123

آغا خان ہیلتھ سروس، پاکستان نے آئی ایچ ایف ایوارڈز 2022 میں سلور ایوارڈ جیت لیا

ہیلتھ سروس کو یہ ایوارڈسنہ 2023ء تک کاربن کے نیٹ زیرو اخراج کے اہداف کے حصول کے لیے گئے اقدامات
کے اعتراف پر دیا گیا ہے۔
اسلام آباد(نمائندہ بانگ سحر)دبئی، متحدہ عرب امارات، 14نومبر،2022:آغا خان ہیلتھ سروس، پاکستان(AKHS,P)، آغا خان ڈیویلپمنٹ نیٹ ورک (AKDN) کی ایک ایجنسی ہے جس نے انٹرنیشنل ہاسپٹلز فیڈریشن (IHF) ایوارڈز 2022 میں گرین ہسپتالوں کے لیے اشیکاگا نیکن ایکسی لینس ایوارڈز (Ashikaga-Nikken Excellence Awards) کی کیٹگری میں سلور ایوارڈ جیت لیا ہے۔انٹرنیشنل ہاسپٹلز ایوارڈز کا آغاز سنہ2015ء میں ہوا تھا اور دنیا بھر میں یہ ایوارڈزہسپتالوں اور طبی خدمات فراہم کرنے والے اداروں کو سراہنے والے ایک اہم پروگرام کے طور پر تسلیم کیے جاتے ہیں۔ آغا خان ہیلتھ سروس، پاکستان کو سلور ایوارڈ دبئی، متحدہ عرب امار ات، میں منعقدہ 45ویں آئی ایف ایچ ورلڈ ہسپتال کانگریس کے دوران ایوارڈز کی خصوصی تقریب میں نوازا گیا۔اس ایوارڈ کا مقصد ایجنسی کے موجودہ اقدامات اور 2030تک کاربن کے اخراج کو نیٹ زیرو تک لانے کے لیے کیے گئے عہد کو تسلیم کرنا تھا۔
عالمی ادارہ صحت (WHO) کے ایک تخمینے کے مطابق،پاکستان میں خارج ہونے والے کاربن کا 4فیصد اخراج میں ہیلتھ آپریشنز سے ہوتا ہے۔ محتاط اندازوں کے مطابق، کم اور درمیانہ آمدنی والے ممالک میں طبی نظام،گرین ہاؤس گیس کے اخراج میں 3-5 فیصد تک سبب بنتے ہیں۔اس بات کے پیش نظر، AKDNنے دنیا بھر میں اپنے کاربن فٹ پرنٹ میں کمی کو ترجیح دی ہے۔ آغا خان ہیلتھ سروس، پاکستان بھی AKDNکے اِس عزم میں شریک ہے تاکہ سنہ 2030ء تک کاربن کے اخراج کو نیٹ زیرو تک لایا جا سکے اور اِس کے لیے یہ ملک بھر میں اپنی ہیلتھ کیئر کی 113سے زائد سہولتوں میں موسمی ایجنڈے پر راہنمائی کر رہی ہے۔
آغا خان ہیلتھ سروس، پاکستان کے زیرنگرانی،ملک میں،کام کرنے والی صحت کی سہولتوں میں گیس کے اخراج اور فضلے (waste)پر 60 فیصد تک کنٹرول کیا گیا ہے۔ایئر کنڈیشنرز اور ریفریجریٹرز کی بڑی تعداد کو ماحول دوست گیسوں کے استعمال پر منتقل کر دیا گیا ہے جبکہ تمام دفاتر اور سہولتیں توانائی کے استعمال میں بچت کرنیوالی لائٹوں اور، بعض صورتوں میں، شمسی توانائی پر منتقلی کے عمل میں ہیں۔ اسی طرح، سفر کے لیے ٹیکنالوجی کے استعمال کے ذریعے بھی اخراج میں نمایاں کمی کی گئی ہے اور ویسٹ مینجمنٹ کے لیے بھی مؤثر طریقے کار اپنائے گئے ہیں۔
دور دراز وادیوں میں،جہاں ہیلتھ کیئر تک فاصلے بہت زیادہ ہیں،یا ایسے دیہاتوں میں جہاں متبادل سہولتیں دستیاب نہیں ہے، آغا خان ہیلتھ سروس، پاکستان نے مریضوں کا ٹیلی کنسلٹیشنز کے ذریعے ایسے ڈاکٹروں کے ساتھ رابطہ ممکن بنایا ہے جو شہری علاقوں میں دستیاب صحت کے جدید اداروں میں کام کر رہے ہیں ۔ اِس سے نہ صرف مریضوں کے لیے وقت اور پیسے کے استعمال میں کمی ہوتی ہے بلکہ سفر کی ضرورت میں کمی سے اخراجات بھی کم ہوتے ہیں ۔ طبی سہولیات بھی اِس طرح تعمیر کی جارہی ہیں جن سے ماحول کو پہنچنے والے نقصانات کو کم سے کم کیا جا سکے اور وہ مؤثر انداز میں کام کر سکیں۔
نقصان دہ اخراج میں کمی کی اہمیت پر تبصرہ کرتے ہوئے آغا خان ہیلتھ سروس، پاکستان کے چیف ایگزیکٹو آفیسر،جناب ندیم عباس نے کہا:” ہم سب نے براہ راست دیکھا ہے کہ کس طرح گزشتہ چند برسوں کے دوران موسمی تبدیلیوں نے پاکستان کو متاثر کیاہے۔حالیہ سیلابوں کے بعد ہونے والی گفتگو میں زیادہ ترموسمی تبدیلیوں پربات ہوتی ہے اور یہ صحیح بھی ہے۔آغا خان ہیلتھ سروس، پاکستان سنہ 2030ء تک کاربن کے نیٹ زیرو کا ہدف حاصل کرنے کے لیے پر عزم ہے۔ہم حکومت اور اپنے پارٹنرز کے ساتھ ملک کر کام کرتے رہیں گے تاکہ موسمی تبدیلیوں کے اثرات کو روکنے کی غرض سے کیے جانے والے اقدامات کو وسعت دی جا سکے۔“

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں