88

کیا گلگت بلتستان میں وفاق پاکستان کے ساتھ انتخابات کرانا ممکن ہے؟

گلگت بلتستان میں وفاق پاکستان کے ساتھ انتخابات کرانا ممکن ہے؟
تحریر: اشفاق احمد ایڈوکیٹ
سوشل میڈیا پر گزشتہ چند دنوں سے چند ایک سیاسی کارکن اور دیگرسوشل میڈیا ایکٹیوسٹ یہ بحث کر رہے ہیں کہ گلگت بلتستان کے انتخابات وفاق پاکستان کے ساتھ ہونے چاہیے کیونکہ اس طرح گلگت بلتستان کے انتخابات پر وفاقی حکومت پاکستان کا اثر ختم ہوگا یہ بات بادی النظر میں کافی پرکشش لگ رہی ہے لیکن گہرائی میں پاکستان کی سیاسی نظام کو دیکھتے ہیں تو یہ دلیل اپنی قوت کھو دیتی ہے چونکہ الیکشن میں دھاندلی یا پولیٹیکل انجینئرنگ تو عام سی بات ہے جس کا اعتراف پاکستان کی تمام سیاسی لیڈر بشمول عمران خان بھی کر رہے ہیں لہذا گلگت بلتستان جیسے سٹریٹیجک اہمیت کے حامل خطے میں آزادانہ انتخابات ہوں اور کسی بھی پاور سنٹر کی مداخلت نہ ہوگی ایسا سوچنا احمقوں کی جنت میں رہنے کے مترادف ہے۔کچھ دوست سوشل میڈیا پر یہ دلیل بھی دے رہے ہیں کہ یہ قومی مفاد میں ہے اس لئے گلگت بلتستان میں مسند اقتدار پر براجمان ممبران اسمبلی اپنے پیروں پر خود ہی کلہاڑی مارے اور اپنی حکومت ختم کرے اور وفاق پاکستان کے ساتھ انتخابات کرانے پر رضامند ہوں اور اپنا سیاسی مستقبل ہمیشہ کے لئے ختم کرنے کا رسک لیں،مگر یہ غلطی کوئی کیوں کر کرے گا؟ کیونکہ اگلی بار یہی لوگ الیکشن جیت جائیں گے اس کی کیا گارنٹی ہے؟ اور تلخ حقیقت یہ ہے کہ گلگت بلتستان میں دوسری مرتبہ الیکشن بہت کم لوگ ہی جیتنے میں کامیاب ہوتے ہیں زیادہ تر لوگ ماضی کے دھند میں غائب ہوجاتے ہیں اور ان کی جگہ نئے لوگ اور نئے چہرے لیتے ہیں۔دوسری اہم بات یہ ہے کہ قانونی اعتبار سے بھی یہ ممکن نہیں ہے کہ وفاق پاکستان یا کوئی عدالت گلگت بلتستان اسمبلی کو قبل از وقت تحلیل کرے۔ یہ ان کے مینڈیٹ میں نہیں ہے۔ گلگت بلتستان آرڈر 2018 میں اسمبلی تحلیل کرنے کا واضح قانون موجود ہے آرٹیکل 41 میں اسمبلی تحلیل کرنے کا طریقہ کار واضح ہے، چیف منسٹر کے کہنے پر گورنر اسمبلی تحلیل کرسکتا ہے یا پھر ورٹ اف نو کانفیڈنس یعنی عدم اعتماد کے زریعے اسمبلی تحلیل کیا جاسکتا ہے یہ دونوں صورتیں موجود معروضی زمینی حالات میں ممکن نظر نہیں آتی ہیں۔دوسری بات گلگت بلتستان نہ ہی ائین پاکستان میں شامل ہے نہ ہی کوئی صوبہ ہے۔نہ ہی 58 2 B کی شق آئین پاکستان میں اب موجود ہے اور دلچسپ بات یہ بھی ہے کہ سپریم کورٹ آف پاکستان کے 2019 کے فیصلے کے بعد اب گلگت بلتستان میں لاگو صدارتی آرڈر میں ترمیم بھی سپریم کورٹ کی اجازت کے بغیر نہیں ہوسکتی ہے۔ اس کی ایک اہم مثال یہ ہے کہ حفیظ سرکار مدت ختم ہونے کے بعد گلگت بلتستان میں نگران حکومت کے قیام اور انتخابات کرانے کے لئے سپریم کورٹ سے اجازت لیا گیا اور پھر صدارتی حکم نامہ کے تحت نگران حکومت بنانے کے بعد گلگت بلتستان میں انتخابات کرائے گئے تھے۔گلگت بلتستان کی موجودہ حکومت کے انتخابات وفاق پاکستان کے ساتھ اس لئے بھی نہیں ہوسکتے ہیں چونکہ یہ علاقہ وفاق پاکستان کا کوئی آئینی صوبہ نہیں ہے جس کے انتخابات دیگر صوبوں کے ساتھ ہوں چنانچہ یہاں آئین پاکستان کا اطلاق دیگر صوبوں کی طرح نہیں ہوتا ہے اور یہ اس وقت تک ممکن نہیں ہے جب تک گلگت بلتستان پاکستان کا باضابطہ آئینی صوبہ نہیں بنتا ہے اور اس کی متنازعہ حیثیت بلکل ختم نہیں ہوتی ہے۔ جو کہ موجودہ بین الاقومی سیاسی معروضی حالات میں ممکن دیکھائی نہیں دیتا البتہ اس کی خواہش کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے۔لہذا اس وقت گلگت بلتستان میں آرڈر 2018 لاگو ہے اور دلچسپ بات یہ ہے کہ گلگت بلتستان کی موجودہ حکومت آرڈر 2018 کے آرٹیکل 35 (3) کے تحت 5 سال کے لئے منتخب ہوئی ہے لہذا اس سے قبل از وقت ختم کرنے کا کوئی قانونی گنجائش نہیں سوائے ورٹ اف نو کانفیڈنس کے اور چند ماہ قبل اپوزیشن جماعتیں بھر پور کوششوں کے باوجود اس میں بھی بری طرح ناکام ہوئی اور یہ ایک تلخ حقیقت ہے۔چنانچہ اب فرض کریں اگر وفاقی حکومت گلگت بلتستان میں ایک نیا صدارتی حکم نامہ لاگو کرنے کی کوشش کرتی ہے تو اس کے لئے بھی سپریم کورٹ سے اجازت لینا درکار ہے اور اس صورت میں بھی موجودہ حکومت اپنی مدت پوری کرے گی کیونکہ گلگت بلتستان جیسے اہم سٹرٹیٹجک علاقے میں ایک منتخب حکومت کو خلاف قانون ختم کرکے اضطراب اور سیاسی کرائسس پیدا کرنے کا مطلب اپنے پیروں پر کلہاڑی مارنے کے مترادف ہے اور ایسا کرنا ریاست کے مفادات پر کاری ضرب لگانے کے مترادف ہے لہذا اس طرح کی حماقت کا کوئی جواز موجود نہیں ہے نہ ہی ایسا ممکن ہے لہذا جو لوگ بھی گلگت بلتستان کے انتخابات وفاق پاکستان کے ساتھ کرانے کے خواہشمند ہیں ان کو برصغیر کے مشہور شاعر اسد اللہ خان غالب کے اس شعر کو دوبارہ پڑھ کر صبر کرنا چاہیے کہ
”ہزاروں خواہشیں ایسی کہ ہر خواہش پہ دم نکلے
بہت نکلے مرے ارمان لیکن پھر بھی کم نکلے۔،،
حاصل گفتگو یہ ہے کہ یہ حکومت پانچ سال مکمل کرے گی اور آنے والے سالوں میں جو بھی سیاسی جماعت گلگت بلتستان کو عبوری صوبہ بنانے کی کوشش کرے گی اور اگر کامیاب ہو بھی جاتی ہے تو عوام گلگت بلتستان یہ یاد رکھیں کہ وہ جماعت یا لیڈران اپنے پیروں پر اور گلگت بلتستان کے عوام کے سر پر کلہاڑی ماریں گے۔ کیونکہ مسئلہ کشمیر کی وجہ سے اصلی صوبہ تو بن نہیں سکتا اور عبوری صوبہ کی صورت میں صرف 3 افراد کو سینٹ اور 3 کو قومی اسمبلی میں نمائندگی ملے گی جبکہ عوام پر ٹیکسز کا بوجھ لاگو ہوگا اور چند سالوں میں گلگت بلتستان کی ڈیموگرافی بھی مکمل تبدیل ہو جائے گی۔ لہذا عقل مندی کا تقاضا یہ ہے کہ گلگت بلتستان میں سٹیٹ سبجیکٹ رول کی بحالی کے ساتھ داخلی خودمختاری کے لئے آواز بلند کیا جائے اور آئین پاکستان کے آرٹیکل 257 پر عمل درآمد کرتے ہوئے گلگت بلتستان کو لوکل اتھارٹی یعنی آزاد کشمیر طرز کا سیٹ ا پ دیا جائے یہ واحد حل ہے جو تا تصفیہ کشمیر تک گلگت بلتستان کی شناخت اور وسائل کو تحفظ فراہم کرسکتا ہے اور ہاں عبوری بھائیوں کے لئے ایک اچھی خبر یہ ہے کہ جب کشمیر پاکستان بن گیا تو گلگت بلتستان کو اصلی آئینی صوبہ بھی بنا سکتے ہیں یا پھر کے پی کے کا ایک ضلع لیکن یہ اس وقت کے حالات پر منحصر ہوگا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں