81

گلگت بلتستان:کم عمری کی شادی کی روک تھام، قانون سات سالوں سے التوا کا شکار کیوں؟

گلگت بلتستان:کم عمری کی شادی کی روک تھام، قانون سات سالوں سے التوا کا شکار کیوں؟
تحریر شیرین کریم
”میں نے شادی اپنی پسند سے کیا ہے مجھے کسی نے اغوا نہیں کیا میرے والد سوشل میڈیا پر اکر جھوٹ بول رہے ہیں کہ میں تیرہ سال کی ہوں میں تیرہ سال کی نہیں سولہ سال کی ہوں ”
یہ الفاظ تھے فلک نور کے،فلک نور کا تعلق گلگت کے نواحی علاقے سلطان آباد سے ہے، ششم جماعت کی طالبہ تھی فلک نور کی اغوا کے ڈیڑھ ماہ بعد اچانک سوشل میڈیا پر اسکے والد کی طرف سے بیان آیا کہ تیرہ سالہ بیٹی کو کسی نے اغوا کیا ہے وہ ٹیوشن پڑھنے گئی تھی وہاں سے گھر نہیں آئی اس واقعے کو ایک مہینہ بیس دن ہوگئے ہیں۔کچھ ہی دن بعد بیٹی کا بھی ویڈیو بیان آگیا کہ” مجھے کسی نے اغوا نہیں کیا بلکہ میں خود گئی ہوں اور میں نے اپنی پسند سے شادی کیا ہے۔”
فلک نور تیسرہ سال کی ہیں اور جس لڑکے کے ساتھ شادی رچائی وہ بھی سترہ سال کا لڑکا ہے۔نہ صرف فلک نور بلکہ ہر سال کم عمری کی شادی کے واقعات گلگت بلتستان میں رونما ہوتے ہیں۔
گلگت بلتستان ملٹیپل انڈیکیٹر کلسٹر سروے (GB-MICS) 2016-17 یونیسیف کی تکنیکی مدد سے محکمہ پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ نے حکومت گلگت بلتستان میں سروے کیا گیا جس میں کم عمری کی شادیوں کی شرح نمایاں طور پر زیادہ ہے، جو کہ 26% فیصد ہے۔ گلگت بلتستان میں 15 سال سے پہلے شادی کا تناسب 13.1 فیصد ہے اور 18 سال سے پہلے کی شادی کا تناسب گلگت بلتستان میں 43 فیصد ہے، ڈسٹرکٹ استور میں 21 فیصد,دیامر 55 فیصد،گانچھے 45 فیصد، غذر 34 فیصد،گلگت 34،ہنزہ 20 فیصد کھرمنگ 49 فیصد اور نگر34 فیصد،شگر 65 فیصد اور سکردو میں 54 فیصد ہے اسی طرح 15 سال سے 19 سال تک شادی کا تناسب 13 فیصد ہے۔جس میں ڈسٹرک استور 6 فیصد،دیامر 23، گانچھے 17 فیصد غذر 8 فیصد گلگت15 فیصد اور ہنزہ 01 فیصد،کھرمنگ 11فیصد،نگر8 فیصد،شگر16فیصد،سکردو8 فیصد ہے۔
دوسرے واقعہ میں کچھ عرصہ قبل دیامر سے تعلق رکھنے والا بارہ سالہ لڑکے کی شادی کی گئی اور سوشل میڈیا پر خوب داد وصول کی۔”لڑکے نے کہا کہ میری ماں بیمار رہتی ہے گھر میں کوئی کام کے لئے نہیں اس لئے شادی کیا ہے اور جب میں بیس سال کا ہوجاوں گا تو دوسری شادی بھی کروں گا ”۔
فلک نور کے والد نے کہا کہ میں اپنی بیٹی کو ڈاکٹر یا انجینیر بنانا چاہتا تھا مگر میری کم عمر بیٹی کو اغوا کیا گیا ہے میری بیٹی پڑھائی میں بھی بہت اچھی تھی کلاس میں ہمیشہ فرسٹ اتی تھی۔
سماجی رہنما اور جنڈر سپیشلسٹ یاسمین کریم کا کہنا ہے کہ شادی زبردستی یا باہم رضامندی ہی سے کیوں نہ ہو کم عمر بچوں کی شادی قانوناً جرم ہے اور اس جرم کو روکنے کے لئے کم عمری کے حوالے سے قانون پر عمل درامد کرنے کی ضرورت ہے تاکہ گلگت بلتستان کے لوگوں میں اگاہی پھیلے کہ اٹھارہ سال سے کم عمر بچوں کی شادی کرنے والے نکاح خواں اور شادی میں شریک سب کو سزا اور جرمانہ ہونا چاہیے کیونکہ نہ ہی لڑکا زہنی
اور جسمانی طور پر میچور ہوتا ہے اور نہ ہی لڑکی خاص کر لڑکی کو کیونکہ خاتون خود بچی ہو وہ کسی اور بچے کو جنم کیسے دے سکتی ہے۔جسمانی اور ذہنی لحاظ سے بھی ایک لڑکی اس عمل سے گزرنے کے لیے تیار نہیں ہوسکتی جو بعد میں پیچدگیوں کا باعث بنتی ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ کم عمری کی شادی اور زبردستی شادی کے ایکٹ کو سات سال ہو گئے ہیں، دس سالوں میں تین حکومتیں ائیں ہیں مگر اس پر عمل درامد نہیں ہوسکا۔
ایڈوکیٹ احسان علی کا کہنا ہے کہ پولیس کی کارکردگی ایسے واقعات میں مایوس کن ہوتی ہے ڈیڑھ مہینے بعد بھی ایک بچی پولیس سے بازیاب نہیں ہوسکتی ہم ایسے پولیس سے کیا امید رکھیں کہ وہ مجرموں کو سزا دیں گے جس کی وجہ سے ایسے واقعات میں اضافہ ہورہا اور کل بھی ایک دلخراش واقعہ رونما ہوا۔انارا نامی ایک لڑکی بیس دن سے لاپتہ تھی اور کل اچانک دریا سے لاش برامد ہوئی،جس پر بھی تحقیقات ہونی چاہیے اور کم عمری کی شادیوں کو روکنے کے لئے قانون کے تحت سزا ہوتا تو اج یہ دن دیکھنا نہ پڑتا۔
ڈاکٹر شیرین سلطان کا کہنا ہے کہ گلگت بلتستان میں کم عمری کی شادی کا رجحان اس دور جدید میں بھی ختم ہونے کا نام نہیں لے رہا، گلگت بلتستان کے دور دراز علاقوں میں جہاں تعلیم اور اگاہی کی کمی ہے وہاں سے مریض اور حاملہ خواتین مختلف پیچیدگیوں کے ساتھ اپنے علاقوں میں صحت کی سہولیات نہ ہونے کی وجہ سے گلگت شہر کے ہسپتالوں کا رخ کرتی ہیں۔کم عمر لڑکیاں جن میں تیرہ سال پندرہ سال اور زیادہ عمر کی خواتین بھی ابھی تک حاملہ ہورہی ہیں جس کی وجہ اگہی اور تعلیم کی کمی ہے۔
ہیومن رائٹس کے کوارڈینٹر اسرار الدین اسرار کے مطابق گلگت بلتستان میں کم عمری کی شادیاں ہوتی ہیں ان کو روکنے کے لئے قانون سازی 2015 میں کوشش کی گئی، مسلم لیگ ن کے دور میں جو اسے متنازعہ بناکر روکا گیا لیکن نیشنل لاء چائلڈ میرج ریسٹینٹ 1929 یہاں نافذ ہے وہ بھی عمل درامد نہیں ہوتا۔ شرعی طور پر عمر کی پابندی نہیں لہٰذا عمر کی پابندی نہیں کریں گے۔اس پر جب تک قانون سازی نہیں کی جائے گی اور عمل درامد کروانا بھی لازمی ہے اور اس حوالے سے آگاہی نہیں دی جاتی ہے یہ معاملہ نہیں روکنے والا۔جہاں کہیں اس طرح کا کیس ہو پولیس جاکر شادی کو روکے اور ان کے خلاف کارروائی کرے قانون کے مطابق 6 مہینے جیل ہوسکتی ہے،والدین نکاح خواں اور شادی کرانے والوں کے خلاف ایک لاکھ تک جرمانہ ہوسکتا ہے۔
ڈپٹی سپیکر سعدیہ دانش کا کہنا ہے کہ تیرہ سالہ کم عمر فلک نور کی شادی غیر قانونی اور غیر شرعی ہے بہت جلد ملزمان عدالت میں ہونگے۔کم عمری کی شادی کے حوالے سے وفاقی قانون گلگت بلتستان میں لاگو کیا ہے،تیرہ سال کی بچی کی کوئی مرضی نہیں ہوتی۔ہماری کوشش ہوگی کہ بچی کو جلد از جلد بازیاب کرکے والدین کے حوالے کردیا جائے گا۔
اسرار نے مزید بتایا کہ قانون پر عمل درامد نہیں ہوتا ہمارے پاس کم عمری کی شادی کے کیسسز بھی آتے ہیں اور اکثر کورٹ بھی جاتے ہیں۔کورٹ میں شرعی قانون اور لاء میں تضاد انے کی وجہ سے کم عمری کی شادیوں کو روکنے میں ناکام رہے ہیں۔گلگت بلتستان گورنمنٹ کو قانون پر عمل درامد کرنے کی ضرورت ہے امید ہے انے والے وقت میں قانون بنے گا کیونکہ اس پر بھی کام ہورہا ہے حکومت اس مسلے کو سنجیدہ لے گی تو قانون کے ساتھ اس پر عمل درامد بھی کروایا جاسکتا ہے۔
یاسمین کریم نے مزید بتایا کہ بچپن کی شادی، ایک ثقافتی عمل سے ہٹ کر، انسانی صحت اور ترقی کا معاملہ ہے۔ شادی میں محض اطمینان سے زیادہ ذمہ داریاں شامل ہوتی ہیں، ذہنی، جسمانی اور معاشی تیاری کی ضرورت ہوتی ہے۔
18 سال سے کم عمر افراد میں کامیاب شادی کے لیے ضروری پختگی کی کمی ہوتی ہے، جو ممکنہ طور پر ان کی صحت کو متاثر کر سکتی ہے۔لہذا ایسے شادیوں کو روکا جانا چائیے اور فیڈرل کے قانون کو گلگت بلتستان میں اطلاق کرکے سخت سزائیں جرمانہ اور مجرموں کو گرفتار کیا جائے آئندہ ایسے واقعات رونما ہی نہیں ہونگے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں