88

غذر،بوبر سیلابی ریلا،150 مکانات تباہ،3 جاں بحق،5 لاپتہ

غذر (دردانہ شیر)غذر میں سیلابی ریلے نے تباہی مچا دی گاؤں بوبر میں سیلابی ریلے سے ڈیڑھ سو مکانات سیلاب کی نذر جماعت خانہ شہید سیلاب سے بچی کی لاش نکال لی گئی پانچ افراد کے لاپتہ ہونے کی اطلاعات سیلابی ریلے سے لوگوں کی فصلیں اور پھلدار درخت سیلاب کی نذر ہوگئے علاقے میں قیامت صغریٰ کا منظر لوگوں نے پہاڑوں پر چڑہ کر اپنی جانیں بچائی واقعے کی اطلاع پر غذر میں سیلاب کے نقصانات کا جائزہ لینے کے آنے والے صوبائی وزراء سنیر وزیر عبیداللہ وزیر اطلاعات فتح اللہ اور وزیر خزانہ جاوید منوا جائے وقوعہ پہنچ گئے اور متاثرہ علاقے میں ہونے والے نقصانات کا جائزہ لیا اس موقعے پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے صوبائی وزراء کا کہنا تھا کہ متاثرین کی بحالی کے لیے تمام وسائل بروئے کار لانے جائنگے انھوں نے کہا کہ گلگت بلتستان میں حالیہ سیلاب 2010 سے بھی خطرناک ہے اور اب تک دس ارب سے زائد کا نقصان ہوا ہے صوبائی حکومت کے پاس اتنے وسائل نہیں ہیں کہ اتنے پیسے فراہم کرسکے ہم نے وفاقی حکومت سے بھی رقم کی فراہمی کی بات ہے تاکہ متاثرین کی بحالی کے لیے فوری اقدامات اٹھائے جائے صوبائی وزراء نے غذر میں سیلاب سے متاثر ہونے والے علاقوں بھی دورہ کیا غذر میں طوفانی بارشوں نے ہر جانب تباہی مچا دی ہے علاقے کی تین تحصیلوں کا زمینی رابط دیگر علاقوں سے منقطع ہے جبکہ گلگت چترال روڈ بھی مختلف مقامات پر بلاک ہے ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر گاہکوچ میں سیلابی پانی لوگوں کے گھروں میں داخل ہوگیا ہے لوگ محفوظ مقامات کی طرف منتقل ہو گئے ہیں غذر کے گاؤں بوبر میں آنے والا سیلاب غذر کے خطرناک ترین سیلابوں میں سے ایک تھا لوگوں نے پہاڑوں پر چڑہ کر اپنی جانیں بچائی اور خوف کے مارے متاثرین واپس گاؤں کی طرف آنے کو تیار نہیں ہے انتظامیہ نے گاؤں گورنجر میں متاثرین کے رہائش کے انتظامات کئے ہیں فوکس اور مقامی رضاکار متاثرین کو کھانے پینے کا سامان فراہم کر رہے ہیں انتظامیہ کی جانب سے بھیبامدادی سامان فراہم کی گئی ہے اور کئی متاثرین نے اپنے رشتہ داروں کے گھروں میں پناہ لی ہے عینی شاہدین کے مطابق پانچ افراد کے لاپتہ ہونے کی اطلاعات ہیں ایک بچی کی لاش کو سیلابی ریلے سے نکال لی گئی ہیں سیلابی ریلے سے غذر کے بڑے گاؤں بوبر میں قیامت صغریٰ کا منظر تھا اور لوگ اپنی جانیں بچانے کے لیے ہر جانب بھاگ رہے تھے سیلاب سے ڈیڑھ سو سے زائد رہائشی مکانات سیلاب کی نذر ہوگئے ہیں اور لوگوں کی گاڑیاں بھی سیلاب میں بہہ گئی ہیں جبکہ ہزاروں پھلدار و غیر پھلدار درخت بھی سیلاب کی نذر ہوگئے ہیں لوگوں کی کھڑی فصلوں کو بھی سیلاب نے ملیامیٹ کرکے رکھ دیا ہے.

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں