150

پاکستان اور ترکی کے تعلقات سیاسی تبدیلیوں سے بالاتر ہیں، شہباز شریف

سیاسی پولرائزیشن کے خطرے سے آگاہ ہیں،گزشتہ حکومت کی غیر فیصلہ کن حکمت عملی کی قیمت ادا کر رہے ہیں، حکومتی ترجیح معیشت کو مستحکم کرنا ہے، وزیراعظم
پاکستان اور امریکہ کے درمیان دیرینہ اور وسیع البنیاد تعلقات ہیں،بھارت کو اگست 2019 کے اپنے فیصلے پر نظرثانی کرکے تعلقات کو معمول پر لانے کی ذمہ داری اٹھانا ہوگی، ترک میڈیا کو انٹرویو
اسلام آباد(خصوصی رپورٹر)وزیر اعظم شہباز شریف نے پاکستان اور ترکی کے درمیان مثالی تعلقات کو سراہتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان اور ترکی گزشتہ 75 برسوں سے ہمیشہ ایک دوسرے کے ساتھ کھڑے ہیں، دونوں ممالک کے تعلقات سیاسی تبدیلیوں سے بالاتر ہیں۔ہم پچھلی حکومت کی غیر فیصلہ کن حکمت عملی کی قیمت ادا کر رہے ہیں،امید ہے آئی ایم ایف اگلی قسط جاری کرے گا، جس سے زرمبادلہ کے ذخائر پر دباؤ کم ہوگا، حکومت کی ترجیح معیشت کو مستحکم کرنا ہے، ہم سیاسی پولرائزیشن کے خطرے سے آگاہ ہیں۔ پاکستان اور امریکہ کے درمیان دیرینہ اور وسیع البنیاد تعلقات ہیں۔بھارت کو اگست 2019 کے اپنے فیصلے پر نظرثانی کرکے تعلقات کو معمول پر لانے کی ذمہ داری اٹھانا ہوگی۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے ترک میڈیا کو انٹرویو دیتے ہوئے کیا۔وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا کہ پاکستان اور ترکی گزشتہ 75 برسوں سے ہمیشہ ایک دوسرے کے ساتھ کھڑے ہیں، یہ تاریخی تعلقات مشترکہ مذہبی، ثقافتی اور لسانی روابط پر مضبوطی سے قائم ہیں اور دونوں جانب سیاسی تبدیلیوں سے بالاتر ہیں۔انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک علاقائی اور بین الاقوامی مسائل پر یکساں خیالات رکھتے ہیں اور دوطرفہ، علاقائی اور کثیر جہتی فورمز پر قریبی تعاون کرتے ہیں، انہوں نے مسئلہ کشمیر پر اصولی حمایت پر ترک قیادت کا شکریہ بھی ادا کیا۔وزیر اعظم نے کہا کہ ایسے وقت میں جب دونوں ممالک کے عوام کے درمیان روابط اور ثقافتی تعلقات بلندی کی جانب گامزن ہیں، پاکستان اب اقتصادی تعاون بڑھانے پر توجہ دے رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ تجارت کی موجودہ سطح اب بھی ہمارے تعلقات کی بہترین حالت کا صحیح عکاس نہیں ہے، یہ ایک ایسا پہلو ہے جہاں دونوں ممالک کے لیے بے پناہ مواقع موجود ہیں۔ان کا کہنا تھا ’یہاں اپنے دورے کے دوران میں ترکی کی معروف کاروباری کمپنیوں سے ملاقات کر رہا ہوں تاکہ توانائی، انفراسٹرکچر، ای کامرس، میونسپل ایگرو بیسڈ انڈسٹری اور آئی ٹی کے شعبوں سمیت مختلف شعبوں میں پاکستان میں موجود بے پناہ مواقع سے استفادہ کرنے کے لیے ان کی حوصلہ افزائی کی جا سکے۔بھارت کے ساتھ تجارت سے متعلق ایک سوال کے جواب میں وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ پاکستان اور بھارت کو باہمی طور پر فائدہ مند تجارت سے بہت کچھ حاصل کرنا ہے۔تاہم پاکستان نے 5 اگست 2019 کے بعد بھارت کے ساتھ تعلقات محدود کرنے کا فیصلہ کیا تھا جب بھارت نے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی خودمختاری کو ختم کردیا تھا۔انہوں نے کہا کہ ہم ان معاشی فوائد سے بخوبی واقف ہیں جو بھارت کے ساتھ ایک صحت مند تجارتی سرگرمی سے حاصل کیے جا سکتے ہیں تاہم کشمیری عوام پر مسلسل ظلم و بربریت، مقبوضہ علاقے کے آبادیاتی ڈھانچے کو تبدیل کرنے کی کوششوں اور بھارت کی جانب سے کشمیریوں کے حقوق سے مسلسل انکار کے تناظر میں یہ تصور کرنا مشکل ہے کہ تجارتی محاذ پر پیش رفت ہو سکتی ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ بھارت کو اگست 2019 کے اپنے فیصلے پر نظرثانی کرکے اور بات چیت کے لیے سازگار ماحول پیدا کرکے تعلقات کو معمول پر لانے کی ذمہ داری اٹھانا ہوگی۔ جب وزیر اعظم سے ایشیا پیسیفک خطے کے بارے میں امریکا کی پالیسی میں پاکستان کی حیثیت سے متعلق سوال کیا گیا تو انہوں نے جواب دیا کہ دونوں ممالک کے درمیان دیرینہ اور وسیع البنیاد تعلقات ہیں۔انہوں نے امریکا کے ساتھ پاکستان کی اپنے تعلقات کو گہرا اور وسیع کرنے کی خواہش کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ سب سے بڑی برآمدی منڈی اور سرمایہ کاری اور آمدنی کا ایک بڑا ذریعہ ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ ان تعلقات کے کاروباری، تجارتی اور سرمایہ کاری کے پہلوؤں کو مزید وسعت دینے کے بہت زیادہ امکانات ہیں۔وزیراعظم نے امریکی کمپنیوں پر بھی زور دیا کہ وہ پاکستان میں خاص طور پر انفارمیشن ٹیکنالوجی کے شعبے میں سرمایہ کاری کریں۔ وزیر اعظم نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) کی زیرقیادت مخلوط حکومت کسی قسم کی پولرائزیشن پر یقین نہیں رکھتی، انہوں نے مزید کہا کہ موجودہ حکومت پی ٹی آئی کے سوا صوبوں کی تقریباً تمام سیاسی قوتوں پر مشتمل ہے۔ میں سیاسی حل اور بات چیت پر یقین رکھتا ہوں، اسی وجہ سے میں نے پی ٹی آئی سمیت تمام سیاسی قوتوں کو ایک ساتھ بیٹھنے اور معیشت کے چارٹر پر متفق ہونے کی دعوت دی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کے لیے معاشی اتار چڑھا ؤ کے سلسلے کو توڑنے اور استحکام حاصل کرنے کے لیے ضروری ہے کہ تمام سیاسی قوتیں معاشی پالیسیوں کے تسلسل کو یقینی بنائیں اور اس مقصد کے لیے سازگار ماحول فراہم کریں۔انہوں نے کہا کہ ہم سیاسی پولرائزیشن کے خطرے سے آگاہ ہیں تاہم ہم سیاسی گفتگو اور مشاورت کو فروغ دینے کے لیے کام کر رہے ہیں۔ اپریل میں اقتدار میں آنے کے بعد سے مسلم لیگ (ن) کی حکومت کی ترجیح معیشت کو مستحکم کرنا ہے، پاکستان کو بیرونی مالیاتی دباؤ، مہنگائی اور خوراک کی بڑھتی ہوئی قیمتوں سمیت متعدد چیلنجز کا سامنا ہے۔شہباز شریف نے کہا کہ ’ہم پچھلی حکومت کی غیر فیصلہ کن حکمت عملی کی قیمت ادا کر رہے ہیں، مثلاً اس میں بروقت ایندھن کی خریداری میں ناکامی اور اشیائے ضروریہ کے اسٹریٹجک ذخائر کی عدم موجودگی شامل ہیں جس کے نتیجے میں مہنگائی ہوئی، اس نے غریب عوام کو متاثر کیا۔وزیراعظم نے کہا ’تاہم موجودہ حکومت نے خاص طور پر معاشرے کے کمزور طبقے کے لیے سماجی اقتصادی اشاریوں کو بہتر بنانے پر توجہ مرکوز کی ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ حکومت سخت مالیاتی پالیسی، مالیاتی خسارے میں کمی، غریبوں کے لیے ریلیف پیکج اور اشیائے ضروریہ کے اسٹریٹجک ذخائر کی تعمیر پر کام کر رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ ہمیں امید ہے کہ انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ (آئی ایم ایف) اگلی قسط جاری کرے گا، جس سے پاکستان میں سرمایہ کاری کے لیے بین الاقوامی مارکیٹ کا اعتماد بڑھے گا، اس طرح زرمبادلہ کے ذخائر پر دباؤ کم ہوگا۔ وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا کہ پاکستان نے چین کے بیلٹ اینڈ روڈ انیشییٹو (بی آر آئی) کے پانچ جہتی حکمت عملی کی مکمل حمایت کی ہے جس میں فزیکل کنیکٹیویٹی، مالی تعاون، تجارتی سہولت، پالیسی مشاورت اور دونوں ممالک کے عوام کے درمیان روابط پر زور دیا گیا ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان چین اقتصادی راہداری (سی پیک) کے ساتھ ہم نے اپنے ممالک کے مشترکہ وژن اور بی آر آئی کے مقاصد کو کامیابی سے محسوس کیا، سی پیک کے اعلیٰ معیار کی ترقی کے ایک نئے مرحلے میں داخل ہونے کے ساتھ ہمارا ’بیلٹ اینڈ روڈ کو آپریشن‘ پاکستان کی صنعتی اور اقتصادی جدت کو تیز کرے گا۔انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان سی پیک کی اعلیٰ معیار کی ترقی کے لیے پرعزم ہے جس میں پاکستان کے ریلوے کے بنیادی ڈھانچے میں بہتری اور گوادر پورٹ کی صلاحیت کا مکمل ادراک شامل ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں