54

پاکستانی معیشت مزید نقصان کی متحمل نہیں ہوسکتی

حالیہ دنوں میں یہ نظر آرہا ہے کہ اسلام آباد یا لاہور میں چار مسافر بھی اکٹھے ہوں تو دفعہ 144 کے تحت انہیں پولیس کی گرفت میں لیا جاتا ہے مگر اسی دوران پی ڈی ایم کا سپریم کورٹ کے باہر دھرنے کے لئے آنا حیران کن اور افسوسناک ہے اس دھرنے کیلئے نہ انتظامیہ سے اجازت لی گئی اور نہ ہی حکومت نے دفعہ 144 ہٹانے کا کوئی اعلان کیا اور نہ ہی کوئی نوٹیفیکیشن جاری کیاہوا۔ دھرنے میں تقاریر کے دوران مریم نواز نے کہا کہ ایک گملا بھی نہیں ٹوٹے گا دھرنے کی وجہ سے اسلام آباد میں قائم ریڈ زون کے سیکورٹی گیٹ ٹوٹ گئے، دروازوں کو پھلانگا گیا جس کی ویڈیو وائرل ہے اورلشکر سپریم کورٹ کے باہر پہنچ گئے جیسے کسی دشمن پر حملہ کرنے آرہے ہوں پی ڈی ایم کے لشکر پرنہ کسی نے رکاوٹ ڈالی ، نہ لاٹھی چلی نہ گولی چلی اور نہ ہی آنسو گیس کا استعمال ہوا۔ عمران خان کی گرفتاری کے بعد وطن عزیز میں آگ لگا دی گئی ۔ کیا عجیب اتفاق ہے کہ اس آگ نے صرف فوجی عمارتوں کا رخ کیا، اس آگ نے نہ تو مریم اورنگزیب یا رانا ثناءاللہ کے گھر کا رخ کیا اور تو اور حکمرانوں کے محلات محفوظ رہے مگر لاہور کے کور کمانڈر کا گھر محفوظ نہ رہ سکا مگر اس سیاسی رسہ کشی میں پاک فوج اور عدلیہ کو دھمکایا جارہا ہے اس لیے ہمارے ملکی سلامتی کے اداروں کو سازش کی تہہ تک جانا چاہیے اور جو جو بھی اس گھنائونی سازش میں ملوث ہے اسے سنگین سزا دینی چاہئے ۔ اس پر تشدد ماحول کے دوران چند صحافیوں اور نوجوان لڑکے لڑکیوں پر مشتمل یوٹیوبرز کو بھی گرفتار کیا گیا ۔میری تو کچھ سمجھ میں نہیں آرہا کہ وطن عزیز کس سمت جا رہا ہے، ادارے آپس میں اُلجھ پڑے ہیں، سیاستدان آپس میں گتھم گتھا ہیں، سکیورٹی ادارے کشمکش کا شکار ہیں، الیکشن کمیشن محتاجی کی حالت میں ہے، عدلیہ اور اسٹیبلشمنٹ کو ہر کوئی کھلے چیلنج اور دھمکیاں دے رہا ہے۔ کوئی سیاست کی الف ب بھی جانتا ہو تو اسے یہ پتا چل جائے گا کہ یہ یقیناً الیکشن ملتوی کرانے کے حربے ہیں۔چیف الیکشن کمیشن نے الیکشن کرانے والے عملے کی ٹریننگ وغیرہ تک کرادی۔مگر الیکشن ہوتے دکھائی نہیں دے رہے۔ملک کتنے بھیانک معاشی دور سے گزررہا ہے، لیکن ہم ذاتی مفادات کو ہوا دے کر اپنی ذاتی لڑائیاں لڑنے میں مصروف ہیں۔اب دفعہ 144کے باوجود پی ڈی ایم نے مظاہرہ کر ڈالا۔مگر اب پی ڈی ایم کے لیے یہ جرم نہیں ہے! اب کہیں سے کوئی شیل فائر نہیں ہوا، نہ ہی کہیں سے فائر کی گونج سنائی دی ہے۔ویسے اب دیکھنا یہ ہے کہ مریم نواز سمیت بہت سے سیاسی قائدین اپنے اپنے ورکرز کے ساتھ ریڈ زون میں موجود ہیں تو حکومت ایسے میں کس کس پر مقدمہ درج کرتی ہے۔ اور ویسے بھی دفعہ 144کا نفاذ نہ بھی ہو تب بھی ریڈ زون میں بغیر اجازت جانا جرم ہے۔ ہر روز ہم پر ایک نیا عذاب مسلط کیا جا رہا ہے، ہمارے دماغ بند ہو چکے ہیں اور سمجھ نہیں آرہا کہ آگے اس ملک میں کیا ہوگا؟سیاستدان اپنی اس لڑائی میں پاکستان کو بھول بیٹھے ہیں حالانکہ اگر پاکستان ہے تو ہم ہیں، اگر پاکستان نہیں تو کوئی نہیں۔ اگر ہم بکھر گئے تو ہمیں کوئی نہیں سنبھالے گا بلکہ دشمن ہمارے اوپر مسلط ہو جائیں گے ۔ لہٰذاابھی بھی کچھ نہیں بگڑا سیاستدانوں کو مل بیٹھنے کاالیکشن کا حل نکالنا چاہئے۔ معاشی طور پر ہم تباہ ہو رہے ہیں،اس لیے الیکشن کروادینے چاہئیں۔ جو بھی اقتدار میں آتا ہے، اُسے کرسی کی ایسی لت لگتی ہے کہ وہ کہتا ہے کہ بس اب یہی جنت ہے۔ حالانکہ کرسی ہو عہدہ ہو یا کوئی بھی ذمہ داری ہو یہ امانت ہوتی ہے جس کا حساب دنیا و آخرت میں دینا پڑتا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں