119

گلگت بلتستان، پہلی ڈیجیٹل کورٹ نے کام شروع کر دیا

اندرون اور بیرون ملک سے ویڈیو لنک کے ذریعے براہ راست چیف کورٹ میں زیر سماعت کیسز میں وکلااور سائلین اپنے مقدمات کی پیروی کرسکیں گے
اسلام آباد سمیت دیگر شہروں میں بھی ورچول برانچ قائم کی جائیگی،رجسٹرارغلام عباس چوپا،چیف جسٹس علی بیگ نے پہلے مقدمے کی سماعت کرکے افتتاح کیا
گلگت(بانگ سحر نیوز)چیف جسٹس گلگت بلتستان چیف کورٹ جسٹس علی بیگ نے گلگت بلتستان میں ڈیجیٹل کورٹ میں پہلے مقدمے کی سماعت کرکے افتتاح کردیا۔ ڈیجیٹل کورٹ سسٹم کے ذرایعے ملک کے اندرون اور بیرون سے بھی براہ راست ویڈیو لنک چیف کورٹ میں زیر سماعت مقدمات میں وکلااور سائلین اپنے مقدمات کی پیروی کریں گے۔ پاکستان میں پہلی مرتبہ گلگت بلتستان چیف کورٹ میں ڈیجیٹل کورٹ کا قیام عمل میں لایا گیا اس نظام کے رائج ہونے سے لوگوں کو عدل و انصاف کی فراہمی میں درپیش مسائل کا تدراک ہوگا۔ رجسٹرارچیف کورٹ غلام عباس چوپا نے بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ ڈیجیٹل کورٹ کا قیام چیف جسٹس علی بیگ کی خصوصی سرپرستی سے ممکن ہوا ہے، گلگت بلتستان چیف کورٹ کا جلد اسلام آباد سمیت دیگر شہروں میں بھی ورچول کورٹ کی برانچ قائم کیا جائے گا تاکہ ملک کے اندرون اور بیرون سے بھی وکلاء اور سائلین براہ راست اپنے مقدمات کی پیروی کریں گے۔ یہ گلگت بلتستان کی عدلیہ کو اعزاز حاصل ہوگا کہ کوئی بھی سائل اور وکیل ملک کے کسی بھی شہر میں اور بیرون ملک میں بھی بیٹھ کر اپنے مقدمے کی سماعت سنیں گے۔ کسی سائل کو پریشانی نہیں ہوگی کہ وہ وکیل کو بھاری اخراجات کے ذریعے گلگت لے کر آئے، وکیل جس شہر میں ہوگا وہ بذریعہ ورچول کورٹ مقدمے کی پیروی کرے گا۔ انہوں نے مزید کہاکہ ڈیجیٹل کورٹ کے قیام سے وکلاء اور سائلین کو درپیش مجبوریاں ختم ہوں گی، ملک کے کسی بھی جگہ سے اپنے مقدے میں براہ راست ورچول کورٹ اپنے مقدمے کی پیروی کرے گا، وکیل اور سائل کے موبائل نمبر درج ہوں گے ان کے نمبرز کے ذریعے ان کے مقدمے کی پیشی کے حوالے سے آگاہ کیاجائے گا اور ان کو معلومات بھی فراہم کئے جائیں گے۔ ڈیجیٹل کورٹ کے رائج سے وکلاء اور سائلین کو ہر سہولت فراہم ہوگی، وہ اپنے مقدمات کی پیروی کسی بھی جگہ میں رہ کر حاصل کرسکے گا اور مقدمے کی سماعت کے فوراً ان کوعدالتی کارروائی پر مشتمل حکم نامہ، آئندہ تاریخ پیشی اور فیصلے سے بھی آگاہ کیا جائے گا۔ اس اہم فریضہ کی تکمیل چیف جسٹس علی بیگ کی خصوصی سرپرستی سے ممکن ہوا اور اس کا پورا پورا کریڈٹ چیف جسٹس علی بیگ کو جاتا ہے جنہوں نے اس نظام کے قیام کیلئے ہماری سرپرستی کی اور اس موقع پر ہم صوبائی حکومت سمیت دیگر ا داروں کے بھی مشکور ہیں جنہوں نے اس نظام کے قیام کیلئے بھرپور ساتھ دیا اورکامیاب بنایا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں