87

لانگ مارچ سے قبل حکومت کا اہم فیصلہ

پنجاب کی جیلوں کو صاف کروانے کی ہدایات جاری،سیاسی شخصیات کو الگ سیل میں رکھنے کے لیے ہدایات جاری کر دی گئیں
اسلام آباد (خصوصی رپورٹر) حکومت کے خلاف محاذ آرائی سے سختی سے نمٹنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔میڈیا کے مطابق مسلم لیگ ن اور اتحادیوں نے فیصلہ کیا ہے کہ حکومت نہیں چھوڑیں گے۔فیصلہ کیا گیا ہے کہ قانون ہاتھ میں لینے والوں کو بڑے پیمانے پر گرفتار کریں گے۔پنجاب کی جیلوں کو صاف کروانے کی ہدایات بھی جاری کی گئی ہیں۔رپورٹ کے مطابق سیاسی شخصیات کو الگ سیل میں رکھنے کے لیے ہدایات جاری کی گئی ہیں۔علاوہ ازیں حکومت نے پاکستان تحریک انصاف کے لانگ مارچ کو نہ روکنے کا فیصلہ کیا ہے‘ حکومت اور اتحادیوں کے درمیان قانونی حدود میں رہتے ہوئے لانگ مارچ کی اجازت دینے پر اتفاق ہوا ہے. جیونیوزکا اپنے ذرائع کے حوالے سے بتانا ہے کہ آصف علی زرداری نے اتحادیوں سے رابطے کر کے اتفاق رائے میں اہم کردار ادا کیا اور تحریک انصاف کے مارچ کو سری نگر ہائی وے تک محدود کرنے کا بھی فیصلہ کیا گیا ہے، تحریک انصاف سری نگر ہائی وے پر پرامن مارچ کرے گی تو رکاوٹ نہیں ڈالی جائے گی،تاہم ریڈزون میں داخلے کی صورت میں قانونی راستہ اپنایا جائے گا حکومت اور اتحادیوں کے آج کے اجلاس میں پی ٹی آئی مارچ پر مشاورت بھی ہوگی جس میں نواز شریف وڈیو لنک کے ذریعے شریک ہوں گے. ذرائع کے مطابق اجلاس میں آصف زرداری، فضل الرحمان اور اتحادی جماعتوں کے دیگر قائدین بھی شرکت کریں گے اجلاس میں مریم نواز اور حمزہ شہباز بھی وڈیو لنک کے ذریعے شریک ہوں گے. واضح رہے کہ تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے 25 مئی کو اسلام آباد آزادی مارچ کا اعلان کیا ہے عمران خان نے حکومت سے اسمبلی توڑنے اور انتخابات کرانے کی تاریخ مانگ لی اور صاف شفاف انتخابات کرانے کا مطالبہ کیا ہے عمران خان نیواضح پیغام دیا کہ نیوٹرل رہنے کا کہنے والے اب نیوٹرل رہیں بیورو کریسی کو بھی دھمکی دی کہ کوئی غیر قانونی کام کیا تو ایکشن لیں گے. دوسری جانب حکومت نے پی ٹی آئی کا جلد انتخابات کا مطالبہ ماننے سے انکار کرتے ہوئے اپنی مدت پوری کرنے کا فیصلہ کرلیا ہے یہ فیصلہ گزشتہ رات اتحادی حکومت کے راہنماؤں کے درمیان رابطوں کے نتیجے میں لیا گیا تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کے لانگ مارچ کے اعلان کے بعد سیاسی راہنماؤں میں مشاورت ہوئی، جس میں فیصلہ کیا گیا ہے کہ قبل ازوقت انتخابات نہیں کرائے جائیں گے، حکومت 2023 تک اپنی مدت پوری کرے گی۔ذرائع کے مطابق پچھلے دِنوں آصف زرداری کی اہم شخصیت سے ملاقات ہوئی تھی، اہم شخصیت سے ملاقات کے بعد زرداری کی شہبازشریف، فضل الرحمان سے ملاقاتیں ہوئیں، ملاقاتوں میں مشاورت کے بعد حکومت کی مدت پوری کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے اس ملاقات کے دوران دونوں راہنماؤں نے عمران خان کے عزائم کو کسی قیمت کامیاب نہ ہونے دینے پر بھی اتفاق کیا تھا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں