84

خواتین کوبااختیار بنانا حکومت کی پالیسی،وزیر اعلیٰ

تمام ڈویژنز میں وویمن ڈویلپمنٹ ڈائریکٹوریٹ، 34 تحصیلوں میں سکل ڈویلپمنٹ سینٹرزو آئی ٹی شعبے قائم،23 ہزار خواتین کو بااختیاربنایاگیا
کابینہ میں دو خواتین کو نمائندگی دی، حاجی گلبر خان، گلگت بلتستان وومن امپاورمنٹ پالیسی سٹرٹیجی اینڈ ایکشن پلان 2024-29 کا افتتاح

گلگت(بانگ سحر رپورٹ)وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان حاجی گلبر خان نے عالمی یوم خواتین کے حوالے سے منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ 8 مارچ کو عالمی یوم خواتین کے طور پر منایا جاتا ہے بلکہ اس دن کو خواتین کے حقوق کی تحریک میں ایک مرکزی نقطہ کے طور پر منایا جاتا ہے، جو صنفی مساوات، تولیدی حقوق اور خواتین کے خلاف تشدد اور بدسلوکی جیسے مسائل پر توجہ دلاتا ہے۔اسلام میں خواتین کو اعلیٰ مقام اور مرتبہ حاصل ہے۔ قرآن پاک کی آیت کا ترجمہ ہے کہ:(عورتوں کے لیے بھی معروف طریقے پر ویسے ہی حقوق ہیں، جیسے مردوں کے حقوق اُن پر ہیں البتہ مردوں کو اُن پر ایک درجہ حاصل ہے)۔عورت معاشرے کا اہم کردار ہے جس کے بغیر گھر ویران ہے اور معاشرہ سنسان ہے۔ بطور مسلمان جب ہم قرآن و حدیث اور حضرت محمد کی زندگی کا مطالعہ کرتے ہیں تو ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ عورت کے بھی طے شدہ حقوق ہیں، اسلامی اقدار اور علاقائی روایت میں رہتے ہوئے تعلیم کا حصول ایک عورت کیلئے بھی اتنا ہی ضروری ہے جتنا ہمیں ہے۔ حکومت گلگت بلتستان عورتوں کے اس عالمی دن کو مناتے ہوئے اس عزم کا اظہار کرتی ہے کہ ہماری حکومت خواتین کے حقوق کے تحفظ اور انہیں بااختیار بنانے کیلئے کوشاں ہے، خواتین کے مسائل کو کم کرنے سمیت انکو زندگی کی دوڑ میں یکساں مواقعوں کی فراہمی ہماری حکومت کا اولین ایجنڈا ہے، آج کا دن ان خواتین کو بھی یاد کرنے کا موقع فراہم کرتا ہے جنہوں نے امت مسلمہ کی تشکیل اور اس کی ترقی میں اہم کردار ادا کیا۔عورت کی رائے کا احترام اور انکو معاشرے کا باوقار شہری بنانے کیلئے موجودہ حکومت پرعزم ہے اس سلسلے میں حکومت گلگت بلتستان نے کم وقت میں خواتین دوست پالیسیوں کے ذریعے گلگت بلتستان میں خواتین کو بااختیار بنانے کیلئے بہت سارے منصوبوں پر کام کا آغاز کر چکی ہے اور گلگت بلتستان کے تمام ڈویژنز میں وویمن ڈویلپمنٹ ڈائریکٹوریٹ کا قیام عمل میں لایا گیا، اس کے علاؤہ گلگت بلتستان کے 34 تحصیلوں میں چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری مراکز کیلئے سکل ڈویلپمنٹ سینٹرز اور آئی ٹی کے شعبے قائم کئے ہیں جس سے خواتین کو روزگار کی فراہمی کیلئے ایک متبادل راستہ ملے گا اور یہ خواتین خودمختاری کی طرف گامزن ہوں گی اور اب تک 23000 ہزار خواتین کو اس سلسلے میں بااختیار بنایا جاچکا ہے۔ میں بطور وزیر اعلی گلگت بلتستان اپنے وسائل میں رہتے ہوئے زیادہ سے زیادہ توجہ خواتین کی نشونما اور انکے مسائل حل کرنے پر مرکوز رکھوں گا، میں یقین دلاتا ہوں کہ عورت بھی اس طرح کی اہمیت رکھتی ہے جس طرح ہم ہیں بلکہ عورت تو ماں، بہن،بیٹی اور بیوی جیسے مقدس رشتوں کا نام ہے جس کی عظمت کا اعتراف مزہب،اخلاقیات، دستور اور اقدار سب ملکر کرتے ہیں۔آئیے! آج خواتین کے عالمی دن کی مناسبت سے ہم سب ملکر عہد کریں کہ ہم خواتیں کے حقوق کی فراہمی میں اپنا کردار ادا کرتے ہوئے اسے بااختیار بنانے کیلئے اپنی پالیسیوں میں مزید گنجائش پیدا کریں۔ وزیر اعلیٰ نے کہاکہ حکومت گلگت بلتستان کی کابینہ میں دو خواتین کو نمائندگی دی ہے۔ اس موقع پر وزیر اعلیٰ نے ”گلگت بلتستان وومن امپاورمنٹ پالیسی سٹرٹیجی اینڈ ایکشن پلان 2024-29“ کا افتتاح کیا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں