62

سوشل میڈیا کی پیداوار نسل نو

سوشل میڈیا کی پیداوار نسل نو
تحریر: خالد غورغشتی

نام ور ادیب ناصر کاظمی کیا خوب موجودہ حالات کی ترجمانی کر گئے۔۔۔

کن بے دلوں میں پھینک دیا حالات نے،
آنکھوں میں جن کی نور نہ باتوں میں تازگی

آج آپ سماج میں جس سمت نظر دوڑائیں دن رات ایک کیے، ہر عمر و نسل کی لوگ سوشل میڈیا کا بے دریغ استعمال کرتے ہوئے آپ کو جگہ جگہ ملیں گے۔

دیہی علاقوں میں جب ٹیلی ویژن نیا نیا آیا تھا تو بزرگ اس کو گھروں میں لانے سے سختی سے منع کیا کرتے تھے۔ ان کے بہ قول یہ گناہوں کا ڈبہ ہے۔ جس گھر میں آگیا وہاں سے شرم وحیا لے اڑا۔ اس لیے اکثر گھر ٹی ویژن کی نحوست سے کسی حد تک پاک تھے۔

آہستہ آہستہ زمانے نے ایسی کروٹ بدلی کہ ٹیلی ویژن پچھلے زمانے کی ایجاد ہو کر رہ گیا۔ نائن الیون کے بعد سوشل میڈیا تیزی سے متعارف ہونے لگا۔ اب تو ہر ہاتھ میں سمارٹ فون ہے۔ جس پر سوشل میڈیا دیکھ دیکھ کر ہر شخص ہوس کا مارا اور خطار کار ہوچکا ہے۔

وہ نحوست، وہ عریانی جس کا ہم ٹیلی ویژن کے ذریعے تصور بھی نہیں سکتے، اب سمارٹ فون کی سکرین پر اس چیز کا نام لکھنے کی دیر ہوتی ہے چند سیکنڈ میں وہ سامنے آ جاتی ہے۔ اب تو ایسا لگتا ہے،جیسے پوری کائنات سوشل میڈیا کی ننھی منی سے مخلوق بن کر رہ گئی ہو۔ پہلے کی مائیں بچے روتے تو قصے کہانیاں سنا کر چپ کروا دیتی تھی۔ اب مائیں موبائل دے کرخاموش کرواتی ہے۔

جس کی وجہ سے سوشل میڈیا دیکھ دیکھ کر بچوں کی حالت ایسی ہو چکی ہے کہ بیان کرتے ہوئے شرم آئے۔ چھوٹے چھوٹے بچوں سے اب گھر کی عزتیں غیر محفوظ ہوچکی ہیں.

کم عمری میں بچوں کے ہاتھوں میں موبائل دینے سے وہ سست روی کا شکار ہو کر بچپن سے ہی محنت مشقت کے کاموں سے جان چھڑوانے کے عادی ہو جاتے ہیں۔ یوں وہ جوانی میں وہ مشکل کاموں سے بھاگتے ہیں۔

ہماری معاشی تنگی میں سمارٹ فون نے کلیدی کردار ادا کیا ہے۔ آج جس کے پاس کھانے کو دانے نہیں ان کے گھر بھی لاکھوں روہے مالیت کے فون ہوتے ہیں۔

کئی یورپی ممالک میں بچوں کے سوشل میڈیا ایپس استعمال کرنے پہ پابندی عائد ہے۔ سمارٹ فون ہم سے رشتے ناطے، اپنائیت اور رزق سب کچھ کھا گیا۔ آج ہم نے بچوں کے سوشل میڈیا ایپس استعمال کرنے پہ پابندیوں کا اطلاق نہ کیا تو کل اس کے مزید بھیانک نتائج ہمارے سامنے ہوں گے۔ گیمز کھیل کھیل اور سوشل میڈیا دیکھ دیکھ کر کئی بچے نفسیاتی مریض بن چکے ہیں۔ سوشل میڈیا کا سب سے بڑا وبال لیک ویڈیو اور لیک تصویر کا دھندہ ہے۔ اس کے خاتمے کےلیے اداروں کا محترک ہونا ضروری ہوچکا ہے۔ میری بہنوں آپ کو کوئی ویڈیو یا تصویر لیک کرکے بلیک میل کرے تو مت گھبرائیں۔ عزت و ذلت اس پاک ذات کے اختیار میں ہے۔ لیک کرنے والے نے جو کرنا کرنے دیں۔ آخر میں بھیانک نتائج وہ خود ہی بھگتے گا۔ والدین کو بھی چاہیے کہ وہ ایسے نازک موقع پر بچیوں کا ساتھ دیں، تاکہ کوئی بھی قیمتی جان ضائع نہ ہو۔ غلطی کسی سے بھی ہوسکتی ہے۔ اس کی سزا بلیک میل اور قتل وغارت نہیں۔ خدارا حالات کو سمجھیں، اپنی اولادوں کو اعتماد میں لے کر چلیں۔ یہاں درندے گلی گلی پھرتے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں