112

شہباز شریف 201 ووٹ لے کر وزیر اعظم پاکستان منتخب

سنی اتحاد کونسل کے امیدوار عمر ایوب نے 92 ووٹ حاصل کیے،جے یو آئی ف اور اختر مینگل کاوزیر اعظم کے انتخاب میں حصہ لینے کا بائیکاٹ
اسلام آباد(نمائندہ خصوصی)مسلم لیگ ن کے صدر اور اتحادی جماعتوں کے نامزد امیدوار شہباز شریف دوسری بار پاکستان کے وزیراعظم منتخب ہوگئے۔پاکستان مسلم لیگ ن کے شہباز شریف نے 201 ووٹ جبکہ سنی اتحاد کونسل کے امیدوار عمر ایوب نے 92 ووٹ حاصل کیے۔ جے یو آئی ف اور اختر مینگل نے وزیر اعظم کے انتخاب میں حصہ لینے کا بائیکاٹ کیا اور ووٹ کاسٹ نہیں کیا۔قومی اسمبلی کے ایک گھنٹہ تاخیر سے شروع ہونے والے اجلاس کی صدارت سپیکر سردار ایاز صادق نے کی، اجلاس کے دوران اراکین قومی اسمبلی نے ووٹنگ کے ذریعے نئے قائد ایوان کا انتخاب کیا۔جے یو آئی کے اراکین وزیراعظم کے انتخاب کی کارروائی کا حصہ نہ بنے اور قومی اسمبلی ہال کے دروازے بند ہونے سے قبل جے یو آئی کے اراکین ہال سے باہر چلے گئے جبکہ سردار اختر مینگل ایوان میں بیٹھے رہے اور انہوں نے کسی کو بھی ووٹ کاسٹ نہیں کیا۔سیکرٹری قومی اسمبلی نے ووٹوں کا ریکارڈ سپیکر کو پیش کر دیا۔بعدازاں سپیکر قومی اسمبلی نے نتائج کا اعلان کرتے ہوئے بتایا کہ میاں شہباز شریف 201 ووٹ لے کر قائد ایوان منتخب ہوئے جبکہ مدمقابل عمر ایوب خان نے 92 ووٹ حاصل کئے ہیں۔قبل ازیں اجلاس میں شرکت کیلئے قائد مسلم لیگ (ن)نواز شریف، صدر ن لیگ شہباز شریف، چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری، صدر پاکستان پیپلزپارٹی پارلیمنٹرینز آصف علی زرداری، خواجہ آصف، حمزہ شہباز اور دیگر اراکین قومی اسمبلی ایوان پہنچے، سنی اتحاد کونسل کے اراکین کی بڑی تعداد بھی ایوان میں موجود تھے۔نوازشریف اور شہباز شریف کی ایوان میں آمد پر اراکین نے شیر شیر کے نعرے لگائے اور ڈیسک بجا کر استقبال کیا۔اجلاس کے دوران مسلم لیگ نواز کے رکن اسمبلی جام کمال نے حلف اٹھایا جبکہ سپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق نے ان سے حلف لیا۔اجلاس کے دوران سنی اتحاد کونسل کے اراکین کی جانب سے شدید احتجاج کیا گیا اور اراکین نے اپنے ہاتھوں میں بینرز بھی اٹھا رکھے تھے ، اراکین نے سپیکر ڈائس کا گھیراو کرتے ہوئے بانی پی ٹی آئی کے حق میں نعرے بازی کی ۔واضح رہے کہ حکمران اتحاد کی جانب سے وزارت عظمی کے منصب کیلئے شہباز شریف امیدوار تھے جبکہ سنی اتحاد کونسل کی جانب سے عمر ایوب خان ان کے مدمقابل تھے، شہباز شریف کو پیپلزپارٹی، ایم کیو ایم ، آئی پی پی اور دیگر جماعتوں کی حمایت حاصل رہی جبکہ جے یو آئی نے وزیراعظم کے انتخاب کا بائیکاٹ کیا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں