاقی گراوٹ اور تنزلی اب ہمارے لیے کوئی معنی خیز بات نہیں رہی۔ محض آبادی بڑھانے پر خاص توجہ مرکوز ہے اور ایسی مخلوق بڑھانے میں سرگرداں ہیں جن کا مستقبل خود ایک سوالیہ نشان ہے۔ جس معاشرے میں یہ نسل پروان چڑھ رہی ہے اور ان کی تعلیم کے لیے جس ناقص نظام کے تحت جو تدابیر بروئے کار لائی جا رہی ہیں ان کی بدولت اس نے انسانیت کی فلاح و بہبود یا کوئی نئی ایجاد کر کے سماجی ارتقاء کے سفر میں کوئی نئی چیز شامل تو کرنی نہیں ہے بلکہ معاشرے میں جاری مذہبی اور سیاسی ڈراموں کا ایک کردار بن کر زمین کا بوجھ ہی بھاری کرنا ہے اور کوئی مستقبل میں ”۔۔۔ کے فرمان پر جان بھی قربان ہے“ کا پر جوش نعرے لگاتے ہوتے کسی حضرت کے مذہبی عزائم کا حصہ بنے گا تو کوئی ”کل بھی۔۔۔ زندہ تھا، آج بھی۔۔۔ زندہ ہے“ یا ”جب آئے گا۔۔۔۔۔، سب کی جان، بنے گا نیا پاکستان“ کہتے ہوئے کسی سیاسی جماعت کے جلسے کو رونق بخشے گا۔ یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ ہم جس طرح آبادی بڑھانے میں اپنی تمام توانائیاں صرف کر رہے ہیں اور تخلیقی اذہان پیدا کرنے والی تعلیم و تربیت کے بجائے تقلیدی تدابیر کے ذریعے جو نسل بڑھا رہے ہیں وہ تمام کوششیں مستقبل میں مذہبی اور سیاسی حضرات کے عزائم کو پورا کرنے کے لئے خام مال مہیا کرنے سوا کچھ بھی نہیں۔
آج ہماری اخلاقی گراوٹ اور زبوں حالی کا یہ عالم ہے کہ انتہا پسندی، رجعت پسندی، بغض و عناد، عدم برداشت، نا انصافی، رشوت خوری، سفارش، جھوٹ، ملاوٹ، تعصب اور اقربا پروری وغیرہ جیسی سماجی برائیاں اب ہمارے معاشرے میں برائی ہی تصور نہیں ہوتیں۔ سماجی ارتقاء کے سفر میں ہمارا ذرہ بھر کردار نہیں مگر قدیم مسلمان سائنسدانوں کی خدمات، اپنے مذہب یا مسلک کی فوقیت اور مشرقی اقدار کا راگ الاپتے ہوئے خبط عظمت کا مکمل طور پر شکار ضرور ہیں۔
مغربی معاشرے کے زوال پر خوب روشنی ڈالنا یا سیر حاصل گفتگو کرنا ہر فرد اپنا پیدائشی، اخلاقی اور شرعی حق سمجھتا ہے۔ مگر جب مغربی معاشرے کی اچھائیاں گنوائی جائیں تو جذبہ ایمانی فورا َجاگ جاتا ہے اور کافروں کے لیے دنیا کا آسائشات جبکہ مسلمانوں کے لیے آزمائشوں سے پر ہونے کا قدیم جاہلانہ حربہ استعمال کیا جاتا ہے۔ بات اس سے بھی آگے بڑھ جائے اور قضیہ کی گتھیاں سلجھانے کے گفتگو میں شامل بندہ تھوڑا پڑھا لکھا بھی ہو تو ”تمھاری تہذیب اپنے خنجر سے آپ ہی خود کشی کرے گی“ جیسے اقبال کے مصرعے اور اشعار داغ دیتا ہے۔
ہم نے عقل دشمنی سے پہلی بار کب لو لگائی تھی؟ اس کے معاشرے پر کیا اثرات مرتب ہوئے؟ کون جمہوری رویوں کی راہ میں دیوار بنا؟ آج ہم کس مقام پر کھڑے ہیں اور کیا ہمارا کیا مستقبل ہے؟ یہ تفصیل طلب قضیے ہیں مگر ایک سوال فوراً توجہ طلب ہے کہ کیا ہم آج کوئی تدبیر کر رہے ہیں کہ جس کے مستقبل میں کوئی خاطر خواہ نتائج برآمد ہوں۔؟ بد قسمتی سے اس کا جواب نفی میں ہے۔ با شعور اقوام اپنی تاریخ کو پڑھ کر خوبیوں اور خامیوں دونوں پر غور و فکر کر کے مستقبل کے لیے نئی راہیں متعین کرتی ہیں ہیں مگر جس ملک کے تعلیمی اداروں میں فرسودہ، من گھڑت اور من پسند تاریخ پڑھایا جاتا ہو یا نصاب تعلیم ہی خود ایک سوالیہ نشان ہو وہاں ہم کیسے توقع رکھ سکتے ہیں کہ باشعور قوم پیدا ہو۔
”دعاؤں سے فقط کٹتی نہیں تقدیر مولانا“ کے مصداق ہمیں اپنی تحاریر کے اختتامیہ کو ملک کے روشن مستقل کے دعائیہ کلمات سے اختتام کرنے کی بجائے تصویر کا اصل رخ دکھانے کی اشد ضرورت ہے۔ کسی بھی مرض کی تشخیص کے بعد علاج کا عمل شروع ہوتا ہے اور ایک عرصے کے بعد نتائج کا آغاز ہوتا ہے مگر یہاں صورتحال ایسی ہے کہ ہم مرض کی تشخیص میں ہی تذبذب کا شکار ہیں۔ المختصر علاج کی شروعات اور اس کے نتائج کئی نسلوں پر محیط ایک تھکا دینا والا سفر ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں