54

دو ٹکے کے لوگ پنجاب اسمبلی میں

دو ٹکے کے لوگ پنجاب اسمبلی میں
تحریر۔روہیل اکبر
ملک کی سمت درست کرنے والوں کی اپنی سمت درست نہیں تو ملک کیسے پٹری پر چڑھے گا نہیں یقین تو قومی اسمبلی سمیت ملک کی تمام صوبائی اسمبلیوں کے اجلاس کی کاروائی دیکھ لیں ایک طرف چور چور کو شور ہوتا ہے تو دوسری طرف بھی اسی طرح کی آوازیں سنائی دیتی ہیں بعض اوقات تو یہ اسمبلیاں ایوان نمائندگان کم اور لاری اڈہ زیادہ لگتا ہے جہا ں بس کنڈیکٹر معمولی بات پر ایک دوسرے کے کپڑے پھاڑ دیتے ہیں اور جہاں گالی گلوچ معمول کی بات لگتی ہے ابھی کل کے اجلاس میں حکومت نے شور شرابے میں 42مطالبات زر منظور کرلیے جن میں سے 44کروڑ پولیس کی ٹریننگ کے لیے ہیں نہ جانے یہ پیسے لگتے کس پر اور جاتے کہاں ہے کیونکہ ہماری پولیس میں اخلاق اور اداب نام کی کوئی چیز سرے سے موجود ہی نہیں ہے جس طرح قانون ساز اسمبلیوں میں قانون کی دھجیاں آڑائی جاتی ہیں ویسے ہی ہماری پولیس کے تھانوں میں چوریاں معمول کی باتیں ہے مجال ہے کسی نے اپنا صندوق بغیر تالے اور زنجیر کے رکھا ہوں بلکہ اکثر بکسوں کے تالے توڑ کر پیٹی بھائی ایک دوسرے کا سمان چوری کرلیتے ہیں لوگوں تحفظ فراہم کرنے والے شیر جوا نوں کا اپنا سامان انکے تھانوں میں محفوظ نہیں ہے تو وہ باہر عام لوگوں کو کیسے تحفظ فراہم کرینگے سب سے پہلے تو انکی اخلاقی تربیت کی ضرورت ہے کہ وہ اپنے ہی پیٹی بھائیوں کا سامان چوری کرنے سے باز رہیں اس کے علاوہ صوبائی اسمبلی میں کیا کیا ہوا اس پر لکھنے سے پہلے ہائی کورٹ کے 6 ججز کی جانب سے لکھے گئے سنگین نوعیت کے خط کا ذکر ضروری ہے جس پر وزیر اعظم نے کمیشن بنانے کا اعلان کیا ہے یہ بھی وہی کمشین بنے گا جسکا فیصلہ نہیں آتااس سے پہلے جتنے بھی کمیشن بنے انکی رپورٹ آج تک منظر عام پر نہیں آئی اور یہ ججز کا معاملہ ہے جو خود فیصلے کرتے ہیں اس پر تو کمیشنبنانے کی ضرورت ہی نہیں تھی بلکہ پوری عدلیہ متحد ہوکر ان الزامات کی خود ہی تحقیق کرلیتی تو سب کچھ عوام کے سامنے آجانا تھا لیکن معاملہ اب کمیشن کے سپرد کردیا گیا ہے جس پر عوامی تحریک کے سیکریٹری جنرل خرم نواز گنڈا پور نے خوبصورت تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ اس ساری صورتحال پر کچھ بھی نہیں بنے گا چند دن خبروں کی زینت بنے گا شور شرابا ہوگا اور مٹی پاؤ والا عمل دھرایا جائے گا پارلیمان میں کسی بھی چیز کو ٹھیک کرنے کی نیت ہی نظر نہیں آتی ہے جبکہ منصف کی کرسی پر بیٹھ کر کسی بے گناہ کو سزا دینے کا کوئی کفارہ بھی نہیں جب سے ججز مداخلت کی بات کررہے ہیں نہ جانے کتنے بے گناہوں کو سزا سنا دی گئی ان کا کفارہ کون ادا کرے گاجو ریاست اپنی پولیس کو،دوست ملک چینی انجینئرز کو، اپنے سابق وزیر اعظم کو تحفظ نہیں دے سکتی اس ریاست پر بہت بڑا سوالیہ نشان ہے چینی انجینئرز ہماری ترقی کے لیے اپنی جان ہتھیلی پر رکھ پاکستان آئے ہم اپنے مہمانوں کو ہی تحفظ نہیں دے سکے آخر کوئی تو ان کی سیکیورٹی کا ذمہ دار تھا کیوں نہیں ان کے نام سامنے نہیں لائے گئے جبکہ ریاست پولیس کو ظلم کے لیے استعمال کرتی ہے اور نتیجتاً پولیس خود سے بھی بے گناہوں پر ظلم کرتی ہے اور کسی پولیس والے کو سزا نہیں ہوتی عوامی تحریک اپنے شہداء کے انصاف کے لیے جدوجہد کررہی ہے لیکن جس نظام میں 2014کے ماڈل ٹاؤن شہداء کو انصاف نہیں ملا اس نظام میں رہتے ہوئے آپ کیا جدوجہد کرسکتے ہیں انصاف کے لیے؟جس نظام میں ہائی کورٹ کے جج صاحبان مجبور ہوں اس نظام کا حصہ بن کر کیا کرسکتے ہیں؟آج سپریم کورٹ نے کہہ دیا کہ ذوالفقار علی بھٹو مرحوم کا ٹرائل قاعدے کے مطابق نہیں تھا تو جن ججزنے فیصلے کیے ان کی کیا سزا ہے؟ اسلام میں غلط الزم لگانے والے پر قذف کی سزا مقرر ہے لیکن یہاں غلط الزام لگا کر پرچوں پر پرچے درج کیے جارہے ہیں اور کوئی پوچھنے والا نہیں کیونکہ جنہوں نے پیٹ پھاڑ کر سڑکوں پر گھسیٹنا تھا وہ آج ایک دوسرے کو سپورٹ کررہے ہیں لیکن میڈیا ان سے پوچھنے کو تیار نہیں ہمارا معاشرہ منافق ہو چکا ہے چیف منسٹر ہاؤس کی تزئین و آرائش پر ڈھائی ارب روپے خرچ ہوسکتے ہیں اور صرف ٹائر، میچنگ میٹس کے لیے دفاقی حکومت سے پونے تین کروڑ روپے لیے جاسکتے ہیں تو دوبارہ الیکشن کے لیے پیسے کیوں نہیں ہوسکتے فارم 45 الیکشن کمیشن نے قانون کیمطابق 24 گھنٹے کے اندر کمشن کی ویب سائٹ پر لگانے تھے لیکن ایسا نہیں ہوا الیکشن میں دھاندلی کی گئی ہے الیکشن شفاف نہیں تھے اور جب الیکشن شفاف نہیں ہونگے تو معرض وجود میں آنے والی حکومت کبھی کامیاب نہیں ہوسکتی غیر جانبدار الیکشن کمیشن اور عدالیہ کی نگرانی میں شفاف الیکشن نہیں ہوتے تو پھر دس الیکشن کا بھی حاصل حالیہ الیکشن جیسا ہی ہو گا منہاج القرآن نے 276سال کے بعد پہلی مرتبہ درس نظامی کے سلیبس کو ازسر نو ترتیب دیا ہے پاکستان کو بنے 75سال گزرنے کے باوجود کسی کو اس کی توفیق کیوں نہیں ہوئی۔اب شور شرابے والی پنجاب اسمبلی کا بھی کچھ حال احوال کیونکہ اس میں عوام کے نمائندے بیٹھتے ہیں جنہوں نے عوام کی خدمت کرنی ہے لیکن فلحال ایسا ہوتا نظر نہیں آرہا گذشتہ روز پنجاب اسمبلی کے اجلاس میں اپوزیشن کے احتجاج اور شور شرابے کے دوران 3431ارب 71کروڑ 56لاکھ 66 ہزار 423 روپے مالیت کے 42مطالبات زر منظور کر لئے گئے جبکہ اپوزیشن کی کٹوتی کی سات میں سے چار تحاریک کثرت رائے سے مسترد اور تین وقت گزر جانے کے بعد گلوٹین قانون کا شکار ہو گئیں جس پراپوزیشن نے اپنی نشستوں سے کھڑے ہو کر اور اسپیکر ڈائس کا گھیراؤ کر کے شدید احتجاج کیا اورایجنڈے کی کاپیاں پھاڑ کر ہوا میں اچھالتے رہے وزیر خزانہ مجتبی شجاع الرحمن نے محکمہ آبپاشی کے لیے 30ارب 83کروڑ 76لاکھ 85ہزار سمیت پولیس کے لیے 163ارب روپے سے زائد کے مطالبات زر منظور کر لیے جن میں سے 44کروڑ پولیس کی ٹرینگ پر خرچ ہونگے جس پر سنی اتحاد کونسل کے ایم پی اے امتیاز شیخ نے کہا کہ 44کروڑ پولیس کی ٹریننگ کے لیے رکھے ہیں تو سب دل پر ہاتھ رکھ کر بتائیں کہ پولیس والے عام آدمی سے کس طرح بات کرتے ہیں بیرون ملک میں پولیس عام آدمی کو سر کہہ کر پکارتی ہے اور یہاں سر سے پگڑیاں اچھالتی ہے جب تک پولیس والے کو رشوت یا سفارش نہیں کرواتا اس وقت تک کوئی مدد نہیں کرتاپولیس کی اخلاقی ٹریننگ کہاں کی جاتی ہے ان کی وردیاں بھی تبدیل ہوں گئی ہیں لیکن ان کو تو اندر سے تبدیل نہیں کیا گیا اگر پولیس کو احرام بھی پہنا دیں تب بھی یہ رشوت لیں گے ایم پی اے ملک وحید کی گاڑی کو کالے شیشوں پر روکا جاتا ہے پھر ٹک ٹاک پروگرام کیا جاتاجس پر حکومتی رکن خلیل طاہر سندھو اور شیخ امتیاز کے درمیان بات نوک جھوک سے شروع ہوکر تلخ کلامی اور دھمکیوں سے ہوتی ہوئی بات ایوان میں بیٹھے ہوئے دو ٹکے کے افراد تک پہنچتی ہے اسی دوران اپوزیشن رہنما اعجاز شفیع بھی میدان اسمبلی میں کود پڑتے ہیں جس پر اسپیکر ملک محمد احمد خان کو بھی کہنا پڑا کہ اعجاز شفیع اپنی تلخی کم کریں اور پیار سے بات کریں۔ یہ تو ہے ہمارے ایوان نمائندگان کا حال رہی بات عوام کی اسکی سننے والا کوئی نہیں ایک طرف انکے منتخب کردہ نمائندے انہیں لفٹ نہیں کرواتے تو دوسری طرف پولیس نے انہیں آگے لگا رکھا ہے۔(تحریر۔روہیل اکبر00923004821200)

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں