88

فوج کو سیاسی گفتگو سے دور رکھیں،غیر مصدقہ، ہتک آمیز اور اشتعال انگیز بیانات نقصان دہ ہیں،آئی ایس پی آر

راولپنڈی(نامہ نگار)پاک فوج کے ترجمان نے کہا ہے کہ مسلح افواج کو ملک کے بہترین مفاد میں سیاسی گفتگو سے دور رکھا جائے۔ پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ حالیہ دنوں میں ملک میں جاری سیاسی گفتگو میں پاکستان کی مسلح افواج اور اس کی قیادت کو ملوث کرنے کی تیز اور دانستہ طور پر کوششیں کی گئی ہیں۔آئی ایس پی آر نے کہا کہ یہ کوششیں مسلح افواج کے ساتھ ساتھ ان کی اعلی قیادت کے حوالے سے براہ راست، واضح یا بالواسطہ ظاہر ہوتی ہیں۔ترجمان پاک فوج نے کہا کہ اس طرح کی مہم میں کچھ سیاسی رہنما، چند صحافی اور تجزیہ کار بھی شامل ہیں جو عوامی فورمز، سماجی رابطوں کی ویب سائٹس سمیت مختلف مواصلاتی پلیٹ فارمز پر غیر مصدقہ، ہتک آمیز، اشتعال انگیز بیانات اور ریمارکس دیتے نظر آتے ہیں جو کہ انتہائی نقصان دہ ہیں۔بیان میں کہا گیا کہ پاکستان کی مسلح افواج اس طرح کے غیر قانونی اور غیر اخلاقی عمل پر سخت ناپسندیدگی کا اظہار کرتی ہے اور سب سے توقع رکھتی ہے کہ وہ قانون کی پاسداری کریں اور مسلح افواج کو ملک کے بہترین مفاد میں سیاسی گفتگو سے دور رکھیں۔واضح رہے کہ آئی ایس پی آر کی جانب سے یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب گزشتہ ماہ سینئر ریٹائرڈ فوجی حکام نے ان سے منسوب کی گئی ان آڈیو کلپس کو جن میں پاک فوج اور اس کی قیادت کے خلاف بیانات دیے گئے تھے ان کو ‘جعلی’ قرار اور ‘پاک فوج کے خلاف سازش’ قرار دیا تھا۔ریٹائرڈ فوجی حکام کی طرف سے یہ وضاحتیں ایک ایسے موقع پر سامنے آئی تھیں جب اس سے دو دن قبل ہی ملک کی عسکری قیادت نے سوشل میڈیا پر فوج کے خلاف جاری پروپیگنڈا مہم کا نوٹس لیا تھا اور ملک میں سیاسی بحران پر فوجی قیادت کے مقف کی توثیق کی تھی۔پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (نے 79ویں فارمیشن کمانڈرز کانفرنس کے بارے میں ایک بیان میں کہا تھا کہ فورم نے حال ہی میں ہونے والے اس اقدام کا نوٹس لیا، کچھ حلقوں کی جانب سے پاک فوج کو بدنام اور ادارے اور معاشرے کے درمیان تقسیم پیدا کرنے کے لیے پروپیگنڈا مہم چلائی۔آئی ایس پی آر کے بیان میں کہا گیا تھا کہ پاکستان کی قومی سلامتی مقدس ہے، پاک فوج ہمیشہ ریاستی اداروں کے ساتھ کسی سمجھوتے کے بغیر اس کی حفاظت کے لیے کھڑی رہی ہے اور ہمیشہ رہے گی۔ سابق وزیراعظم عمران خان کے خلاف کامیاب تحریک عدم اعتماد کے بعد فوج کو تنقید کا نشانہ بنایا گیا اور مسلح افواج اور اس کی قیادت کے خلاف ٹوئٹر جیسے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر شدید سرگرمیاں دیکھی گئیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں