91

گلاف کے نام پر پراجیکٹ فراڈ ہے جس کے ٹی او آرز کرپشن کرنے کے لئے بنائے گئے ہیں ،امجد حسین ایڈووکیٹ

ششپر گلیشئر کے مسئلے پر ہم صوبائی حکومت سے بھرپور تعاون کرینگے،متاثرین کی نئی آباد کاری کیلئے وفاقی حکومت کے ساتھ ملکر موثر اور سنجیدہ اقدامات اٹھاینگے،قائدِ حزبِ اختلاف گلگت بلتستان اسمبلی
گلگت(پ۔ر) قائدِ حزبِ اختلاف گلگت بلتستان اسمبلی امجد حسین ایڈووکیٹ نے سابق وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان حافظ حفیظ الرحمٰن کے ہمراہ ششپر گلیشئر پھٹنے کی وجہ سے حسن آباد متاثرین سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ ششپر گلیشئر کے پھٹنے سے جتنے نقصانات ہوئے ہیں ان کے ازالے کے لئے ہر ممکن اقدامات اٹھائیں گے۔ بجلی کی بحالی کے لئے ہنگامی بنیادوں پر ایک میگاواٹ کا جنریٹر روانہ کردیا گیا ہے جبکہ دوسرا جنریٹر بھی روانہ کر دیا جائے گا واٹر سپلائی کے نظام کو بحال کرنے کے لئے چیف سکریٹری نے احکامات جاری کر دئے ہیں۔ وفاقی حکومت کی جانب سے دئے گئے احکامات کی روشنی میں این ایچ اے نے بروقت کام شروع کردیا ہے۔ پُل کی تعمیر کے لئے چیئرمین این ایچ اے سمیت پوری ٹیم الرٹ ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس علاقے کو آفت زدہ قرار دینے کے لئے ہر ممکن کوشش کرینگے یہاں سے متاثرین کی نئی آباد کاری کے لئے وفاقی حکومت کے ساتھ ملکر موثر اور سنجیدہ اقدامات اٹھاینگے مقامی انتظامیہ یہاں پر بننے والے حفاظتی بند مقامی کمیونٹی سے ہی بنوائے تاکہ معیاری کام ممکن ہو سکے۔ ورنہ مافیا نے غیر معیاری کام کرنا ہے جس کا رزلٹ وقت سے پہلے آئے گا۔ششپر گلیشئر کے اس اہم نوعیت کے مسئلے پر ہم صوبائی حکومت سے بھرپور تعاون کرینگے ہمیں وفاقی حکومت کی جانب سے واضح احکامات جاری ہوئے ہیں اگر صوبائی حکومت کسی مسئلے پر بے بس ہے تو ہمیں آگاہ کریں ہم اس حوالے سے بھرپور تعاون کرینگے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ششپر گلیشئر کے پھٹنے کا عمل اگر رات کو ہوتا تو جانی نقصان بھی ہو سکتا تھا مگر دن کو ہونے کی صورت میں خطرناک زون میں رہنے والے لوگ گھروں سے نکل گئے اس پوری صورتحال میں کٹھ پتلی حکومت نے اس حوالے سے کوئی الرٹ جاری نہیں کیا یا مقامی لوگوں کو دوسری جگہ منتقل کرنے کے حوالے سے وقت سے پہلے کوئی اقدامات نہیں اٹھائے گئے۔ یہ اس کٹھ پتلی حکومت کی ناہلی اور نالائقی ہے انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان میں گلاف کے نام پر فراڈ کا ایک پراجیکٹ ہے جس کے ٹی او آرز کرپشن کرنے کے لئے بنائے گئے ہیں ششپر گلیشئر کے پھٹنے کے دوران حفاظتی تدابیر پر گلاف پراجیکٹ کی طرف سے کوئی ہدایات یا سفارشات نہیں ہیں گلاف پراجیکٹ میں محض دوروں کے دوران ٹی اے ڈی اے بنا کر پیسے ہضم کرنا ہے گلگت بلتستان سے اس پراجیکٹ کو اٹھایا جائے یا اس کے ٹی او آرز بہتر بنا کر عوام کے فلاح و بہبود کے لئے استعمال میں لایا جائے قائد حزب اختلاف نے مزید کہا کہ مشکل وقت میں یہاں کے لوگوں کے ساتھ کھڑے ہیں اور ان تمام مسائل کو حل کرنے تک وفاقی حکومت سے رابطے میں رہیں گے اور ہر ممکن اقدامات اٹھاینگے۔قائد حزب اختلاف نے مزید کہا کہ ہر سال موسمیاتی تبدیلی کے پیش نظر گلگت بلتستان میں گلیشئر پھٹنے کا خطرہ ہے جس کے لئے ہم سب نے ملکر مقامی کمیونٹیز کے تعاون سے مستقل اقدامات اٹھائیں تاکہ ہمیں وقت پر اس طرح مسائل کا سامنا کرنا بہ پڑے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں