135

عمران خان اسٹیبلشمنٹ کو تقسیم کرنیکی کوشش کر رہے ہیں، فضل الرحمان

قائد ن لیگ نواز شریف کو پاکستان واپس آنا چاہیے اور سیاست کرنی چاہیے،سربراہ جمعیت علمائے اسلام ف
آرمی چیف کی تعیناتی کا معاملہ جلسوں میں زیر بحث نہیں لانا چاہیے، عمران خان کو سازش کے تحت اقتدار میں لایا گیا تھا،انٹرویو
اسلام آباد(ویب ڈیسک)جمعیت علمائے اسلام(ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ آرمی چیف کی تقرری کو سیاسی جلسوں میں زیر بحث نہیں لانا چاہیے، عمران خان اسٹیبلشمنٹ کو تقسیم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں،سویلین اداروں میں کوئی تقسیم آ جائے تو ازالہ ممکن ہے لیکن دفاعی اداروں میں تقسیم آ جائے یا سول اداروں کو قومی سلامتی کے اداروں سے لڑا دیا جائے تو پورا ملک اس کی قیمت ادا کرتا ہے، طے شدہ ہے کہ اصلاحات کے بعد ہی انتخابی میدان میں اترا جائے گا، گدلے پانی سے دوبارہ گدلے پانی میں اترنا کوئی معقول بات نہیں ہو گی، اس وقت ملک کا سب سے بڑا مسئلہ تباہ و برباد معیشت کو سنوارنا ہے،عمران خان کو ایک بین الاقوامی سازش کے تحت اسلام آباد پر بٹھایا گیا تھا، نواز شریف کو پاکستان واپس آ جانا چاہیے اور ملک میں رہ کر سیاست کرنی چاہیے،انکی واپسی کی راہ میں جو قانونی پیچیدگیاں ہیں، ان کو دور کرنا ہو گا،صدارتی امیدوار کیلئے تمام ہم خیال جماعتوں کی متفقہ رائے سے جو فیصلہ ہو گا وہ ہم سب کے لیے قبول ہو گا۔برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی اردو کو دیے گئے اپنے انٹرویو میں مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ اب باہمی مشاورت سے انتخابی مرحلہ طے کیا جائے گا اور انتخابی اصلاحات میں کتنا وقت لگتا ہے اس بارے میں قبل از وقت کوئی بات نہیں کہی جا سکتی۔فوری انتخابات کے امکان سے متعلق سوال کے جواب میں انھوں نے کہا کہ سال، سوا سال کی مدت ہی تو ہے اس سے آگے تو نہیں جایا جا سکتا اور ویسے بھی ابھی گدلے پانی سے دوبارہ گدلے پانی میں اترنا کوئی معقول بات نہیں ہو گی، اس وقت ملک کا سب سے بڑا مسئلہ تباہ و برباد معیشت کو سنوارنا ہے۔انہوں نے کہا کہ عمران خان نے پچھلے پونے چار سال میں تمام اداروں کو تباہ و برباد کر دیا ہے اور اب ہمارے سامنے ایک ہی سوال ہے کہ کیا ہم ملک دوبارہ صحیح راستے میں لا سکتے ہیں اور اس کے لیے کتنا وقت درکار ہو گا، ہمیں عمران خان ایک تباہ حال معیشت دے کر گئے ہیں، سارے کام ایگزیکٹو آرڈر سے پایہ تکمیل کو نہیں پہنچتے، اس کے لیے پالیسیاں بنائی جاتی ہیں جن کو مل کر پایہ تکمیل تک پہنچایا جاتا ہے۔آرمی چیف کی تقرری سے متعلق انہوں نے کہا کہ میں تو کسی صورت میں اس معاملے کو سیاسی اجتماعات کا موضوع گفتگو نہیں بنانا چاہتا، فوج کا اپنا نظام ہے جس میں اس کے سربراہ کو ایک مقام حاصل ہوتا ہے حکومت کی مرضی ہوتی ہے کہ وہ کسی تقرری کرتی یا مزید مدت دیتی ہے۔مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ قوم کو سنجیدگی سے غور کرنا ہو گا کہ آرمی چیف کی تقرری کو سیاسی جلسوں میں زیر بحث نہیں لانا چاہیے۔مولانا فضل الرحمان نے الزام عائد کیا کہ عمران خان اسٹیبلشمنٹ کو تقسیم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں،سویلین اداروں میں کوئی تقسیم آ جائے تو ازالہ ممکن ہے لیکن دفاعی اداروں میں تقسیم آ جائے یا سول اداروں کو قومی سلامتی کے اداروں سے لڑا دیا جائے تو پورا ملک اس کی قیمت ادا کرتا ہے۔فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ آج عمران خان کس منہ سے کہہ رہے ہیں ان کو بین الاقوامی سازش کے تحت اقتدار سے الگ کیا گیا۔مولانا فضل الرحمان نے الزام عائد کیا کہ عمران خان کو ایک بین الاقوامی سازش کے تحت اسلام آباد پر بٹھایا گیا تھا اور انھوں نے یہ بات اس وقت بھی کی تھی جب عمران خان کو مسند اقتدار پر بٹھایا جا رہا تھا۔انھوں نے کہا کہ وقت نے ہمارے موقف کو درست ثابت کیا ہے۔ آج عمران خان کس منھ سے کہہ رہے ہیں ان کو بین الاقوامی سازش کے تحت اقتدار سے الگ کیا گیا جب کہ حقیقت یہ ہے کہ انھیں ایک بین الاقوامی سازش کے تحت پاکستان پر مسلط کیا گیا اور پھر پارلیمنٹ نے انھیں ووٹ کی قوت سے اقتدار سے باہر نکالا۔ان کے مطابق عمران خان جو چورن بیچنا چاہتے ہیں جوں جوں اس کی حقیقت عوام پر آشکار ہو گی تو زیادہ دیر تک یہ چورن کسی مارکیٹ میں فروخت نہیں ہو سکے گا۔ایک سوال کے جواب میں مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ ہم نے کب عام انتخابات سے راہ فرار اختیار کی ہے، ہمارے مطالبے پر عمران خان عام انتخابات سے راہ فرار اختیار کرتے چلے آ رہے تھے۔ ان کے مطابق ہم نے
ایک حکمت عملی سے ووٹ چور حکومت کو گھر بھجوایا ہے۔ان کے مطابق اپوزیشن کی تحریک سنہ 2018میں ہونے والی انتخابی دھاندلی کے خلاف چل رہی تھی۔ عوام کا ووٹ چوری ہوا تھا۔ ہم ووٹ کی امانت عوام کو واپس دلانے کی تحریک چلا رہے تھے۔ عمران خان کو گھر تو پارلیمنٹ نے بھجوایا ہے۔ براہ راست عوام نے انھیں ہٹایا ہے۔جب تبدیلی آئی تو انتخابی اصلاحات کے بعد ہی انتخابی عمل شروع کرنے پر سب کا اتفاق رائے ہوا۔ایک سوال کے جواب میں مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ ہم شروع دن سے اسمبلیوں کا حلف اٹھانے کے حق میں نہ تھے لیکن مشاورتی عمل سے ہماری رائے میں تبدیلی آئی۔ ہم عمران خان کی حکومت کو تحریک کے نتیجے میں ہٹانا چاہتے تھے لیکن جب تحریک عدم اعتماد کے ذریعے عمران خان کو گھر بھجوانے کی تجویز سامنے آئی تو اس کو قابل عمل سمجھ کر قبول کر لیا۔ انھوں نے کہا کہ یہ پی ڈی ایم کی حکومت نہیں ہے بلکہ اپوزیشن اور اتحادی جماعتوں کی حکومت جو عمران کی حکومت چھوڑ کر آئی ہیں لہذا آپ اسے کل کی اپوزیشن اور اتحادی جماعتوں کی حکومت ہی کہیں۔صدر کے مواخذے کے حوالے سے پوچھے گئے سوال کے جواب میں مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ ہمارے پاس صدر کے مواخذہ کرنے کے لیے دو تہائی اکثریت نہیں ہے لیکن اصول کی بات ہے اگر صوبہ خیبر پختونخوا اور سندھ کا گورنر مستعفی ہو جاتا ہے تو پھر صدر کو بھی چلے جانا چاہیے۔فضل الرحمان کی صدرِ پاکستان کے عہدے کے لیے امیدواری کے سوال پر ان کا کہنا تھا کہ اس بارے میں تمام ہم خیال جماعتوں کی متفقہ رائے سے جو فیصلہ ہو گا وہ ہم سب کے لیے قبول ہو گا۔ ہر سیاسی جماعت کو اس معاملہ پر اپنی رائے دینے کا حق حاصل ہے۔سابق وزیراعظم نواز شریف کی وطن واپسی سے متعلق سوال پر جے یو آئی ف کے سربراہ کا کہنا تھا کہ میں تو ہمیشہ اس بات کا حامی رہا ہوں کہ میاں نواز شریف کو پاکستان واپس آ جانا چاہیے اور ملک میں رہ کر سیاست کرنی چاہیے۔مولانا فضل الرحمان نے مزید کہا کہ پاکستان نواز شریف کا ملک ہے، کوئی شخص ان کی پاکستانیت چھین نہیں سکتا۔ پاکستان ہی ان کا سب کچھ ہے، وہ پاکستان سے باہر جن بنیادوں پر گئے ہیں ان ہی بنیادوں پر پاکستان واپس آنا ہے، ان کی واپسی کی راہ میں جو قانونی پیچیدگیاں ہیں، ان کو دور کرنا ہو گا۔سیاسی حلقوں میں عمران خان کی گرفتاری کے بارے میں قیاس آرائیوں کے بارے میں فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ آئین اور قانون کے مطابق ریاست کوئی کارروائی کرتی ہے (تو ایسے میں)کسی کو کیوں رعایت دی جائے؟ان کے مطابق ذوالفقار علی بھٹو کو کوئی رعایت نہیں دی گئی۔ نواز شریف نے جیل کاٹی۔ ان کا پورا خاندان جیل میں ڈال دیا گیا۔ عمران خان کون سا فرشتہ ہے کہ اس کے ساتھ کوئی خصوصی رعایت کی جائے۔ آئین اور قانون خود اپنا راستہ بنائے گا۔انھوں نے صدر مملکت کی جانب سے چیف جسٹس کو لیٹر گیٹ پر خط لکھنے کے بارے میں کہا کہ جو کچھ بھی کر لیا جائے تو نتیجہ یہ نکلے گا کہ یہ خط جعلی تھا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں