105

رزق کی تنگی کیوں؟

رزق کی تنگی کیوں؟
خالد غورغشتی
ہر ذی روح شے کو تادم مرگ رزق دینے کا وعدہ خالق کائنات نے اپنے غیبی خزانوں سے کیا ہوا ہے۔ اللہ ہی ہمارا خالق، مالک اور رازق ہے۔ وہی مشکل کشا، حاجت روا اور ہر قسم کی مشکلات کو ٹالنے والا ہے۔ جو ذی روح شے دنیا میں آئی اللہ نے اسے کسی نہ کسی ذریعے سے ہر حال میں رزق بہم پہنچانا ہے۔ آج ہم پر مہنگائی، قحط سالی اور رزق کی تنگی نے چاروں طرف ڈیرے جمائے ہوئے ہیں۔ یہ سب ہمارے گناہوں اور بداعمالیوں کی سزائیں ہیں جو ہم بھگت رہے ہیں۔ کیوں کہ جس قوم میں بےحیائی اور حق تعالی کی نافرمانیاں سرعام ہوجائیں اور انھیں کوئی روکنے والا نہ ہو تو اس پہ رزق کی تنگیاں عام کردی جاتی ہیں۔ بحثیت مسلمان ہمارا یہ ایمان ہونا چاہیے کہ جتنا رزق ہمارے مقدر میں لکھا ہے ضرور مل کر رہے گا لیکن اس کے لیے بھاگ دوڑ اور محنت مزدوری شرط ہے۔ ہمارے دین نے کسب حلال کو عین عبادت قرار دیا ہے۔ صبح جلدی اٹھ کر کام پہ نکلنا اور رات جلدی سونا یہ اسلام کے زریں اصول ہیں۔ لیکن ہم رات بھر موبائل پہ لگے رہتے ہیں اور صبح دیر سے جاگتے ہیں تو ہمارے گھروں میں کہاں سے برکتوں کا نزول ہو۔ آج ہمارے پاس نعمتوں کی فراوانی کے باوجود بھی رزق میں کشادگی کی بجائے تنگی کیوں ہے۔ اس کی بہت ساری وجوہات ہیں۔ میرے نزدیک تو ہم نے مخلوق میں بانٹنا ترک کر دیا ہے اس لیے ہم پر رزق کے دروازے تنگ ہوتے جارہے ہیں۔ آج سے چند دہائیاں پہلے آپ کو یاد ہو تو کھانا ایک گھر میں بنتا تھا اور پورا محلہ کھاتا تھا لیکن اس کے باوجود بھی کھانا اگلے دن کےلیے بچ کر رہ جاتا تھا۔ آپ کو یاد ہوتو ایک گھر میں کنواں ہوتا تھا پورا محلہ پانی بھرتا تھا لیکن مجال کہ کنویں کا پانی کبھی کم یا مٹھاس میں کبھی فرق آیا ہو۔ بلکہ مجھے یاد پڑتا ہے گرمیوں میں کنویں کا پانی ہم پیتے جاتے تھے اور تروتازہ پانی کے ذائقہ سے پیٹ کو لبریز کرتے چلے جاتے تھے۔ اب تو ہر گھر میں بور ہے لیکن نہ پانی کا ذائقہ ہے نہ لذت نہ وہ پہلے جیسی مٹھاس ہے۔ ہر گھر میں سات رنگ کے کھانے پکتے ہیں ہر گھر میں بازاری کھانوں کی بھرمار ہے لیکن نہ وہ پہلے جیسے سادہ مگر لذیذ کھانوں ساگ اور لسی جیسا کہیں مزہ ہے نہ وہ لسی کی بنی کڑھی جیسا کہیں مزہ ہے۔ کھانا کھانے والے ذائقوں کی تلاش میں بڑے بڑے ہوٹلوں میں گھومتے ہیں، لیکن وہ گھر کی روکھی سوکھی دال روٹی جیسی لذت اب کہاں ہے؟ بالا آخر چٹ پٹے اور مصالحے دار کھانے کھا کھا کر لوگ معدے، جگر اور السر کے مریض بن چکے ہیں۔ آج کل ہم نے جو سب سے بدترین کام شروع کیا ہوا ہے وہ کھانے پینے کی اشیاء کی ذخیرہ اندوزی ہے۔ ہمارے گھر کی فریجوں میں سات رنگ کے کھانے پڑے خراب ہورہے ہیں لیکن ہم ان کو بانٹنے کا مزاج نہیں رکھتے ہیں۔ مذکورہ بالا سطور پر غور وتدبر کیجیے کہ کیا واقعی میں تو ہم کھانے پینے کی اشیاء کے ذخیرہ اندوزی کے جرم کے مرتکب تو نہیں ہورہے ہیں۔ اگر واقعی میں ایسا ہے تو بچا ہوا کھانا آج سے ہی نالیوں، کوڑا کرکٹ کے ڈھیروں میں پھینکنے یا فریج میں رکھنے کی بجائے اردگرد بانٹنا شروع کردیجیے اس کی برکتیں آپ خود آنکھوں سے دیکھ لیں گے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں