88

سپریم کورٹ کا شکریہ،ووٹ بیچنے والوں کو رد کردیا، عمران خان

کوہاٹ (خبر نگار)پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے کہا ہے کہ سپریم کورٹ نے لوٹوں کے خلاف فیصلہ دے کر پاکستان کی اخلاقیات کو گرنے سے بچا لیا۔کوہاٹ میں جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے عمران خان نے کہا کہ ان کی کل آئی ایم ایف سے مذاکرات ہے جس میں یہ امریکا سے ڈالرز مانگیں گے اور کہیں گے کہ ہمیں ڈالر دے دو ورنہ عمران خان آجائے گا مگر قرضہ ایسے نہیں ملے گا بلکہ امریکا مزید غلامی کروائے گا۔انہوں نے کہا کہ شہباز شریف فوجی اور امریکی بوٹ اچھی طرح سے پالش کرتا ہے، اسے بڑے بھائی کے وزیراعظم بننے کے بعد وزیراعظم بننے کا بڑا شوق تھا مگر اب وہ پریشان اور پھنس گیا ہے کیونکہ آگے سمندر اور پیچھے ٹائیگرز ہیں۔عمران خان نے کہا کہ اس ساری صورت حال میں زرداری سب سے زیادہ مزے لے رہا ہے کیونکہ مہنگائی، روپے کی قدر کم ہونے سمیت تمام مسائل پر مسلم لیگ ن کو تنقید کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے جبکہ زرداری مزے لے رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایک زرداری ساری ن لیگ پر بھاری ہے۔ عمران خان نے عوام کو مخاطب کر کے کہا کہ آپ کو حقیقی آزادی کے لیے جدوجہد میں شرکت کرنی ہے، ویسے بھی اب موٹروے بن گیا ہے، آپ اسلام آباد جلدی پہنچ جائیں گے اور اللہ نے ہمارے لیے موسم بھی اچھا کردیا ہے۔پی ٹی آئی چیئرمین نے کہا کہ یہ ہمیں نااہل اور خود کو تجربہ کار کہتے تھے مگر اب ان کا تجربہ کہاں گیا کیونکہ چند روز میں ملکی معیشت تباہ ہوگئی ہے، اللہ نے ہمیں عزت دی، ہم آج عوام میں آرہے ہیں اور یہ چھپتے پھر رہے ہیں۔سپریم کورٹ کے فیصلے پر ردعمل دیتے ہوئے عمران خان نے کہا کہ سپریم کورٹ کا لوٹوں کے خلاف جو فیصلہ آیا ہم اس پر ان کا شکریہ ادا کرتے ہیں، عدالت نے آج لوٹوں کے خلاف فیصلہ دے کر پاکستان کی اخلاقیات کو گرنے سے بچالیا کیونکہ منحرف اراکین اپنے حلقے کے لوگوں، آئین سے غداری کرتے ہیں اور سیاست کی اخلاقیات کا جنازہ نکالتے ہیں، شکر ہے سپریم کورٹ نے ان کے ووٹ کو رد کردیا۔انہوں نے کہا کہ حمزہ شہباز تم نے بہت شوق سے اچکن سلوائی تھی اب بس تیار کرلو کیونکہ پنجاب مین مرغی کی قیمتیں بھی نیچے آئیں گی۔عمران خان نے سپریم کورٹ سے مطالبہ کیا کہ شریف خاندان کے چالیس ارب روپے کے کیسز کی یومیہ بنیاد پر سماعت کرے کیونکہ انہوں نے ایف آئی اے کو تباہ کردیا، تفتیش کرنے والے ایف آئی اے افسر ڈاکٹر رضوان کا انتقال ہوگیا جبکہ دوسرے کو ہارٹ اٹیک ہوا، ہمیں سپریم کورٹ کے علاوہ کسی اور پر اعتماد نہیں ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں