135

تنکا ڈنڈا کیسے بن گیا

تنکا ڈنڈا کیسے بن گیا
ایس ایم مرموی

آج آپکو ایک کہانی سنانی ہے جو کہ بڑی دلچسب بھی ہے اور سبق آموز بھی اسکے علاوہ آپ کو بتانا ہے کہ تنکا کیسے ڈنڈا کی شکل اختیار کر گیا ہر دورہ میں زندگی کے کسی بھی شعبے میں کوئی نئی بات، کوئی بدعت، شروع تو خلال کے تنکے ہی سے ہوتی ہے، مگر پھر اس کے پیروکار اسے بڑھا کر لمبا سا اور موٹا سا ڈنڈا بنا دیتے ہیں اور اس پر بھی مطمئن نہیں ہوتے. یہ نٸی نٸی بدعات ہر دورہ کا حصہ رہی ہیں اور اب ماشإ اللہ پورا پورا ایک دین ایجاد ہوا ہے ہر گلی کوچے میں آپکو ایک نٸ نسل مل جاۓ گی جنکی تعداد چار خلیفے اور ایک پیر پر مشتمل ہے ایک نٸے دین کی ایجاد سے اپنا اور اپنے بچوں کا پیٹ بھرتی ہے چلیں چھوڑیں اس پر پھر کبھی بات کریں گے پہلے یہ کہانی پڑھیں اور لطف لیں ۔

کہتے ہیں کہ کسی دُور اُفتادہ دیہات میں ایک معزز مہمان آیا۔ بڑی آؤ بھگت ہوئی۔ گاؤں کا گاؤں اُس کے سامنے امڑ آرہا تھا ۔ کھانے کا وقت آیا تو انواع و اقسام کی نعمتیں اُس کے سامنے دسترخوان پر لا کر ڈھیر کر دی گئیں۔ ساتھ ہی ایک لمبا سا اور موٹا سا ڈنڈا بھی لا کر رکھ دیا گیا۔ مہمان نعمتیں دیکھ کر تو خوش ہوا مگر ڈنڈا دیکھ کر ڈر گیا۔ سہمے ہوئے لہجے میں پوچھا:
’’آپ لوگ یہ ڈنڈا کس لیے لائے ہیں؟‘‘۔
میزبانوں نے کہا:
’’بس یہ ہماری روایت ہے۔ بزرگوں کے زمانے سے چلی آ رہی ہے۔ مہمان آتا ہے تو اُس کے آگے کھانے کے ساتھ ساتھ ڈنڈا بھی رکھ دیتے ہیں‘‘۔
مہمان کی تسلی نہ ہوئی۔ اُسے خوف ہوا کہ کہیں یہ تمام ضیافت کھانے کے بعد ڈنڈے سے ضیافت نہ کی جاتی ہو۔ اُس نے پھر تفتیش کی:
’’پھر بھی، اس کا کچھ تو مقصد ہوگا۔ کچھ تو استعمال ہوگا۔ آخر صرف مہمان کے آگے ہی ڈنڈا کیوں رکھا جاتا ہے؟‘‘۔
میزبانوں میں سے ایک نے کہا:
’’اے معزز مہمان ہمیں نہ مقصد معلوم ہے نہ استعمال۔ بس یہ بزرگوں سے چلی آنے والی ایک رسم ہے۔ آپ بے خطر کھانا کھائیے آپکو کچھ بھی نہیں ہوگا
مہمان نے دل میں سوچا:
’’بے خطر کیسے کھاؤں؟ خطرہ تو سامنے ہی رکھا ہوا ہے‘‘۔
پھر اس نے اعلان کردیا:
’’جب تک آپ لوگ یہ نہیں بتائیں گے کہ آپ کے یہاں بزرگوں کے زمانے سے مہمان کے دسترخوان پر ڈنڈا کیوں رکھا جاتا ہے، کیڑے کو پتھر میں رزق پہنچانے والے کی قسم میں آپ کا ایک لقمہ بھی نہیں کھاؤں گا‘‘۔
اب تو پورے گاؤں میں کھلبلی مچ گئی کہ مہمان نے کھانے سے انکار کر دیا ہے۔ گاؤں کے ایک بزرگ بلائے گئے۔ انہوں نے سارا ماجرا سنا اور دسترخوان پر رکھا ہوا ڈنڈا دیکھا تو برس پڑے:
’’ارے کم بختو! تم نے اتنا بڑا ڈنڈا لا کر رکھ دیا اِسے کم کرو۔ ہمارے بزرگ مہمان کے سامنے اتنا بڑا ڈنڈا نہیں رکھتے تھے‘‘۔
ڈنڈا فی الفور آری سے کاٹ کر دو تین فٹ کم کر دیا گیا۔ مگر مہمان پھر بھی مطمئن نہیں ہوا۔ اسے اپنے سوال کا جواب درکار تھا۔ اب ایک نسبتاً زیادہ بزرگ بلائے گئے۔ انہوں نے بھی سارا ماجرا سنا۔ انہوں نے بھی ڈنڈا ناپ کر دیکھا۔ اور انہوں نے بھی اعتراض کیا:
’’ڈنڈا اب بھی بڑا ہے۔ ہمارے بزرگ تو مہمانوں کے آگے ایک چھوٹی سی پتلی سی ڈنڈی رکھا کرتے تھے‘‘۔
مذکورہ بزرگ کے کہنے پر باقی ماندہ ڈنڈا کاٹ کر اور چھیل کر ایک چھوٹی سی ڈنڈی بنا دیا گیا۔ گو کہ اب ڈنڈے کا سائز اور جسامت خطرے سے باہر ہوگئی تھی، مگر مہمان کا تجسس برقرار رہا۔ اب تک آنے والے بزرگوں نے صرف سائز اور خطرات ہی کم کیے تھے۔ اس کا استعمال اور اس کا مقصد کوئی نہ بتا سکا تھا۔
مہمان اب بھی کھانا زہر مار کرنے پر تیار نہ ہوا۔ اب ڈھونڈ ڈھانڈ کر گاؤں کا ایک ایسا بزرگ ڈنڈا ڈولی کرکے لایا گیا جس کے سر کے بال ہی نہیں بھنویں تک سفید ہو چکی تھیں۔ محتاط سے محتاط اندازے کے مطابق بھی بزرگ کی عمر ۹۹ سال سے کم نہ ہوگی۔ سجھائی بھی کم دیتا تھا۔ جب انھیں ڈنڈے کی شکل و صورت اور اس کا سائز تفصیل سے بتایا گیا تو وہ بھڑک کر اپنی لاٹھی ڈھونڈنے لگے۔ چیخ کر بولے: ’’ارے عقل کے اندھو! ہمارے بزرگ مہمان کے سامنے ایک چھوٹی سی پیالی میں ایک ننھا منا سا تنکا رکھا کرتے تھے، تاکہ اگر مہمان کے دانتوں کی ریخوں میں گوشت کا کوئی ریزہ پھنس جائے تو وہ خلال کرکے اسے نکال باہر کرے‘‘۔
حاصل نتیجہ۔۔
زندگی کے کسی بھی شعبے میں کوئی نئی بات، کوئی بدعت، شروع تو خلال کے تنکے ہی سے ہوتی ہے، مگر پھر اس کے پیروکار اسے بڑھا کر لمبا سا اور موٹا سا ڈنڈا بنا دیتے ہیں اور اس پر بھی مطمئن نہیں ہوتے. اور بڑھتے ہی چلے جاتے ہیں اللہ ہمیں ڈنڈا اور تنکے کے فرق اور اسکے استعمال سے آگاہی عطا فرماۓ ورنہ ۔۔۔۔۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

3 تبصرے ”تنکا ڈنڈا کیسے بن گیا

  1. باپ کا بیٹے پر انوکھا مقدم !!

    ایس ایم مرموی

    کویت میں ایک بوڑھا آدمی عدالت میں داخل ہوا تا کہ اپنی شکایت (مقدمہ) قاضی کےسامنے پیش کرے-
    قاضی نےپوچھا آپ کامقدمہ کس کے خلاف ہے؟ اس نےکہا اپنے بیٹے کے خلاف۔قاضی حیران ہوا اور پوچھا کیا شکایت ہے،بوڑھے نے کہا،میں اپنے بیٹے سے اس کی استطاعت کے مطابق ماہانہ خرچہ مانگ رہا ہوں،قاضی نے کہا یہ تو آپ کا اپنے بیٹے پر ایسا حق ہے کہ جس کے دلائل سننے کی ضرورت ہی نہیں ہے
    بوڑھے نے کہا قاضی صاحب ! اس کے باوجود کہ میں مالدار ہوں اور پیسوں کا محتاج نہیں ہوں،لیکن میں چاہتا ہوں کہ اپنے بیٹے سے ماہانہ خرچہ وصول کرتا رہوں.
    قاضی حیرت میں پڑ گیا اور اس سے اس کے بیٹے کا نام اور پتہ لیکر اسے عدالت میں پیش ہونے کاحکم جاری کیا۔بیٹا عدالت میں حاضر ہوا تو قاضی نے اس سے پوچھا کیا یہ آپ کے والد ہیں؟ بیٹے نے کہا جی ہاں یہ میرے والد ہیں.
    قاضی نے کہا انہوں نے آپ کے خلاف مقدمہ دائر کیا ہے کہ آپ ان کو ماہانہ خرچہ ادا کرتے رہیں چاہے کتنا ہی معمولی کیوں نہ ہو.
    بیٹے نے حیرت سے کہا،وہ مجھ سے خرچہ کیوں مانگ رہے ہیں جبکہ وہ خود بہت مالدار ہیں اور انہیں میری مدد کی ضرورت ہی نہیں ہے.
    قاضی نے کہا یہ آپ کے والد کا تقاضا ہے اور وہ اپنے تقاضے میں آزاد اور حق بجانب ہیں۔
    بوڑھے نے کہا قاضی صاحب!اگر آپ اس کو صرف ایک دینار ماہانہ ادا کرنے کاحکم دیں تو میں خوش ہو جاؤں گا بشرطیکہ وہ یہ دینار مجھے اپنے ہاتھ سے ہر مہینے بلا تاخیر اور بلا واسطہ دیا کریے۔قاضی نے کہا بالکل ایسا ہی ہوگا یہ آپ کا حق ہے.
    پھر قاضی نےحکم جاری کیا کہ “فلان ابن فلان اپنے والد کو تاحیات ہر ماہ ایک دینار بلا تاخیر اپنے ہاتھ سے بلا واسطہ دیا کرے گا.
    کمرہ عدالت چھوڑنے سے پہلے قاضی نے بوڑھے باپ سے پوچھا کہ اگر آپ برا نہ مانیں تو مجھے بتائیں کہ آپ نے دراصل یہ مقدمہ دائر کیوں کیا تھا،جبکہ آپ مالدار ہیں اور آپ نے بہت ہی معمولی رقم کا مطالبہ کیا؟
    بوڑھے نے روتے ہوئے کہا، قاضی محترم !میں اپنے اس بیٹے کو دیکھنے کے لئے ترس رہا ہوں،اور اس کو اس کے کاموں نے اتنا مصروف کیا ہے کہ میں ایک طویل زمانے سے اس کا چہرہ نہیں دیکھ سکا ہوں جبکہ میں اپنے بیٹے کے ساتھ شدید محبت رکھتا ہوں
    اور ہر وقت میرے دل میں اس کاخیال رہتا ہے یہ مجھ سے بات تک نہیں کرتا حتیٰ کہ ٹیلیفون پر بھی
    اس مقصد کے لئے کہ میں اسے دیکھ سکوں چاہے مہینہ میں ایک دفعہ ہی سہی، میں نے یہ مقدمہ درج کیا ہے
    یہ سن کر قاضی بے ساختہ رونے لگا اور ساتھ دوسرے بھی، اور بوڑھے باپ سے کہا،اللہ کی قسم اگر آپ پہلے مجھے اس حقیقت سے اگاہ کرتے تو میں اس کو جیل بھیجتا اور کوڑے لگواتا۔ بوڑھے باپ نے مسکراتے ہوئے کہا
    “سیدی قاضی! آپ کا یہ حکم میرے دل کو بہت تکلیف دیتا،
    کاش بیٹے جانتے کہ ان کے والدین کی دلوں میں ان کی کتنی محبت ہے،اس سے پہلے کہ وقت گزر جائے۔

  2. باپ کا بیٹے پر انوکھا مقدمہ !!

    ایس ایم مرموی

    کویت میں ایک بوڑھا آدمی عدالت میں داخل ہوا تا کہ اپنی شکایت (مقدمہ) قاضی کےسامنے پیش کرے-
    قاضی نےپوچھا آپ کامقدمہ کس کے خلاف ہے؟ اس نےکہا اپنے بیٹے کے خلاف۔قاضی حیران ہوا اور پوچھا کیا شکایت ہے،بوڑھے نے کہا،میں اپنے بیٹے سے اس کی استطاعت کے مطابق ماہانہ خرچہ مانگ رہا ہوں،قاضی نے کہا یہ تو آپ کا اپنے بیٹے پر ایسا حق ہے کہ جس کے دلائل سننے کی ضرورت ہی نہیں ہے
    بوڑھے نے کہا قاضی صاحب ! اس کے باوجود کہ میں مالدار ہوں اور پیسوں کا محتاج نہیں ہوں،لیکن میں چاہتا ہوں کہ اپنے بیٹے سے ماہانہ خرچہ وصول کرتا رہوں.
    قاضی حیرت میں پڑ گیا اور اس سے اس کے بیٹے کا نام اور پتہ لیکر اسے عدالت میں پیش ہونے کاحکم جاری کیا۔بیٹا عدالت میں حاضر ہوا تو قاضی نے اس سے پوچھا کیا یہ آپ کے والد ہیں؟ بیٹے نے کہا جی ہاں یہ میرے والد ہیں.
    قاضی نے کہا انہوں نے آپ کے خلاف مقدمہ دائر کیا ہے کہ آپ ان کو ماہانہ خرچہ ادا کرتے رہیں چاہے کتنا ہی معمولی کیوں نہ ہو.
    بیٹے نے حیرت سے کہا،وہ مجھ سے خرچہ کیوں مانگ رہے ہیں جبکہ وہ خود بہت مالدار ہیں اور انہیں میری مدد کی ضرورت ہی نہیں ہے.
    قاضی نے کہا یہ آپ کے والد کا تقاضا ہے اور وہ اپنے تقاضے میں آزاد اور حق بجانب ہیں۔
    بوڑھے نے کہا قاضی صاحب!اگر آپ اس کو صرف ایک دینار ماہانہ ادا کرنے کاحکم دیں تو میں خوش ہو جاؤں گا بشرطیکہ وہ یہ دینار مجھے اپنے ہاتھ سے ہر مہینے بلا تاخیر اور بلا واسطہ دیا کریے۔قاضی نے کہا بالکل ایسا ہی ہوگا یہ آپ کا حق ہے.
    پھر قاضی نےحکم جاری کیا کہ “فلان ابن فلان اپنے والد کو تاحیات ہر ماہ ایک دینار بلا تاخیر اپنے ہاتھ سے بلا واسطہ دیا کرے گا.
    کمرہ عدالت چھوڑنے سے پہلے قاضی نے بوڑھے باپ سے پوچھا کہ اگر آپ برا نہ مانیں تو مجھے بتائیں کہ آپ نے دراصل یہ مقدمہ دائر کیوں کیا تھا،جبکہ آپ مالدار ہیں اور آپ نے بہت ہی معمولی رقم کا مطالبہ کیا؟
    بوڑھے نے روتے ہوئے کہا، قاضی محترم !میں اپنے اس بیٹے کو دیکھنے کے لئے ترس رہا ہوں،اور اس کو اس کے کاموں نے اتنا مصروف کیا ہے کہ میں ایک طویل زمانے سے اس کا چہرہ نہیں دیکھ سکا ہوں جبکہ میں اپنے بیٹے کے ساتھ شدید محبت رکھتا ہوں
    اور ہر وقت میرے دل میں اس کاخیال رہتا ہے یہ مجھ سے بات تک نہیں کرتا حتیٰ کہ ٹیلیفون پر بھی
    اس مقصد کے لئے کہ میں اسے دیکھ سکوں چاہے مہینہ میں ایک دفعہ ہی سہی، میں نے یہ مقدمہ درج کیا ہے
    یہ سن کر قاضی بے ساختہ رونے لگا اور ساتھ دوسرے بھی، اور بوڑھے باپ سے کہا،اللہ کی قسم اگر آپ پہلے مجھے اس حقیقت سے اگاہ کرتے تو میں اس کو جیل بھیجتا اور کوڑے لگواتا۔ بوڑھے باپ نے مسکراتے ہوئے کہا
    “سیدی قاضی! آپ کا یہ حکم میرے دل کو بہت تکلیف دیتا،
    کاش بیٹے جانتے کہ ان کے والدین کی دلوں میں ان کی کتنی محبت ہے،اس سے پہلے کہ وقت گزر جائے۔

  3. بے ایمانی بھی اور سینہ زوری بھی

    ایس ایم مرموی !!

    ﻛﺴﺎﻥ ﻛﻰ ﺑﻴﻮﻯ ﻧﮯ ﺟﻮ ﻣﻜﻬﻦ ﻛﺴﺎﻥ ﻛﻮ ﺗﻴﺎﺭ ﻛﺮ ﻛﮯ ﺩﻳﺎ
    ﺗﻬﺎ ﻭﻩ ﺍﺳﮯ ﻟﻴﻜﺮ ﻓﺮﻭﺧﺖ ﻛﺮﻧﮯ ﻛﻴﻠﺌﮯ ﺍﭘﻨﮯ ﮔﺎﺅﮞ ﺳﮯ
    ﺷﮩﺮ ﻛﻰ ﻃﺮﻑ ﺭﻭﺍﻧﮧ ﮨﻮ ﮔﻴﺎ،
    ﯾﮧ ﻣﻜﻬﻦ ﮔﻮﻝ ﭘﻴﮍﻭﮞ ﻛﻰ ﺷﻜﻞ ﻣﻴﮟ ﺑﻨﺎ ﮨﻮﺍ ﺗﻬﺎ ﺍﻭﺭ ﮨﺮ ﭘﻴﮍﮮ ﻛﺎ ﻭﺯﻥ ﺍﻳﮏ ﻛﻠﻮ ﺗﻬﺎ۔
    ﺷﮩﺮ ﻣﻴﮟ ﻛﺴﺎﻥ ﻧﮯ ﺍﺱ ﻣﻜﻬﻦ ﻛﻮ ﺣﺴﺐ ﻣﻌﻤﻮﻝ ﺍﻳﮏ
    ﺩﻭﻛﺎﻧﺪﺍﺭ ﻛﮯ ﮨﺎﺗﮭﻮﮞ ﻓﺮﻭﺧﺖ ﻛﻴﺎ ﺍﻭﺭ ﺩﻭﻛﺎﻧﺪﺍﺭ ﺳﮯ ﭼﺎﺋﮯ
    ﻛﻰ ﭘﺘﻰ، ﭼﻴﻨﻰ، ﺗﻴﻞ ﺍﻭﺭ ﺻﺎﺑﻦ ﻭﻏﻴﺮﻩ ﺧﺮﻳﺪ ﻛﺮ ﻭﺍﭘﺲ
    ﺍﭘﻨﮯ ﮔﺎﺅﮞ ﻛﻰ ﻃﺮﻑ ﺭﻭﺍﻧﮧ ﮨﻮ ﮔﻴﺎ . ﻛﺴﺎﻥ ﻛﮯ ﺟﺎﻧﮯ
    ﺑﻌﺪ …… ﺩﻭﻛﺎﻧﺪﺍﺭ ﻧﮯ ﻣﻜﻬﻦ ﻛﻮ ﻓﺮﻳﺰﺭ ﻣﻴﮟ ﺭﻛﻬﻨﺎ ﺷﺮﻭﻉ
    ﻛﻴﺎ .… ﺍﺳﮯ ﺧﻴﺎﻝ ﮔﺰﺭﺍ ﻛﻴﻮﮞ ﻧﮧ ﺍﻳﮏ ﭘﻴﮍﮮ ﻛﺎ ﻭﺯﻥ ﻛﻴﺎ ﺟﺎﺋﮯ .
    ﻭﺯﻥ ﻛﺮﻧﮯ ﭘﺮ ﭘﻴﮍﺍ 900 ﮔﺮﺍﻡ ﻛﺎ ﻧﻜﻼ، ﺣﻴﺮﺕ ﻭ
    ﺻﺪﻣﮯ ﺳﮯ ﺩﻭﻛﺎﻧﺪﺍﺭ ﻧﮯ ﺳﺎﺭﮮ ﭘﻴﮍﮮ ﺍﻳﮏ ﺍﻳﮏ ﻛﺮ ﻛﮯ
    ﺗﻮﻝ ﮈﺍﻟﮯ ﻣﮕﺮ ﻛﺴﺎﻥ ﻛﮯ ﻻﺋﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﺳﺐ ﭘﻴﮍﻭﮞ ﻛﺎ ﻭﺯﻥ
    ﺍﻳﮏ ﺟﻴﺴﺎ ﺍﻭﺭ 900 – 900 ﮔﺮﺍﻡ ﮨﻰ ﺗﻬﺎ۔
    ﺍﮔﻠﮯ ﮨﻔﺘﮯ
    ﻛﺴﺎﻥ ﺣﺴﺐ ﺳﺎﺑﻖ ﻣﻜﻬﻦ ﻟﻴﻜﺮ ﺟﻴﺴﮯ ﮨﻰ ﺩﻭﻛﺎﻥ ﻛﮯ
    ﺗﻬﮍﮮ ﭘﺮ ﭼﮍﻫﺎ، ﺩﻭﻛﺎﻧﺪﺍﺭ ﻧﮯ ﻛﺴﺎﻥ ﻛﻮ ﭼﻼﺗﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﻛﮩﺎ
    ﮐﮧ ﻭﻩ ﺩﻓﻊ ﮨﻮ ﺟﺎﺋﮯ،
    ﻛﺴﻰ ﺑﮯ ﺍﻳﻤﺎﻥ ﺍﻭﺭ ﺩﻫﻮﻛﮯ ﺑﺎﺯ ﺷﺨﺺ ﺳﮯ ﻛﺎﺭﻭﺑﺎﺭ ﻛﺮﻧﺎ ﺍﺳﻜﺎ ﺩﺳﺘﻮﺭ ﻧﮩﻴﮟ ﮨﮯ .
    900 ﮔﺮﺍﻡ ﻣﻜﻬﻦ ﻛﻮ ﭘﻮﺭﺍ ﺍﯾﮏ ﻛﻠﻮ ﮔﺮﺍﻡ ﻛﮩﮧ ﻛﺮ ﺑﻴﭽﻨﮯ ﻭﺍﻟﮯ
    ﺷﺨﺺ ﻛﻰ ﻭﻩ ﺷﻜﻞ ﺩﻳﻜﻬﻨﺎ ﺑﻬﻰ ﮔﻮﺍﺭﺍ ﻧﮩﻴﮟ ﻛﺮﺗﺎ
    ﻛﺴﺎﻥ ﻧﮯ ﻳﺎﺳﻴﺖ ﺍﻭﺭ ﺍﻓﺴﺮﺩﮔﻰ ﺳﮯ ﺩﻭﻛﺎﻧﺪﺍﺭ ﺳﮯ ﻛﮩﺎ :
    “ ﻣﻴﺮﮮ ﺑﻬﺎﺋﻰ ﻣﺠﮫ ﺳﮯ ﺑﺪ ﻇﻦ ﻧﮧ ﮨﻮ ﮨﻢ ﺗﻮ ﻏﺮﻳﺐ ﺍﻭﺭ ﺑﮯ ﭼﺎﺭﮮ ﻟﻮﮒ ﮨﻴﮟ،
    ﮨﻤﺎﺭﮮ ﭘﺎﺱ ﺗﻮﻟﻨﮯ ﻛﻴﻠﺌﮯ ﺑﺎﭦ ﺧﺮﻳﺪﻧﮯ
    ﻛﻰ ﺍﺳﺘﻄﺎﻋﺖ ﻛﮩﺎﮞ .
    ﺁﭖ ﺳﮯ ﺟﻮ ﺍﻳﮏ ﻛﻴﻠﻮ ﭼﻴﻨﻰ ﻟﻴﻜﺮ
    ﺟﺎﺗﺎ ﮨﻮﮞ ﺍﺳﮯ ﺗﺮﺍﺯﻭ ﻛﮯ ﺍﻳﮏ ﭘﻠﮍﮮ ﻣﻴﮟ ﺭﮐﮫ ﻛﺮ ﺩﻭﺳﺮﮮ
    ﭘﻠﮍﮮ ﻣﻴﮟ ﺍﺗﻨﮯ ﻭﺯﻥ ﻛﺎ ﻣﻜﻬﻦ ﺗﻮﻝ ﻛﺮ ﻟﮯ ﺁﺗﺎ ﮨﻮﮞ .
    ﺍﺱ ﺗﺤﺮﯾﺮ ﮐﻮ ﭘﮍﮬﻨﮯ ﮐﮧ ﺑﻌﺪ ﺁﭖ ﮐﯿﺎ ﻣﺤﺴﻮﺱ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﯿﮟ۔
    ﮐﺴﯽ ﭘﺮ ﺍﻧﮕﻠﯽ ﺍﭨﮭﺎﻧﮯ ﺳﮯ ﭘﮩﻠﮯ ﮐﯿﺎ ﮨﻢ ﭘﮩﻠﮯ ﺍﭘﻨﮯ ﮔﺮﯾﺒﺎﻥ
    ﭼﯿﮏ ﻧﮧ ﮐﺮﻟﯿﮟ۔ ﮐﮩﯿﮟ ﯾﮧ ﺧﺮﺍﺑﯽ ﮨﻤﺎﺭﮮ ﺍﻧﺪﺭ ﺗﻮ ﻧﮩﯿﮟ ؟
    ﮐﯿﻮﻧﮑﮧ ﺍﭘﻨﯽ ﺍﺻﻼﺡ ﮐﺮﻧﺎ ﻣﺸﮑﻞ ﺗﺮﯾﻦ ﮐﺎﻡ ﮨﮯ۔۔

اپنا تبصرہ بھیجیں