92

ظلم کی انتہا اور ناکام ریاست

ظلم کی انتہا یاناکام ریاست
تحریر:ارجے ایشال خان
زمانہ جاہلیت میں لوگ اپنی بیٹیوں کو زندہ دفنا دیتے تھے۔پھر اللہ نے اپنے پیارے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بھیجا اور لوگوں کو بیٹى کا مقام بتایا۔ اب پھر سے وہ زمانہ آگیا ہے اور اب ضرورت ہے آخرى امام وقت امام محمد مهدى علیہ سلام کی، انشاءاللہ۔
ظلم و زیادتی کی انتہا ہوگئی استغفراللہ۔۔۔
زینب کیس کے بعد ہی پبلک ہینگنگ کرتے تو یہ کیس اتنے نہ بڑھتے۔ اللہ کے قوانین اسی لیے ہیں کہ ظلم کی بنیاد پر کوئی معاشرہ قائم نہیں رہ سکتا۔ عوام کی آواز کو کچھ سمجھتے ہی نہیں، عدالتوں میں قاضی اپنے مسئلوں میں الجھے ہیں۔
بے خبر ہی رہنا تھا تو پتہ نہیں کیوں ان عہدوں کے بوجھ اپنے کندھوں پر اٹھا لیے ہیں۔
فیصل آباد: ٹوبہ ٹیک سنگھ میں والد کی موجودگی میں بھائی کے ہاتھوں جوان بہن کی الم ناک موت۔ ماریہ کو اس کا اپنا والد اور بھائی طویل عرصے سے حیوانیت کا نشانہ بنا رہے تھے۔ معصوم ماریہ نے ظلم سے تنگ اکر ساری حقیقت اپنی خالہ اور بھابھی کو بتادی لیکن غریب کو کیا معلوم تھا کہ اس راز کو کھولنا اس کی درد ناک موت کو آواز دے گا ۔خالہ اور بھابھی نے کارروائی کی بجائے ملزمان کو ہی چوکنا ہونے کا کہہ دیا اور پھر حقیقی بھائی اور والد نے مل کر اس بیچاری لڑکی کو گلا دبا کر مار ڈالا۔ افسوس ناک پہلو یہ رہا کہ انسانیت کی شرم ناک کردار کی ویڈیو بنانے والا مقتولہ کا دوسرا بھائی تھا اور بھابھی دروازے پر پہرہ دیتی رہی کہ کہیں کوئی اندر نہ آجائے۔ ٹوبہ ٹیک سنگھ پولیس نے ماریہ کی قبر کشائی کے بعد مقدمہ درج کرلیا ہے۔ پوسٹ مارٹم میں ماریہ کے گلے کی ہڈیاں ٹوٹی ہوئی اور جسم پر تشدد کے نشانات پائے گئے ہیں۔ملزمان کو پولیس نے حراست میں لے لیا ہے.
نجانے ہم مسلمان کس راستے پر جارہے ہیں اور قیامت سے پہلے کون کون سی قیامت کی نشانیاں دیکھنا پڑیں گی.
کوئی کتنا ہی گناہ گار کیوں نہ ہو اللّٰہ نے قتل کا حق ماں باپ کو بھی نہیں دیا، قصور وار ہونے پہ سزا کا اختیار صرف اللّٰہ کے پاس ہے۔ جو لوگ یہ کہہ رہے ہیں کہ کسی وجہ سے قتل کیا ہوگا تو اگر وجوہات پہ قتل ہونے لگیں تو انصاف کے تقاضا کے طور پہ، کیا ہم سب زندہ رہنے کے قابل ہیں؟ شکر ادا کریں، اس پہ کہ خدا نے سب کے عیب چھپائے ہوئے ہیں۔ نہیں تو آج سب چند لوگوں کے سوا سب اپنے اپنے جرائم اور غلطیوں کی پاداش میں مارے جاچکے ہوتے۔
قیامت خود بتائے گی قیامت کیوں ضروری تھی۔پاکستان میں قانون کی حکمرانی نہیں، یہ بنیادی طور پر ایک جنگل ہے۔عدلیہ خوفزدہ ہے۔ انصاف نوکریاں نہیں، سرمایہ کاری نہیں، مہنگائی عروج پر ہے، کوئی مستقبل نہیں۔
بعض اوقات یہ کہا جاتا ہے کہ انسان ایک وحشی جانور ہے، لیکن یہ بیان جانوروں کی غیر ضروری توہین ہے: جانور کبھی بھی ظلم کی اس سطح پر نہیں پہنچتے جو انسان کرتے ہیں، اور وہ اپنے ظلم میں اتنے تخلیقی نہیں ہوتے جتنے انسان ہیں!!
آئے روز جتنی بڑی تعداد میں پاکستان میں قتل کے واقعات ہو رہے ہیں۔ اگر دنیا بھر کے ملکوں کا سروے ہو تو سو فیصد یقینی ہے کہ قتل کہ جرائم میں پاکستان سہرفہرست ہو گا۔جس کی وجوہات درج ذیل ہیں۔
1: قتل کرنے کے بعد مجرم کی ضمانت میں آسانی ہوجاتی ہے ۔ 2: ملک کے کونے کونے میں اسلحہ عام ہے،
3: کمزور اور ناقص تفتیش اور قوانین
4: پھانسی کی سزا کا نہ ہونا۔
ایسے کیس پتا نہیں روز کتنے ہوتے ہیں ایک آدھ کا پتہ چلتا ہے بطور معاشرہ ہمارا جنازہ کب کا نکل چکا ہے بس ہم مان نہیں رہے۔

مسجد تو بَنا دی شَب بَھر مِیں ایماں کی حرارت والوں نے،
مَن اپنا پُرانا پاپی تھا،بَرسوں سے نمازی نہ بَن سکا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں