75

خواتین کا عالمی دن

خواتین کا عالمی دن
(تحریر: ثوبیہ جے مقدم)

یہ دن ایک مزدور تحریک کے طور پر شروع ہوا تھا اور اب یہ اقوام متحدہ کی جانب سے تسلیم شدہ ایک سالانہ دن ہے۔ اس دن کا آغاز 1908 میں نیویارک شہر سے ہوا جب 15000 خواتین نے کم گھنٹے کام، بہتر تنخواہوں اور ووٹ کے حق کے لیے مارچ کیا۔ ایک سال بعد، سوشلسٹ پارٹی آف امریکہ نے خواتین کے پہلے قومی دن کا اعلان کیا تاہم اسے بین الاقوامی بنانے کا خیال سب سے پہلے کلارا زیٹکن نامی خاتون کے ذہن میں آیا جو کہ ایک کمیونسٹ اور خواتین کے حقوق کی کارکن تھیں۔ انھوں نے 1910 میں کوپن ہیگن میں انٹرنیشنل کانفرنس آف ورکنگ ویمن میں یہ خیال پیش کیا۔ وہاں 17 ممالک سے 100 خواتین موجود تھیں جنھوں نے متفقہ طور پر اس کی تائید کی۔ یہ پہلی مرتبہ آسٹریا، ڈنمارک، جرمنی اور سوئٹزرلینڈ میں 1911 میں منایا گیا۔ اس کی صد سالہ تقریب 2011 میں منائی گئی۔ لہذا، تکنیکی طور پر اس سال ہم خواتین کا 113 واں عالمی دن منانے جا رہے ہیں۔ خواتین کے عالمی دن کو باقاعدہ طور پر 1975 میں تسلیم کیا گیا جب اقوام متحدہ نے بھی اسے منانا شروع کیا۔ اس کے لیے پہلی تھیم اقوام متحدہ نے 1996 میں چنا، جس کا نام ‘ماضی کا جشن اور مستقبل کی منصوبہ بندی’ تھا۔ آج خواتین کا عالمی دن معاشرے، سیاست اور معاشی میدان میں خواتین کی ترقی کو منانے کا دن بن گیا ہے جبکہ اس کے پیچھے سیاسی جڑوں کا مقصد عورتوں اور مردوں کے درمیان عدم مساوات کے بارے میں بیداری پھیلانا ہے، جو اب بھی ہڑتالوں اور مظاہروں کا انعقاد کر کے جاری ہے۔
کلارا نے خواتین کے عالمی دن کے لیے کوئی خاص تاریخ منتخب نہیں کی تھی۔ یہ تاریخ 1917 تک متعین بھی نہیں ہوئی تھی جب پہلی عالمی جنگ کے دوران روسی خواتین نے ‘روٹی اور امن‘ کے مطالبات کے ساتھ ہڑتال کر دی اور چار دن کے بعد روسی سربراہ کو حکومت چھوڑنی پڑی اور خواتین کو ووٹ کا عبوری حق مل گیا۔ جس دن روس میں خواتین کی ہڑتال شروع ہوئی تھی وہ جولیئن کیلنڈر میں 23 فروری تھی جو موجودہ کیلنڈر میں 8 مارچ ہے اور اسی لیے یہ آج کی تاریخ کو منایا جاتا ہے۔
عالمی یومِ خواتین کے رنگوں میں جامنی، ہرا اور سفید شامل ہیں۔ جامنی رنگ انصاف اور وقار کی علامت ہے۔ ہرا رنگ امید ظاہر کرتا ہے۔ سفید پاکیزگی کے لیے رکھا گیا ہے تاہم یہ قدرے متنازع ہے۔ یہ رنگ برطانیہ میں 1908 میں ویمنز سوشل این پولیٹیکل یونین سے نکلے ہیں۔
خواتین کا عالمی دن کئی ممالک میں قومی تعطیل کا دن ہے، بشمول روس کے جہاں 8 مارچ کے آس پاس تین چار دنوں میں پھولوں کی فروخت دگنی ہو جاتی ہے۔ چین میں حکومت کی جانب سے خواتین کو آدھے دن کی چھٹی دی جاتی ہے مگر بہت سی کمپنیاں یہ چھٹی اپنے ملازموں کو نہیں دیتیں۔ اٹلی میں اس دن مموسا بلوسمز پھول دیے جاتے ہیں۔ اس روایات کا آغاز کیسے ہوا یہ تو کسی کو معلوم نہیں مگر کہا جاتا ہے کہ یہ روم میں دوسری عالمی جنگ کے بعد شروع ہوا۔ امریکہ میں مارچ کا مہینہ تاریخِ نسواں کے مہینے کے طور پر منایا جاتا ہے۔ اس حوالے سے ایک صدارتی اعلان بھی کیا جاتا ہے جس میں سال بھر کی خواتین کی کامیابیوں کو اعزاز دیا جاتا ہے۔
خواتین کے عالمی دن کے موقع پر ہم دنیا بھر اور گلگت-بلتستان کے ہر گوشے میں اور زندگی کے ہر شعبے میں خواتین اور لڑکیوں کی کامیابیوں پر خوشی اور مسرت کا اظہار کرتے ہیں۔ لیکن ہم یہ بھی مانتے ہیں کہ انہیں لاتعداد رکاوٹیں درپیش ہیں۔ نظام کی وجہ سے ہونے والی ناانصافیاں ہوں یا تشدد، معاشرے میں محرومی کا احساس ہو یا اپنی ذات اور اپنی زندگی سے متعلق حقوق سے محرومی، مشکلات در مشکلات کا ایک سلسلہ ہے جو خواتین اور لڑکیوں کو سب سے پہلے اور سب سے زیادہ اپنی لپیٹ میں لیتا ہے۔ خواتین ہوں یا لڑکیاں، مرد ہوں یا لڑکے، صنفی امتیاز و تفریق ہر فرد کو نقصان پہنچاتا ہے۔
خواتین کا عالمی دن دراصل میدانِ عمل میں اترنے کا دن ہے۔ اُن خواتین کا ساتھ دینے کے لئے، جو اپنا سب کچھ قربان کر کے اپنے بنیادی حقوق کا مطالبہ کر رہی ہیں۔ جنسی استحصال، بدسلوکی اور زیادتی سے تحفظ کو مضبوط سے مضبوط تر بنانے، زندگی کے ہر شعبے میں خواتین کی بھرپور شمولیت یقینی بنانے اور انہیں قیادت کے منصب تک لانے کے لئے میدانِ عمل میں اترنے کا دن ہے۔ ٹیکنالوجی کی بدولت خواتین اور لڑکیوں کے لئے تعلیم اور مواقع کی ان گنت راہیں کھل سکتی ہیں۔ لیکن دوسری جانب اسے بدسلوکی اور نفرت پھیلانے کے لئے بھی استعمال کیا جا سکتا ہے۔ آج کے دور میں سائنس، ٹیکنالوجی، انجینئرنگ اور ریاضی کے شعبوں سے وابستہ افراد میں خواتین کا تناسب ایک تہائی سے بھی کم ہے۔ نئی ٹیکنالوجیز کی دریافت اور ترقی میں جب خواتین کی نمائندگی کم ہو گی تو یہ کہنا بے جا نہ ہو گا کہ امتیاز و تفریق کی بنیاد ابتداء میں ہی رکھ دی جاتی ہے۔ اس لئے ہمیں ڈیجیٹل تقسیم کو ختم کرنا ہوگا اور سائنس و ٹیکنالوجی کے میدان میں خواتین کی نمائندگی کو بڑھانا ہو گا۔
خواتین کی بہتری پر سرمایہ لگانے میں ہر فرد، ہر کمیونٹی اور ہر ملک کی بہتری ہے۔ آپ حکومت میں ہوں یا نجی شعبے میں، یا سول سوسائٹی کا حصہ ہوں، آئیں ہم سب ایک ہو کر قدم بڑھائیں اور گلگت-بلتستان کو خواتین، لڑکیوں، مردوں اور لڑکوں کے لئے زیادہ خوشحال بنائیں، ہر جگہ ہر فرد کو اس کا حصہ بنائیں اور سب کے لئے انصاف کو یقینی بنائیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں