82

حکومت آزادی مارچ کو روکنے میں کامیاب

مختلف مقامات پر پولیس،کارکنان آمنے سامنے رہے،شاہراہیں میدان جنگ کا منظر پیش کرتی رہیں، رہنماؤں،کارکنوں کی گرفتاری و رہائی
پولیس نے کارکنوں کو لاہور سے باہر نکلنے سے روکنے کیلئے مختلف شاہراہوں پر بیرئیرز، خاردار تاریں اور کنٹینرز لگا کر بھاری نفری تعینات رکھی
مختلف مقامات پر پولیس کی جانب کارکنوں پر لاٹھی چارج اور آنسوگیس کی شیلنگ کی گئی،کارکنوں کی جانب سے بھی پولیس پر پتھراؤ کیا گیا
مرکزی رہنماحماد اظہر چہرے پر آنسو گیس کا شیل لگنے سے زخمی ہو گئے،بزرگ رہنما اعجاز چوہدری کی بھی آنسو گیس کی شیلنگ سے طبیعت خراب
اسلام آباد +لاہور(خبر نگار)حکومت اپنی حکمت عملی کی وجہ سے تحریک انصاف کے حقیقی آزادی مارچ کے قافلے کو لاہور سے باہر نکلنے سے روکنے میں کامیاب ہو گئی، مختلف مقامات پر پولیس اور پی ٹی آئی کے کارکنان آمنے سامنے رہے جس سے شاہراہیں میدان جنگ کا منظر پیش کرتی رہیں، پولیس کی جانب سے تحریک انصاف کے کارکنوں کو لاہور سے باہر نکلنے سے روکنے کیلئے مختلف شاہراہوں پر بیرئیرز، خاردار تاریں اور کنٹینرز لگا کر بھاری نفری تعینات رکھی گئی، مختلف مقامات پر پولیس کی جانب کارکنوں پر لاٹھی چارج اور آنسوگیس کی شیلنگ کی گئی جبکہ کارکنوں کی جانب سے پتھراؤ کیا جاتارہا، تحریک انصاف کے متعدد رہنماؤں اور کارکنوں کو گرفتارکرنے کے بعد کچھ دیر بعد رہا کر دیا گیا، مرکزی رہنماحماد اظہر چہرے پر آنسو گیس کا شیل لگنے سے زخمی ہو گئے جبکہ بزرگ رہنما اعجاز چوہدری کی بھی آنسو گیس کی شیلنگ سے طبیعت خراب ہو گئی جنہیں طبی امداد دی گئی۔ تفصیلات کے مطابق تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کی کال پر حقیقی آزادی مارچ میں شرکت کیلئے تحریک انصاف کے رہنما اور کارکنان جیسے ہی مرکزی شاہراہوں پر پہنچے تو انہیں پولیس کی شدید مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا۔ پولیس کی جانب سے مختلف مقامات پر بیرئیرز اور خاردار تاریں لگا کر کارکنوں کو روکا گیا، رکاوٹیں ہٹانے کی کوشش پر پولیس اور کارکنوں میں شدید جھڑپیں ہوئیں جس پر پولیس نے لاٹھی چارج کیا۔ ایوان عدل کے باہر پولیس اور کارکنوں میں شدید ہاتھا پائی ہوئی جس کے بعد پولیس نے لاٹھی چارج اور بعدازاں کارکنوں پر شیلنگ کی جس سے کارکنان منتشر ہو گئے۔پولیس کی جانب سے بھاٹی چوک میں بھی کارکنوں کو منتشرکرنے کے لئے شیلنگ کی گئی۔ کارکنان مختلف راستوں سے ہوتے ہوئے بتی چوک پہنچے جہاں پر پولیس کی جانب سے کڑی رکاوٹیں کھڑی کی گئی تھیں، تحریک انصاف کے رہنما اورکارکنا ن کی بڑی تعدادنے آگے بڑھنے کی کوشش کی تاہم پولیس نے شدید شیلنگ کی جس سے تحریک انصاف کے کارکنان پیچھے ہٹنے پرمجبور ہوگئے، کچھ دیر کے بعد کارکنان نے دوبارہ آگے بڑھنے کی کوشش کی جس پر پولیس نے کارکنوں پر لاٹھی چارج بھی کیا۔ پولیس کی جانب سے کئی کارکنان کوگرفتار کیا گیا تاہم انہیں کچھ دیر بعدرہا کر دیا گیا۔ تحریک انصاف کے کارکنان وقفے وقفے سے آگے بڑھنے کی کوشش کرتے رہے لیکن پولیس نے ان کی یہ کوشش کامیاب نہ ہونے دی۔ بتی چوک میں پی ٹی آئی کے کارکنوں کی جا نب سے پولیس پر پتھراؤ کیا گیا جس سے کچھ پولیس اہلکار زخمی بھی ہوئے جبکہ گاڑیوں کو بھی شدید نقصان پہنچا۔پولیس کی جانب سے تحریک انصاف کی رہنما ڈاکٹریاسمین راشد کی گاڑی پر ڈنڈے مارے گئے جس سے ان کی گاڑی کی ونڈ سکرین ٹوٹ گئی۔ پولیس نے تحریک انصاف کے سینئر مرکزی رہنمااعجاز چوہدری کو بھی گرفتار کیا تاہم انہیں بھی تھوڑی دیر بعد رہا کر دیا گیا، آنسو گیس کی شیلنگ سے اعجاز چوہدری کی طبیعت بھی خراب ہو گئی جس پر انہیں طبی امداددی گئی۔ مرکزی رہنما جمشید اقبال چیمہ کو وکلاء اور کارکنان کے ہمراہ گرفتار کیا گیا تاہم وکلاء اور کارکنوں کو کچھ دیر بعد رہا کر دیا گیا جبکہ پولیس نے جمشید اقبال چیمہ اور چار کارکنوں کو رہا کرنے سے انکار کر دیا۔ پولیس کی حکمت عملی کی وجہ سے تحریک انصاف کے رہنما لاہور سے بڑے قافلے کو باہر لے جانے میں کامیاب نہ ہوسکے۔ کارکنان کی تعداد کم ہونے کے ساتھ پولیس کی طرف سے شاہراہیں کھولنے کا سلسلہ شروع کر دیا گیا تاہم داخلی اور خارجی راستوں پر بدستور کنٹینرز اوردیگر رکاوٹیں موجود ہیں۔ پولیس کی طرف سے خواتین رہنما ڈاکٹر یاسمین راشد اورعندلیب عباس کو بھی گرفتار کیا گیا تاہم انہیں تھوڑی دور جاکر گاڑی سے اتار دیا گیا۔سی سی پی او لاہور بلال صدیق کمیانہ کے مطابق ڈاکٹر یاسمین راشد اور عندلیب عباس کو گرفتار نہیں کیاگیا، دونوں خواتین خود پولیس کی گاڑی میں بیٹھیں تاہم پولیس نے ڈاکٹر یاسمین راشد اور عندلیب عباس کو گاڑی سے نیچے اتار دیا۔پولیس نے پی ٹی آئی رہنماؤں کی گاڑیوں کے ٹائروں سے ہوا بھی نکال دی۔بتی چوک کے قریب پولیس کے لاٹھی چارج اور شیلنگ سے پی ٹی آئی کی ایک خاتون رکن بھی بے ہوش ہوگئیں جنہیں موقع پر ہی طبی امداد دی گئی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں