96

شیشپر گلیشیر جیسے واقعات سے بچاؤ، موسمیاتی تبدیلی پر ٹاسک فورس قائم کرنے کی ہدایت

موسمیاتی تبدیلی کے اثرات کو کم کرنے، غذائی اور پانی کی قلت سے بچنے، آبی ذخائر کی حفاظت اور جنگلات کے تحفظ کیلئے جامع حکمتِ عملی مرتب کی جائے، وزیراعظم
چیئرمین این ڈی ایم اے فوری طور پر ہنزہ کا دورہ کریں،شیشپر گلیشیر واقعے میں منہدم ہونے والے پل کو فوری تعمیر کیا جائے،میاں شہباز شریف

اسلام آباد(نمائندہ بانگ سحر)وزیراعظم شہبازشریف نے ہدایت کی ہے کہ موسمیاتی تبدیلی کے اثرات کو کم کرنے، شیشپر گلیشئیر واقعے جیسے واقعات سے مسقبل میں بچاو، غذائی اور پانی کی قلت سے بچنے کیلئے اقدامات، پانی کے بچاو و موجودہ آبی ذخائر کی حفاظت اور جنگلات کے تحفظ کیلئے جامع حکمتِ عملی مرتب کی جائے، پانی کی بچت کے لئے عوامی آگاہی مہم کا آغاز کیاجائے، چولستان میں انسانی بستیوں اور جانوروں کے لئے پانی کی فوری فراہمی یقینی بنایا جائے۔وزیراعظم آفس کے میڈیا ونگ سے جاری بیان کے مطابق ا نہوں نے یہ ہدایت اپنی زیرصدارت حالیہ گرمی کی شدید لہر (ہیٹ ویو) اور موسمیاتی تبدیلی کے اثرات پر ہنگامی اجلاس میں کی۔ اجلاس میں وفاقی وزرا سید خورشید شاہ، شیری رحمن، احسان الرحمن مزاری، طارق بشیر چیمہ، مریم اورنگزیب، چیئرمین این ڈی ایم اے لیفٹینینٹ جنرل اختر نواز اور متعلقہ اداروں کے افسران نے شرکت کی۔اجلاس میں وفاقی وزیرِ تعلیم رانا تنویر حسین اور صوبائی چیف سیکٹریز وڈیو لنک کے ذریعے شریک ہوئے۔وزیرِ اعظم کی ہدایت پر موسمیاتی تبدیلی پر فوری طور پر ٹاسک فورس قائم کردی گئی ہے۔ٹاسک فورس میں متعلقہ وفاقی وزرا، سیکٹریز، صوبائی چیف سیکٹریز و متعلقہ صوبائی سیکٹریز، چیئرمین این ڈی ایم اے اور دیگر اداروں کے اعلی افسران شامل ہیں۔ وزیراعظم نے ہدایت کی کہ ٹاسک فورس ملک میں موسمیاتی تبدیلی کے اثرات کو کم کرنے، شسپر گلیشئیر واقعے جیسے واقعات سے مسقبل میں بچاو، غذائی اور پانی کی قلت سے بچنے کیلئے اقدامات، پانی کے بچاو و موجودہ آبی ذخائر کی حفاظت اور جنگلات کے تحفظ کیلئے جامع حکمتِ عملی مرتب کرکے فوری عمل درآمد کیلئے اقدامات کرے۔ ٹاسک فورس آج پیر کی شام کو ہی اپنا پہلا اجلاس منعقد کرے اور آئندہ اجلاس میں رپورٹ پیش کرے۔اجلاس کو حالیہ گرمی کی شدید لہر کے بارے تفصیلی طور پر آگاہ کیا گیا۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ گرمی کی شدید لہر کی بڑی وجہ موسمیاتی تبدیلی ہے۔ پاکستان موسمیاتی تبدیلی کے لحاظ سے دنیا بھر میں پانچویں نمبر پر سب سے ذیادہ متاثر ہونے کے خطرے سے دوچار ملک ہے۔ اس کے علاوہ پاکستان کو گلیشیئرز کے بڑے ذخائر ہونے کے باوجود پانی کی کمی کا خطرہ بھی لاحق ہے۔اس سب کے براہِ راست اثرات پاکستان کی زراعت پر مرتب ہوتے ہیں۔وزیرِ اعظم نے ہنگامی بنیادوں پر اس حوالے سے جامع حکمتِ عملی مرتب کرنے کی بھی ہدایت کی۔ وزیراعظم نے کہاکہ پانی کے بچاو کیلئے عوامی آگاہی مہم کا آغاز کیا جائے۔وزیرِ اعظم نے ہدایت کی کہ بارش کے پانی کو ذخیرہ کرنے کیلئے بھی آئندہ مون سون سے پہلے فوری اقدامات یقینی بنائے جائیں۔ وزیرِ اعظم کو چولستان میں پانی کی قلت پر بھی بریفنگ دی گئی۔وزیراعظم نے ہدایت کی کہ چولستان میں انسانی بستیوں اور جانوروں کیلئے پانی کی فوری فراہمی یقینی بنائی جائے۔ ضلعی انتظامیہ اور متعلقہ ادارے چولستان میں حالیہ گرمی کی شدید لہر میں فوری امدادی سرگرمیوں کو یقینی بنائیں۔ وزیرِ اعظم نے چیئرمین این ڈی ایم اے کو فوری ہنزہ کا دورہ کرنے کی ہدایت کی۔ ہنزہ میں شسپر گلیشئیر واقعے میں منہدم ہوئے پل کو فوری تعمیر کیا جائے۔ وزیرِ اعظم کی پل کی تعمیر پر پیش رفت کے حوالے سے آئندہ اجلاس میں تفصیلی رپورٹ پیش کرنے کی بھی ہدایت کی۔وزیرِ اعظم نے وزارتِ تعلیم کو سرکاری سکولوں میں حالیہ گرمی کہ شدید لہر سے بچاو کیلئے ایس او پیز پر عملدرآمد اور نجی سکولوں کو ان پر عملدرآمد کیلئے احکامات جاری کرنے کی بھی ہدایت کی۔ وزیرِ اعظم کی وزراتِ صحت کو فوری طور پرکووڈ۔19 کے نئے سب ویرئینٹ کے حوالے سے تحقیق اور اس کے ممکنہ اثرات پر بھی تفصیلی رپورٹ پیش کرنے کے احکامات دیئے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں