100

عوامی ایکشن کمیٹی کا اجلاس، سپریم اپیلٹ کورٹ میں مقامی چیف جسٹس کی تعیناتی کا مطالبہ

چارٹر آف ڈیمانڈ کو ازسر نوع ترتیب دے کر اس کے حل کیلئے باقاعدہ تحریک چلانے پر اتفاق،تین ماہ کے اندر بلدیاتی الیکشن کروا کر اختیارات کو نچلی سطح پر منتقل کیا جائے، عوامی ایکشن کمیٹی کا مطالبہ
گلگت(پ ر) عوامی ایکشن کمیٹی گلگت بلتستان کا جنرل باڈی اجلاس زیر صدارت چئیرمین عوامی ایکشن کمیٹی فداحسین گلگت میں منعقد ہوا،اجلاس میں وائس چئیرمین عوامی ایکشن کمیٹی سید یعصب الدین، سابق چئیرمین مولانا سلطان رئیس، سیکرٹری جنرل تنویر حیدری، مرکزی ترجمان ظہیر قاسمی، کوآرڈنیٹر گلگت جہانزیب انقلابی، سیکرٹری انفارمیشن یوسف ناشاد، صدر ضلع گلگت حکیم خان، لیگل ایڈوائزر غلام محمد، سینئیر رہنما محمد اقبال، سینئیر رہنما حاجی جلیل، سیکرٹی انفامیشن یوتھ زبیر احمد سمیت ایگزیکٹیوں باڈی کے ممبران کی کثیر تعداد نے شرکت کی۔اجلاس میں عوامی ایکشن کمیٹی کے چارٹر آف ڈیمانڈ کو ازسر نوع ترتیب دے کر اس کے حل کیلئے باقاعدہ تحریک چلانے پر اتفاق کیا گیا،اجلاس میں موجودہ حکومت کی طرف سے ایک مرتبہ پھر لینڈ ریفارم ایکٹ کے نام پر عوامی ملکیتی زمینوں کو ہتھیانے کی کوششوں پر سخت تشویش کا اظہار کرتے ہوئے حکومت کو متنبہ کیا گیا کہ گلگت بلتستان کی ایک ایک انچ زمین یہاں کی عوام کی ملکیت ہے اسے کسی صورت ہتھیانے کی اجازت نہیں دینگے اگر حکومت نے ایسا کوئی قانون لانے کی کوشش کی تو بھرپور عوامی مذاہمت کا سامنا کرنا پڑے گا۔اجلاس میں مطالبہ کیا گیا کہ صوبائی حکومت فوری طور پر گلگت بلتستان میں بلدیاتی انتخابات کروائے گلگت بلتستان کا بلدیاتی بجٹ بعض افراد اور اداروں کی کرپشن کی نذر ہو رہا ہے حکومت فوری طور پر دو سے تین ماہ کے اندر بلدیاتی الیکشن کروا کر اختیارات کو نچلی سطح پر منتقل کرے تاکہ عوامی مسائل گھر کی دہلیز پر حل ہوں اور نوجوان قیادت کو آگے آنے کا موقع ملے۔اجلاس میں گلگت بلتستان کے سرکاری اداروں میں غیر مقامی افراد کی بھرتیوں کو مسترد کرتے ہوئے مطالبہ کیا گیا کہ حکومت فوری طور پر غیر مقامی افراد کی جگہ مقامی افراد کو روزگار فراہم کرے۔اجلاس میں مطالبہ کیا گیا کہ سپریم اپیلٹ کورٹ میں مقامی چیف جسٹس کو تعینات کیا جائے غیر مقامی جج کی تعیناتی کو کسی صورت قبول نہیں کرینگے۔اجلاس میں بجلی اور گندم کی قیمتوں میں اضافے کی کوششوں کی بھی مذمت کرتے ہوئے واضح کیا گیا کہ حکومت ایسی کوئی غلطی نہ کرے وگرنہ عوامی مذاہمت کا سامنا ہوگا۔ اجلاس میں متاثرین سستا بازار بھی صدر اظہر علی شاہ کی قیادت میں شریک ہوئے اور حکومت کی طرف سے کابینہ اجلاس میں تین ہزار روپے کی امداد کو مذاق اور شرمناک قرار دیا عوامی ایکشن کمیٹی نے متاثرین سستا بازار سے اظہار یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے حکومت سے مطالبہ کیا کہ حکومت ازسر نو تخمینہ لگا کر متاثرین کے نقصانات کا ازالہ کرے بصورت دیگر عوامی ایکشن کمیٹی متاثرین کیساتھ احتجاج کی کال دیگی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں