134

بے نقابیوں کا موسم

بے نقابیوں کا موسم
ڈاکٹر ذاکر حسین ذاکرؔ
بلتستان میں خزان رُت کی پت جھڑموسم میں جہاں درختوں کی شاخیں آہستہ آہستہ بے نقاب ہو رہی ہیں ،وہیں ملک میں افراد،گروہ ،پارٹیز،ادارے یہاں تک کہ پردہ دار شعبہ جات بھی بے نقاب ہو رہے ہیں یا انہیں بے نقاب کیے جارہے ہیں۔کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ یہ لاڈلوں کی بے نقابی کا موسم ہے تو کچھ دیگر لوگوں کا خیال ہے کہ بے جا لاڈ کرنے والوں کی بے نقابی کا موسم ہوا چاہتا ہے۔
پردہ پردہ ہے،اور اسلام میں پردہ واجب ہے۔پردہ داری خدائی صفات میں شامل ہیں۔اگرکوئی فرد یا گروہ پردہ داری کی بجائے پردہ دَری پر اُتر آئے تو لازمی ہے،ان کی پردہ داری کون کرے گا ؟
جب گھنے بادلوں کا نقاب اٹھتے ہیں تو ممکن ہے کہیں آفتاب عالم تاب طلوع ہو، کہیں ماہتاب بدلیوں سے نکل آئے۔کہیں حسین چہرے منظر عام پر آئیں تو کہیں انسانی کھالوں میں ملبوس بھیڑئیے بے حجاب ہو جائیں۔لازمی بات ہے ایسے میں کبھی حیرت،کبھی مایوسی اور کبھی خوشگواری کے ساتھ تجسس میں مزید اضافہ ہوتا ہے کہ اگلے پردے کے پیچھے کیا سین ہوگا۔
میں اندازہ کر سکتا ہوں کہ آپ کے تجسس میں بھی کافی اضافہ ہوا ہوگا میں کیا کہنا چاہ رہا ہوں۔آج سے بیس تیس سال قبل سات پردوں کے پیچھے کار فرما اداکاروں اور ڈائریکٹرز کی ایک کہانی سنی تھی۔مجھے لگتا ہے کہ آج کے بے نقابی کی موسم نےپانچویں چھٹے پردے تک اُٹھا دیے ہیں اور اُمید ہے آخری پردے بھی جلد اُٹھ جائیں گے۔
اس پورے ڈرامے میں آپ مختلف پردوں کے پیچھے موجود کئی نیک نیت،کئی پر خلوص، غیر دانستہ ، کئی مفاد پرست اور کہیں کہیں دانستہ اور اکِا دُکا اصل مہرے نظر آئیں گے جن کی شناخت صرف ماہرمہرے شناس ہی کر سکتے ہیں۔ یہ مہرے مجمع میں اس طرح گم ہوتے ہیں جس طرح کوئی شوقیہ کلا کار لانگ مارچ کے مجمع میں۔خواہ وہ کلا کاری گلا پھاڑ تقریر کی صورت میں ہو یا دلرُبا گانوں کی صورت میں ۔
سات پردوں والی کہانی کا مختصر خلاصہ بھی ضروری ہے تاکہ اصل مدعا کےقریب پہونچ سکے۔
کہانی کچھ یوں ہے کہ پاکستان کے ایک شہر میں ایک مولوی کم و بیش ہر محفل میں ایک انتہائی متنازعہ تاریخی واقعی سنایا کرتا تھا جو فرقہ واریت کوبڑھکانے کا ایک مؤثر طریقہ تھا۔ایک ہوشیار آدمی نے اس عادت کا پیچھا کیا تو معلوم ہوا کہ ساتواں آدمی کوئی صہیونی ملٹی نیشنل کارندہ تھا۔بیچ میں سادہ لوح مولوی سمیت ایک ٹھیکدار،ایک بیورو کریٹ اور تاجر سمیت کئی افراد شامل تھے جن میں کئی غیر دانستہ اور کئی دانستہ مہرے ، کارندے اور سرغنے شامل تھے۔لگتا ہے اس وقت پاکستان میں بھی یہ مہرے درجہ بدرجہ اپنی کاروائیوں میں مصروف ہیں ۔
پاکستان وہ ملک ہے جس نے آج تک صیہونی ریاست کو تسلیم نہیں کیا، اور پاکستانی پاسپورٹ اسرائیل کے لیے استعمال نہیں ہو سکتی۔ اس سے پاکستان اور صیہونی ریاست کی ازلی رقابت کا اندازہ کیا جا سکتا ہے۔ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ اسرائیل کی ریاست اپنی آبادی اور وسائل کی نسبت سب سے منظم اورطاقتور ریاست ہے جس کی پشت پناہی میں بڑی طاقتیں اور ملٹی نیشنلز شامل ہیں۔ وہ ملٹی نیشنلز جن کا بجٹ ہمارے ملکی بجٹ سے زیادہ ہیں۔ ایسے میں واحد اسلامی نیوکلئیر قوت کا انکھوں میں کھٹکنا صیہونی لابی کا فطری رد عمل بلکہ اصل عمل ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ پاکستان میں وہ کون ہے جو کسی صیہونی لابی کی مفادات کو فروغ دے۔ یقیناً دیدہ و دانستہ یا کھل کر کوئی بھی نہیں۔ ایک لاکھ میں ایک مہرہ یا کارندہ ہوسکتا ہے جو وقعی دیدہ و دانستہ مفادات کے لئے ایسی کاروائیوں میں ملوث ہوں ، باقی ہزار میں ایک نادانستہ طورنہایت خلوص اور نیک نیتی سے ان کے آلہ کار ہوں گے اور ان کو پتہ بھی نہیں ہوگا کہ پُر کشش نعروں کی اصل خالق کون ہیں اور ان کے پیچھے کیا مقاصد کار فرما ہیں۔ ان باتوں کا جائزہ انتہائی عرق ریزی کے ساتھ تحقیق سے ممکن ہے جوہمارے عوام کے بس کی بات نہیں۔ چند ایک تجزیہ کار محقق ان باتوں کا ادراک کرپاتے ہیں لیکن جذباتی نعروں اور عوامی ردِّعمل کی دھندمیں ان کا کون سنتا ہے۔ہماری میڈیا پر تبصرہ نگار بہت ہیں، اصل تجزیہ نگار بہت کم جو واقعی کسی معاملے کی اصل تہہ تک پہونچ کر جائزہ پیش کرتے ہیں۔ ایسے میں ایک حل تو یہ ہے کہ ہم یا تو قومی سطح کی تفتیشی اور تحقیقی اداروں پر انحصار کریں یا خودکسی فرد یا پارٹی کی مسلمہ کیس ہسٹری کا بغور مطالعہ کریں تب کہیں جاکر معلوم ہوگا کہ کس کے ڈانڈے کہاں سے ملتے ہیں۔ ہم کسی بھی فرد کو یوں ہی دانستہ یا نا دانستہ کسی بیرونی ایجنڈے کا آلہ کارقرار نہیں دے سکتے۔ البتہ بندے کی جوانی، ادھیڑ عمری ، ماضی کی سرگرمیاں ، روابط، ذرائع آمدن، کبھی کبھار جوشِ خطابت یا مستی میں زبان سے پھسلتے جملے اور باڈی لینگویج جو کسی کی تحت الشعور میں بسے باتوں کی نشاندہی کرتی ہیں، گنجلک ڈوریوں کی سِرے تک رسائی میں مددگار ہوتی ہیں۔ اسی طرح کسی کی خوشی پر خوش ہونے اور کسی کی تکلیف پر اس سے زیادہ تکلیف میں مبتلا ہونے کی کیفیات بھی تعلقات اور وابستگیوں کی نشاندہی کرتی ہیں۔
پاکستان میں جب بھی کوئی ادارہ، پارٹی، گروہ، یا شعبہ ذیر ِعتاب آیا ہے یا اس سے ملک کو نقصان پہنچا ہے تو وہ مطلق العنان افراد کی ذاتی فیصلوں ، رویوں ، اور مسلط کردہ پالیسیوں کی وجہ سے ہوا ہے ۔ اسی لئے اصولی طور پر جمہوریت بہترین انتقام ہے، کیونکہ جمہوریت میں ڈیکٹیٹرز کے فیصلے نہیں ہوتے اور یوں نہ تو بہت اوپر جاتا ہے، نہ بہے نیچے گِر جاتا ہے ، کیونکہ مختلف اذہان کے مل کر فیصلے کرنے سے نقصان کا امکان کم سے کم رہ جاتا ہے بشرطیکہ جمہوری فیصلے تحریری صورت میں کہیں اور سے فراہم کردہ ہدایات پر مشتمل نہ ہوں۔
ہم سب کو معلوم ہے کہ موجودہ موبائل ٹیکنالوجی کی دور میں چند سیکنڈز کی بے حجابی بھی کسی کو بے نقاب کرنے کے لیے کافی ہیں ، کیونکہ’’ کیمرے کی آنکھ آپ کو ہر جگہ دیکھ رہی ہے‘‘۔بہتر یہی ہے کہ بے نقابی کی اس موسم میں اپنے اپنے کردار کو سو فیصد با پردہ رکھیں ورنہ ایک فیصد بے پردگی بھی بندے کو بے نقاب کرنے کے لیے کافی ہوگا۔
یوں بے نقابیوں کی موسم ِخزان میں ، ہوا کا کوئی ہلکا سا جھونکا بھی سینکڑوں پتوں کو گرا کر کسی گھنے درخت کی شاخوں اور تنوں کو بے نقاب کرنے میں دیر نہیں لگاتی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں