293

چھترار میں جگہوں کے نام

چھترار میں جگہوں کے نام
تحریر:جاوید آحمد
چترال سے جناب پروفیسر ممتازحسین صاحب نے نہایت ہی مہربانی فرما کر کھوار رسالہ کی چند کاپیان بھیجوائی تھی تو آج ہی مجھے ملی تھیں میں نے ان میں سے ایک رسالہ کے چار ایک باپ کا مطالعہ کیا جن میں سے ایک عنوان تھا چھترارو ژاغان نم ٰ یا نام جو کہ پروفیسر ممتاز صاحب کی اپنی تحیریر ہے اور ایک بہت خوبصورت تحریر ہے۔ ان میں سے کچھ نام جو کہ بروشاسکی اورشینا سے ملتے جلتے نظر آئے تو میں نے سوچا ان پر کچھ بات چیت ہو جائے تاکہ پروفیسر صاحب کی تحقیق میں ہو سکتا ہے کہ مددگار ثابت ہوں گی
ان میں پہلا لفظ ہے ڑانگہ جس کو اگر میں بروشاسکی میں لکھوں تو لانگہ ہو گا چونکہ چترالی کھوار میں ڑ سے جو لکھا جاتا ہے وہ یاسین میں ل سے لکھا جاتا ہے جیسا کہ ڑاسپر اور لاسپر۔ چونکہ بروشاسکی میں اگر کوئی بالکل عمودی پہاڑ ہوتو اُس کو لنگ یا لانگ کہا جاتا ہے ہو سکتا ہے اس جگہ یہ کوئی ایسا پہاڑ ہو جس کو بروشو نے لنگ کہا اور بگڑ کر لنگہ اور چترالی میں ڑانگہ بن گیا ہو۔ دوسری بات یہ کہ بروشاسکی میں سخت چیز کو ڈنگ کہا جاتا ہے یہ بھی ممکن ہے کہ اس جگہ کی زمین بہت سخت ہو جس کی وجہ سے ڈنگ سے ڈنگہ اور پھر کھووار میں ڑانگہ بن گیا ہو۔ یہ کوئی ضروری نہیں لیکن یہ میری ذاتی رائے ہے۔ غلط بھی ہو سکتی ہے۔ دوسرا لفظ کورو جو کہ یاسین میں اگر زمیں کے اردگرد باڑ لگایا گیا ہو تو اس کو کرو کہا جاتا ہے اس لفظ سے بگڑ کر کورو بن گیا ہو۔ علاوہ اس کے ایک تکون لکڑی کے ٹکڑے کو جو کہ رسی کے سنٹر میں لگا کر بوجھ کو خاص کر فصل کی کٹائی کے بعد جمع کرنے کے لئے جو بوجھ (کھوار بار) بنا نے میں استعمال ہو تا ہے کو بروشاسکی میں کوورو کہا جاتا ہے جس کو یاسین کے کھووار میں چخت یا چخط کہا جاتا ہے ہو سکتا ہے وہ جگہ تکون نما ہو اور اس لئے بروشو قوم نے کوورو کہا ہو۔
ڑاسپر، ہرچین اورشائی داس کوتو پروفیسر صاحب نے خود بہترین تشریح کر کے لکھا ہے، یارخون کے بارے میں یاسین میں یہ بات مشہور ہے کہ ایک ساتھی نے دوسرے ساتھی کو قتل کیا تھا یعنی ایک یار نے دوسرے یا ر کو ماردیا تو قتل کو خون بھی کہا جاتا ہے اس لئے اس جگہ کا نام یار خون پڑ گیا وللہ عالم باالصواب
چھترار کی تشریح یو ں کی جاتی ہے کہ چھتُر یعنی کھیت رار یعنی سے تو معنی ہوا چھتُر رار یعنی کھیت سے۔ یہ کسی ایک نے کہا اور آہستہ آہستہ یہ بگڑ کرایک جگہ سے دیہہ میں اور پھر پورے علاقے کا نام چھتُررار سے بگڑ کر چھترار اور پھر فرنگیوں نے اپنی آسانی کے لئے چترال بنا دیا وللہ عالم با لصواب۔
اسی طرح چیو کو پروفیسر صاحب نے سیو بھی کہا ہے جو شین لوگ یعنی شینا(ڈنگریک وار) میں بھی پل کو سیو ہی کہا جاتا ہے، اوژور اور ژوغور
کو یاسین میں جیم یعنی ج سے لکھا اور پکارا جاتا ہے یعنی اوجور، اور جوغور ا گر اس تناظر میں دیکھا جائے تو ان کا معنی اور ہیت شاید بدل جائے، اسی طرح شینا میں شیش سر کو کہا جاتا تو اگر شینا کے تناظر میں دیکھیں تو اس دوا شیش کا مطلب دو سر بھی بن سکتا ہے یا دیوئی شیش، دیو کا سر بھی بن جاتا ہے، جہاں تک بکر آباد کا تعلق ہے یہ کسی بکر نامی شخص کی مناسبت سے بھی اور کسی باقر نامی شخص کی مناسبت بھی باقر آباد سے بگڑ کر بکر آباد ہو سکتا ہے یہ ایک دلیل ہے جو سوچا جاسکتا ہے

چمر کھن جو کہ بروشاسکی لفظ چھمر کھن سے مستعار ہے کیوں کہ بروشاسکی میں چھمر لوہے کو کہا جاتا ہے اور کھن قلعے کو یہ ایک قلعہ چھمر کھن یعنی آج کل چمر کھن یاسین میں آج بھی ہے جس میں راجہ میر باز خان کی اولاد رہتی ہے اس طرح گاہیریت میں گاہ کا استعمال اگر ہے تو شین لو گ بھی گاہ نالہ یعنی گول کو کہتے ہیں یہ شینا بھی ھو سکتا ہے یا کلاشوار اور شینا میں کچھ الفاظ کا اشتراک بھی ممکن ہے، اس طرح ڑنگور بٹ کا بٹ بھی شینا میں پتھر کو ہی کہا جاتا ہے جو کہ ممتاز صاحب نے بوہت لکھا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں