63

یوم پاکستان

یوم پاکستان
تحریر: ثوبیہ جے مقدم

یوم پاکستان پوری قوم کو مبارک ہو۔ یہ دن جنوبی ایشیا کے مسلمانوں کی تاریخ کا سنہری دن ہے۔ 84 سال قبل یہ وہ دن تھا جب برصغیر کے ہر کونے اور کونے سے مسلم رہنماؤں نے متفقہ طور پر قرارداد پاکستان منظور کی تھی۔ تاریخی شہر لاہور میں قائداعظم محمد علی جناح کی قیادت میں ہونے والے اجلاس میں یہ عزم کیا گیا کہ برصغیر کے مسلمانوں کو اپنا الگ وطن ملے گا۔ مسلم قیادت نے میٹنگ میں عہد کیا کہ وہ الگ ریاست کے قیام کیلئے کسی بھی قربانی سے دریغ نہیں کریں گے۔ مارچ 1940 میں قائداعظم محمد علی جناح کی قیادت میں شروع ہونے والی سیاسی تحریک کی تاریخ میں کوئی مثال نہیں ملتی۔ یہ محض آزادی کی تحریک نہیں تھی۔ اس تحریک کا اولین مقصد برصغیر کے مسلمانوں کے الگ قومی تشخص کو عالمی برادری کی طرف سے تسلیم کرنا اور پھر قوم کیلئے الگ وطن کا حصول تھا۔ پرامن سیاسی جدوجہد کے ذریعے علیحدہ ریاست کا قیام 20ویں صدی کا معجزہ ہے۔ یہ اللہ کے فضل اور لوگوں کی انتھک جدوجہد سے وجود میں آیا۔ اس کامیابی کا دوسرا عنصر یہ تھا کہ ہمارے پاس ایک مخلص، مضبوط، متحد اور پرعزم قیادت تھی، جس نے پختہ یقین رکھتے ہوئے تحریک پاکستان کو آگے بڑھایا اور 7 سال کے قلیل عرصے میں پاکستان حاصل کر لیا۔ آزادی اور خودمختاری حاصل کی اور اگست 1947 میں ایک الگ ریاست کے شہری بن گئے۔ ہمارا سب سے بڑا اثاثہ ہماری قیادت تھی۔ یہ ایک انتہائی دلیر، مخلص اور سرشار قیادت تھی۔ اس قیادت کا ویژن پوری قوم کی خواہشات اور امنگوں کا عکاس تھا۔ اس قیادت نے ایمان، اتحاد اور نظم و ضبط کے سنہری اصول دیے اور ان پر عمل کیا۔

اللہ کے فضل وکرم سے ہماری بہادر افواج دشمن سے موثر انداز میں نمٹنے کی بھر پور پوزیشن میں ہیں۔ ہم خطے میں امن چاہتے ہیں لیکن اپنی عزت اور وقار پر سمجھوتہ نہیں کریں گے۔ ہمارا موقف ہے کہ تمام مسائل میں کشمیر کا بنیادی مسئلہ شامل ہونا چاہیے اور اسے بات چیت کے ذریعے حل کیا جانا چاہیے۔ اللہ کے فضل و کرم سے پاکستان اپنے دفاع کی پوری صلاحیت رکھتا ہے اور اپنے خلاف کسی بھی جارحیت کو ناکام بنانے کی پوزیشن میں ہے۔ اگر کوئی اس کی طاقت کو چیلنج کرنے کی کوشش کرے گا تو اسے سبق سکھایا جائے گا۔ پاکستانی عوام ہمیشہ اپنے بہادر فوج کے ساتھ کندھے سے کندھا ملا کر کھڑی رہی ہے۔ ہم سب اپنے ملک کی سلامتی اور دفاع کے لیے مضبوط عزم اور ہمت رکھتے ہیں۔ پوری قوم قومی اتحاد اور مضبوط عزم کے جذبے سے سرشار ہے۔ مجھے یقین ہے کہ جب بھی کسی آزمائش کا سامنا کرنا پڑا اللہ تعالیٰ ہمیں کامیابی سے نوازے گا۔

پاکستان کی تعمیر نو کے لئے ہمیں ایک مخلص اور سرشار قیادت کی ضرورت ہے۔ مجھے امید ہے کہ موجودہ برسر اقتدار اتحادی قیادت ملک و قوم کیلئے اہم قدم ثابت ہوں گے اور حقیقی جمہوری نظام کو چلائیں گے۔ حکومت کا یہ اہم فرض ہے کہ وہ اپنے شہریوں کے جان و مال کو بلا تفریق تحفظ فراہم کرے۔ اس سلسلے میں، حکومت دہشت گردی میں ملوث افراد کی شناخت اور ان کے خاتمے اور اس لعنت سے نمٹنے کے لئے اپنے تمام وسائل اور طاقتیں استعمال میں لائے۔ پورے نظام کو بنیادی تبدیلیوں کی ضرورت ہے۔ سب سے پہلے ہمیں اپنی انٹیلی جنس ایجنسیوں کی کارکردگی کو بہتر کرنا ہو گا۔ ان کی ذمہ داری یہ ہے کہ وہ واقعہ کے وقوع پذیر ہونے کے بعد معلومات فراہم نہ کریں۔ ان کا کام اس طرح کے واقعے سے پہلے خبردار کرنا ہے تاکہ اسے چیک کیا جا سکے۔ دوسری بات یہ کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کارکردگی کو بہتر بنانے کے لیے انہیں جدید ترین ہتھیاروں سے لیس کرنا ہو گا۔ ان کی تربیت اور تفتیشی صلاحیتوں پر خصوصی توجہ دینا ہوگی۔ پورے نظام کو درست کرنے کے لئے عدلیہ کو کلیدی کردار ادا کرنا ہو گا۔ مجھے امید ہے کہ وہ اپنی ذمہ داریوں کا احساس کرتے ہوئے اپنی کوتاہیوں کو دور کرکے عوام کی توقعات پر پورا اتریں گے۔ حکومت کو ان تمام شعبوں میں مثبت تبدیلی لانے کے لیے سرگرم عمل ہونا ہو گا۔ غفلت اور غیر ذمہ دارانہ رویے کا مظاہرہ کرنے والے سرکاری ملازمین پر کوئی رحم نہیں کیا جائے۔ ہم صرف ایک موثر نظام اور جدید ترین ہتھیاروں کے ذریعے دہشت گردی کا خاتمہ نہیں کر سکتے جب تک کہ ہم اجتماعی طور پر تشدد اور اس میں ملوث افراد سے نفرت کا اظہار نہ کریں۔ ہمیں پاکستان کو دہشت گردی اور فرقہ واریت کی لعنت سے بچانا ہوگا، چاہے ہمیں اس کی بھاری قیمت چکانی پڑے۔

قارئین کی توجہ ایک اہم مسئلے کی طرف مبذول کرانا چاہتی ہوں: حکومت کو کھلے دل کے ساتھ تسلیم کرنا چاہیے کہ غربت کو دور کرنے اور متوسط ​​طبقے کی حالت کو بہتر بنانے کے لیے ابھی بہت کچھ کرنا ہے۔ ماضی کی غلط پالیسیوں کی وجہ سے ہمیں مشکلات کا سامنا ہے۔ معاشی خوشحالی سے ہی ملک سے غربت کا خاتمہ ممکن ہے۔ عام آدمی کی زندگی پر مثبت اثر لانے کیلئے شارٹ ٹرم اور لانگ ٹرم منصوبہ بندی جس میں ترقیاتی منصوبے، نظام زکوٰۃ کی بہتری، خوشحالی کے پروگرامز جن سے غربت کا خاتمہ ممکن ہو، نئے ڈیموں کی تعمیر خصوصاً (بونجی ڈیم)، نئی شاہراہیں اور دیگر اہمیت کے حامل منصوبوں کو جنگی بنیادوں پر شروع کرنا ہو گا، ان کی تکمیل سے ہی خوشحالی کے ایک نئے دور کا آغاز ہوگا۔ ہمیں باہمی محبت کو فروغ دینا ہوگا۔ ہمیں اپنے مسالک کے اختلافات کو اپنے اتحاد سے ہٹنے نہیں دینا چاہیے۔ ہمیں ایک دوسرے کے جذبات کا احترام کرنے کی اپنی روایات کو مدنظر رکھتے ہوئے آگے بڑھنا چاہیے۔ تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ برصغیر کے مسلمانوں نے تحریک پاکستان کے دوران ایک قوم کی حیثیت سے کام کیا تھا۔ تمام مسلم دھڑے اور گروہ اسی مقصد کے حصول کے لیے متحد رہے اور اسلام اور اسلام ہی ان کی پہچان تھی۔ اس طرح پاکستان معرض وجود میں آیا۔ مجھے پختہ یقین ہے کہ ایمان، اتحاد اور نظم و ضبط کے ذریعے ہی ہم پاکستان کی تعمیر نو کی راہ پر آگے بڑھ سکتے ہیں۔
پاکستان پائندہ باد

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں